راقف مخدومی
حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ مسلمانوں کے تیسرے خلیفہ تھے۔ ان کی پیدائش 573/576عیسوی میں حجاز، عرب میں ہوئی۔ حضرت عثمانؓ کا خلافت کا دور 12 سال پر محیط تھا۔ یہ 644 سے 656 عیسوی تک رہا۔آپؓ کا دور سب سے لمبا دورِ خلافت تھا،جو 656 میں اُن کی شہادت پر ختم ہوا۔
ایک یہودی فارسی غلام عبداللہ ابن سبا، نے حضرت عثمانؓ کے قتل میں اہم کردار ادا کیا۔ اُس نے اسلام کا لبادہ اوڑھ کر لوگوں کو حضرت عثمانؓ کے خلاف بغاوت پر اُکسایا اور آخر کار ان کی شہادت کروائی۔ حضرت علیؓ نے ابن سبا کو زندہ جلا دیا، کیونکہ وہ یہ افواہ پھیلا رہا تھا کہ ’’حضرت علی ؓ کو پہلا خلیفہ ہونا چاہیے تھا۔‘‘ مگر حضرت علیؓ نے اس غلط فہمی اور پروپیگنڈے کی مہم کو کچل دیا۔17 جون 656 کو باغی ، حضرت عثمان ؓکے پڑوسیوں کے گھروںکے چھتوں پر چڑھ کر آپ ؓکے گھر میں داخل ہو گئے۔ پھر ایک باغی نے اُن کے سر پر وار کیا اور دوسرے باغیوں نے بھی ان پر حملہ بول دیا۔ایک روایت (جو Madelung کے نزدیک افسانوی سمجھی جاتی ہے) کے مطابق حضرت عثمانؓ کی ازواج نے اُن کے جسم پر خود کو ڈھال بنا کر بچانے کی کوشش کی، ایک بیوی نائلہ بنت الفرافصہ نے ہاتھ بڑھا کر تلوار روکنے کی کوشش کی،جس سےاُن کے ہاتھ کی انگلیاں کٹ گئیں، جبکہ باغی کےاگلے وار میں حضرت عثمانؓ نے شہادت پائی ۔ حضرت عثمانؓ کے ایک غلام نےجوابی کاروائی میںایک ایک قاتل کو مار بھی ڈالا، مگر بعد میں وہ بھی شہید ہو گیا۔جب باغیوں نے حملہ کیا تو اُس وقت حضرت عثمانؓ قرآن مجید پڑھ رہے تھے۔ جب شہادت پائی تو آپ ؓ کا خون سورۃ البقرہ کی آیت نمبر 137 پر گرا، جس میں ارشاد ہے،’’تو اللہ تمہیں ان کے مقابلے میں کافی ہو جائے گا اور وہ سب کچھ سننے والا، جاننے والا ہے۔‘‘
حضرت عثمان ؓ نے حضرت عمر ؓکی وفات کے بعد خلافت سنبھالی۔ ان کا انتخاب ایک کمیٹی (شوریٰ) کے ذریعے ہوا۔ حضرت عمرؓ نے وفات سے پہلے ایک کمیٹی بنائی جس میں حضرت علیؓ، حضرت عثمانؓ، حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ، حضرت سعد بن ابی وقاصؓ، حضرت زبیر بن عوامؓ اور حضرت طلحہ بن عبیداللہ ؓ شامل تھے۔ یہ سب مہاجر (ابتدائی مکّی مسلمان) تھے۔حضرت عثمان ؓ، نبی کریمؐ کے دوسرے کزن اور ان کے اہم صحابی تھے۔ انہوں نے نبی کریمؐ کے زمانے میں تمام لڑائیوں میں بڑا کردار ادا کیا۔آپؓ نے نبی کریمؐ کی دو بیٹیوں حضرت رقیہؓ اور حضرت ام کلثومؓ سے شادی کی تھی۔ اس لیے انہیں’’ذوالنورین‘‘ کہا جاتا ہے۔
