غلام نبی رینہ
قدرتی حسن، تہذیبی روایات اور روحانی اقدار کی سرزمین کشمیر آج ایک ایسے خاموش بحران سے دوچار ہے جو نہ صرف نوجوان نسل بلکہ پورے معاشرے کے مستقبل کے لیے سنگین خطرہ بنتا جا رہا ہے۔ یہ بحران منشیات کے بڑھتے ہوئے استعمال کا ہے، جس نے گزشتہ چند برسوں کے دوران وادی کے مختلف علاقوں میں تشویش ناک حد تک اپنی جڑیں مضبوط کی ہیں۔اگرچہ ماضی میں بھی منشیات کے استعمال کے چند واقعات سامنے آتے رہے ہیں، تاہم ماہرین، سماجی کارکنان اور بحالی مراکز سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ حالیہ برسوں میں صورتحال میں نمایاں تبدیلی آئی ہے۔ اب یہ مسئلہ چند مخصوص علاقوں یا طبقوں تک محدود نہیں رہا بلکہ شہری اور دیہی دونوں خطوں میں اس کے اثرات محسوس کیے جا رہے ہیں۔وادی کے مختلف اضلاع بشمول سرینگر، بارہمولہ، اننت ناگ، پلوامہ، شوپیان، کولگام، بانڈی پورہ اور کپواڑہ میں نوجوانوں کے منشیات کی طرف مائل ہونے کے واقعات نے والدین، اساتذہ اور سماجی حلقوں میں تشویش پیدا کر دی ہے۔ اگر اس رجحان پر بروقت قابو نہ پایا گیا تو آنے والے برسوں میں اس کے نتائج مزید سنگین ہو سکتے ہیں۔بقول ِ مبصرین منشیات کا مسئلہ محض صحت کا مسئلہ نہیں بلک ایک سماجی، معاشی اور نفسیاتی بحران بھی ہے۔ ایک نوجوان جب نشے کی لت کا شکار ہوتا ہے تو اس کے اثرات اُس فرد تک محدود نہیں رہتے بلکہ خاندان، تعلیمی ماحول اور معاشرہ کواس کے نتائج بھگتنے پڑتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق منشیات کی لت میں مبتلا ہونے والے نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد ابتدائی طور پر تجسس، دوستوں کے دباؤ یا وقتی ذہنی سکون کی تلاش میں اس راستے کا انتخاب کرتی ہے،پھر چند ہی مہینوں میں صورتحال ایسی شکل اختیار کر لیتی ہے جہاں واپسی کا سفر انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔چنانچہ کشمیر میں بڑھتی بے روزگاری، غیر یقینی صورتحال، مسابقتی دباؤ، خاندانی تنازعات اور ذہنی صحت سے متعلق مسائل بھی نوجوانوں کو بُرے عادات کی طرف دھکیلنے والے عوامل میں شامل ہیں۔ کئی نوجوان اپنی پریشانیوں سے عارضی نجات حاصل کرنے کی کوشش میں نشے کا سہارا لیتے ہیں، مگر بعد میں یہی سہارا ان کی زندگی کے لیے بڑا خطرہ بن جاتا ہے۔تعلیمی شعبے سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ منشیات کا بڑھتا رجحان طلبہ کی تعلیمی کارکردگی پر منفی اثر ڈال رہا ہے۔ کئی تعلیمی اداروں میں ایسے واقعات سامنے آئے ہیں جہاں ذہین اور باصلاحیت طلبہ نشے کی وجہ سے اپنی تعلیم اُدھوری چھوڑتے ہیں یا امتحانات میں ناکامی کا سامنا کررہے ہیں۔
ایک سینئر استاد کے مطابق نوجوانوں کی توجہ تعلیم، کھیل اور مثبت سرگرمیوں سے ہٹ کر غیر صحت مند رجحانات کی طرف منتقل ہونا مستقبل کے لیے ایک خطرناک اشارہ ہے۔ اس لئے تعلیمی اداروں میں بیداری پروگراموں اور کونسلنگ سیشنز کو مزید مؤثر بنانے کی ضرورت ہے۔والدین بھی اس صورتحال سے شدید متاثر ہو رہے ہیں۔ ایسے متعدد خاندان موجود ہیں جہاں نوجوانوں کے نشے کی لت نے گھریلو سکون کو غارت کردیا ہے۔ بعض معاملات میں معاشی مشکلات پیدا ہوئیں جبکہ کئی خاندان نفسیاتی دباؤ اور سماجی مسائل کا شکار ہوئے ہیں۔سماجی کارکنان کے مطابق منشیات کے استعمال سے جڑے کئی واقعات میں والدین کو ابتدا میں صورتحال کا اندازہ ہی نہیں ہو پاتا۔ نوجوانوں کے رویوں میں آنے والی تبدیلی، تعلیمی سرگرمیوں سے دوری، غیر معمولی اخراجات، تنہائی پسندی اور مزاج میں اچانک تبدیلی جیسی علامات اکثر نظر انداز کر دی جاتی ہیں، جس کے باعث مسئلہ مزید پیچیدہ ہو جاتا ہے۔کشمیر کے دیہی علاقوں میں بھی منشیات کے بڑھتے استعمال نے تشویش پیدا کی ہے۔ ایک وقت تھا جب دیہات کو شہری مسائل سے نسبتاً محفوظ تصور کیا جاتا تھا، مگر اب متعدد دیہی علاقوں سے بھی ایسے واقعات رپورٹ ہو رہے ہیں جو اس رجحان کے پھیلاؤ کی عکاسی کرتے ہیں۔ منشیات فروش اکثر ایسے نوجوانوں کو نشانہ بناتے ہیں جو ذہنی دباؤ، سماجی مسائل یا بے روزگاری کا شکار ہوں۔ ابتدا میں انہیں مختلف طریقوں سے راغب کیا جاتا ہے اور بعد میں وہ اس دلدل میں پھنس جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ منشیات کے خلاف کارروائیوں کے ساتھ ساتھ احتیاطی اور آگاہی اقدامات بھی ناگزیر ہیں۔
