اسلام نے شادی کو ایک مقدّس عبادت اور سماجی معاہدہ قرار دیا ہے۔ دورِ نبوت میں نکاح کی تقریب نہایت سادہ، بامقصد اور برکتوں سے بھرپور ہوا کرتی تھی۔ نہ وہاں نمود و نمائش کا شوق تھا، نہ ہی فضول رسومات کا بوجھ۔ نکاح ایک مسجد یا سادہ مقام پر چند گواہوں کی موجودگی میں انجام پاتا، خطبۂ نکاح پڑھا جاتا، مہر مقرر کیا جاتا اور اس کے بعد ایک سادہ ولیمہ کے ذریعے خوشی کا اظہار کیا جاتا۔ اس پورے عمل میں نہ کوئی غیر ضروری رسم تھی اور نہ ہی کسی قسم کی مالی یا جسمانی مشقت۔ اصل توجہ اس بات پر ہوتی تھی کہ دو افراد ایک پاکیزہ رشتے میں بندھ کر ایک نئی زندگی کا آغاز کریں۔اپنے اس وادیٔ کشمیر کے مسلم معاشرے میں بھی ایک زمانہ ایسا گزرا ہے جب شادی بیاہ نہایت سادگی، وقار اور اعتدال کے ساتھ انجام پاتے تھے۔ ہمارے یہاںنہ تو طویل رسومات کا بوجھ تھا اور نہ ہی بے جا نمود و نمائش کا رجحان۔ نکاح عموماً گھر میں سادگی سے انجام پاتا، چند قریبی عزیز و اقارب شریک ہوتے، مہر مقرر کیا جاتا اور اس کے بعد لڑکی والوں کے گھرمیںایک مختصر اور سادہ تقریب مسند نشینی اور لڑکے والوں کے گھر میںولیمہ کر دیا جاتا۔ اس سارے عمل میں اخلاص، محبت اور برکت کو اصل اہمیت حاصل ہوتی تھی۔ اکثر یہ بھی دیکھنے میں آتا تھا کہ والدین اپنی حیثیت کے مطابق سادہ انداز میں بیٹی کو رخصت کر دیتے تھے اور اسے باعثِ عزّت و وقار سمجھا جاتا تھا۔ نہ کسی کے لئے قرض لینے کی نوبت آتی تھی اور نہ ہی شادی ایک معاشی بوجھ بنتی تھی۔لیکن افسوس کہ آج کا ہمارا مسلم معاشرہ اس سادہ اور بابرکت نظام سے بہت دور جا چکا ہے۔ شادی کو ایک مشکل ترین مرحلہ بنا دیا گیا ہے۔ رشتہ طے ہونے سے لے کر رخصتی تک ہر قدم پر ایسی رسومات شامل کر دی گئی ہیں جن کا نہ دین سے کوئی تعلق ہے اور نہ ہی عقلِ سلیم سے۔ ہر رسم میں وقت، دولت اور توانائی کا ضیاع ہوتا ہے اور یہ رسمیں نہ صرف اسلامی تعلیمات سے متصادم ہیں بلکہ اخلاقی انحطاط کا بھی باعث بنتے ہیں۔ ان رسومات میں سے اکثر کا تعلق مشرکانہ تہذیب سے ہوتا ہے۔ یوں ہمارے معاشرے میں ایک ایسا مرکب کلچر وجود میں آ گیا ہے جو نہ مکمل طور پر مشرقی ہے اور نہ ہی اسلامی بلکہ جوایک بے سمت اور غیر متوازن طرزِ زندگی کی عکاس ہوتا ہے۔جس کا سب سے زیادہ اثر ہمارے معاشرے کے متوسط اور غریب طبقے پر پڑتا ہے، جو پہلے ہی محدود وسائل کے ساتھ زندگی گزار رہے ہوتے ہیں۔معاشرتی دباؤ اور رسم و رواج کی پابندی انہیں مجبور کر دیتی ہے کہ وہ اپنی بساط سے بڑھ کر اخراجات کریں، تاکہ معاشرے میں سبکی یا تنقید کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ یوں شادی جیسی آسان اور بابرکت سنّت ایک مشکل اور بوجھل مرحلہ بن جاتی ہے۔ ان غیر ضروری اخراجات اور رسومات کا ایک سنگین نتیجہ تاخیرِ نکاح کی صورت میں بھی سامنے آتا ہے۔ جب شادی کو حد سے زیادہ مہنگا اور پیچیدہ بنا دیا جائے تو بہت سے نوجوان صرف مالی مسائل کی وجہ سے نکاح کو مؤخر کرتے رہتے ہیں۔ اس تاخیر کے نتیجے میں نہ صرف ذہنی و جذباتی مسائل جنم لیتے ہیں بلکہ معاشرتی بے راہ روی اور اخلاقی بگاڑ کے امکانات بھی بڑھ جاتے ہیں۔ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم دورِ نبوت کے سادہ اور بابرکت طریقۂ نکاح کو اپنا نمونہ بنائیں۔ شادی کو آسان بنائیں، فضول رسومات سے اجتناب کریں اور اسے ایک بوجھ کے بجائے ایک خوشگوار اور بابرکت عمل بنائیں۔ والدین اور معاشرے کے ذمّہ دار افراد کو چاہیے کہ وہ نوجوانوں کی رہنمائی کریں اور انہیں اس بات کا شعور دیں کہ اصل خوشی سادگی، اخلاص اور برکت میں ہے، نہ کہ نمود و نمائش اور فضول خرچی میں۔ان مسائل کے حل کے لیے ضروری ہے کہ معاشرے میں اجتماعی اور شعوری سطح پر اصلاحی کوششیں کی جائیںاوروقت کا بھی تقاضا ہے کہ ہم اپنی تہذیب، اپنی اقدار اور اپنے دین کی طرف رجوع کریں اور ایک ایسا معاشرہ تشکیل دیں جو سادگی، پاکیزگی اور اعتدال کا مظہر ہو۔