ایک اور تشویش ناک پہلو خواتین اور نوجوان لڑکیوں میں منشیات کے استعمال کارجحان ہے۔ ماہرین کے مطابق اگرچہ ایسے معاملات کی تعداد نسبتاً کم ہے، تاہم ان میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ سماجی بدنامی اور خاندانی خدشات کے باعث اکثر متاثرہ افراد بروقت علاج حاصل نہیں کر پاتے، جس سے صورتحال پیچیدہ ہو جاتی ہے۔ماہرین نفسیات کے مطابق ذہنی صحت کے مسائل اور منشیات کے استعمال کے درمیان گہرا تعلق پایا جاتا ہے۔ ڈپریشن، اضطراب، تنہائی اور مایوسی جیسے مسائل نوجوانوں کو خطرناک راستوں کی طرف دھکیل سکتے ہیں۔ اسی لیے ذہنی صحت کی سہولیات کو مضبوط بنانا وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے۔کھیلوں کے ماہرین اور نوجوانوں کے ساتھ کام کرنے والی تنظیموں کا کہنا ہے کہ مثبت سرگرمیوں کی کمی بھی ایک اہم مسئلہ ہے۔ ان کے مطابق نوجوانوں کو کھیل، ثقافتی سرگرمیوں، فنی تربیت اور روزگار کے مواقع فراہم کرکے انہیں منفی رجحانات سے دور رکھا جا سکتا ہے۔قانون نافذ کرنے والے ادارے بھی منشیات کے نیٹ ورکس کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ منشیات فروشوں کے خلاف مقدمات درج کیے جا رہے ہیں اور غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف مہمات چلائی جا رہی ہیں۔ تاہم ماہرین کا ماننا ہے کہ صرف قانونی کارروائیاں اس مسئلے کا مکمل حل نہیں ہو سکتیں۔ان کے مطابق اس جنگ میں معاشرے کے تمام طبقات کو شریک ہونا ہوگا۔ والدین کو اپنے بچوں کے ساتھ زیادہ وقت گزارنا ہوگا، اساتذہ کو طلبہ کی نفسیاتی کیفیت پر توجہ دینی ہوگی، مذہبی اور سماجی رہنماؤں کو آگاہی مہمات میں فعال کردار ادا کرنا ہوگا جبکہ سرکاری اداروں کو بحالی اور روک تھام کے نظام کو مزید مضبوط بنانا ہوگا۔
بے شک منشیات کی لت ایک قابل علاج بیماری ہے اور بروقت علاج سے متاثرہ افراد معمول کی زندگی کی طرف واپس لوٹ سکتے ہیں۔ وادی میں ایسے کئی نوجوان موجود ہیں جنہوں نے علاج مکمل کرنے کے بعد دوبارہ تعلیم حاصل کی، روزگار اختیار کیا اور معاشرے کا مثبت حصہ بننے میں کامیاب ہوئے۔یہ مثالیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ اگر مناسب طبی سہولیات، خاندانی تعاون اور سماجی قبولیت میسر ہو تو بحالی ممکن ہے۔ تاہم اس کے لیے ضروری ہے کہ متاثرہ افراد کو مجرم یا ناکام انسان سمجھنے کے بجائے ایک مریض کے طور پر دیکھا جائے، جسے مدد اور رہنمائی کی ضرورت ہے۔ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ منشیات کے خلاف جنگ صرف اداروں کی ذمہ داری نہیں بلکہ ایک اجتماعی مشن ہے۔ اس کے لیے گھر، اسکول، کالج، مذہبی مراکز، سماجی تنظیمیں اور سرکاری ادارے سب کو مشترکہ حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی۔
کشمیر آج ایک ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں نوجوان نسل کا تحفظ سب سے بڑی ترجیح ہونا چاہیے۔ اگر بروقت اور مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو منشیات کا یہ بحران مستقبل میں مزید گہرے سماجی اور معاشی مسائل کو جنم دے سکتا ہے۔ تاہم اگر پوری سنجیدگی کے ساتھ اس چیلنج کا مقابلہ کیا جائے تو نوجوانوں کو اس دلدل سے بچانا اور انہیں ایک محفوظ، صحت مند اور روشن مستقبل فراہم کرنا اب بھی ممکن ہے۔