حضرت محمد بن حنفیہؓ روایت کرتےہیں۔ میں نے اپنے والد حضرت علی بن ابی طالبؓ سے پوچھا، ’’اللہ کے رسولؐ کے بعد سب سے بہتر لوگ کون ہیں؟‘‘ انہوں نے کہا: ’’ابوبکر‘‘۔ میں نے پوچھا: ’’پھر کون؟‘‘ انہوں نے کہا: ’’پھر عمر‘‘۔ میں ڈر گیا کہ وہ عثمان کا نام نہ لے جائیں، تو میں نے کہا: ’’پھر آپ؟‘‘ انہوں نے فرمایا: ’’میں تو ایک عام شخص ہوں۔‘‘حضرت عثمانؓ خلافت سنبھالتے وقت 68 سے 71 سال کے تھے۔آپؓ اسلام کے’’شہیدِ مظلوم‘‘ کے نام سے مشہور ہیں۔ آپ کی شہادت کے بعد آپ کا جسد خاکی گھر میں پڑا رہا اور کوئی آپ کی تدفین میں مدد کرنے کو تیار نہ تھا۔ آخر کار آپ کی زوجہ حضرت نائلہؓ باہر نکلیں اور لوگوں سے مدد کی درخواست کی۔ صرف ایک درجن لوگ تیار ہوئے۔ شام کے وقت آپ کا جنازہ اٹھایا گیا۔ رکاوٹ کی وجہ سے انہیں تابوت میں نہیں اٹھایا گیا۔
حضرت عثمان ؓ بے پناہ خیرات کے لیے مشہور تھے۔ غزوۂ تبوک کے موقع پر نبی کریمؐ نے لوگوں سے جہاد کے لیے چندہ مانگا توآپ ؓنے 900 اونٹ، 100 گھوڑے اور 5 کلو سونا پیش کیا۔ وہ کبھی بھی خیرات سے پیچھے نہ رہتے، اس لیے انہیں’’غنی‘‘ (بہت دینے والے) کہا جانے لگا۔انہوں نے مسجد النبوی کی پہلی توسیع کی لاگت خود ادا کی۔ جب نبی کریمؐ نے دیکھا کہ بڑھتی ہوئی مسلمان آبادی کی وجہ سے مسجد تنگ پڑ رہی ہے تو انہوں نے لوگوں سے تعاون مانگا۔ حضرت عثمانؓ نے پوری لاگت خود اُٹھائی۔
حضرت عثمانؓ نے اسلام کے ابتدائی دور کی تمام بڑی لڑائیوں میں حصہ لیا سوائے غزوۂ بدر کے۔ نبی کریمؐ نے انہیں حکم دیا تھا کہ وہ بیمار بیوی کی تیمارداری کریں۔ اس پر ایک حدیث ہے: ’’اے عثمان! تمہیں بدر میں شریک ہونے والے شخص کا ثواب اور مالِ غنیمت کا حصہ ملے گا۔‘‘
غزوۂ غطفان اور ذات الرقاع کے موقع پر نبی کریمؓ نے جب مدینہ سے باہر لشکر لے کر جاتے تو حضرت عثمان ؓ کو مدینہ کا انتظام سونپتے تھے۔تقریباً 650 عیسوی میں حضرت عثمانؓ نے محسوس کیا کہ قرآن مجید کی تلاوت میں معمولی اختلافات پیدا ہو رہے ہیں کیونکہ اسلام عرب کے باہر فارس، شام اور شمالی افریقہ تک پھیل چکا تھا۔ اس مقدس متن کی حفاظت کے لیے انہوں نے حضرت زید بن ثابتؓ کی سربراہی میں ایک کمیٹی بنائی جو خلیفہ ابوبکرؓ کی نسخہ کی بنیاد پر قرآن مجید کا معیاری نسخہ تیار کرے۔ اس طرح نبی کریمؐ کی وفات کے صرف 20 سال بعد قرآن مجید کو مکمل طور پر لکھا گیا۔ یہ نسخہ پورے مسلمان دنیا کے شہروں میں بھیجا گیا اور دیگر نسخے جلانے کا حکم دیا گیا۔کچھ لوگ حضرت عثمانؓ کی خلافت پر بہت کمزور دلائل کی بنیاد پر اعتراض کرتے ہیں۔ حالانکہ حضرت علیؓ، حضرت عثمان ؓ کے مشیر اور مشورہ کار تھے۔ حضرت علیؓ خود اس شوریٰ کمیٹی کے رکن بھی تھے جس نے حضرت عثمان ؓ کو خلیفہ منتخب کیا تھا۔
( مضمون نگار قانون کے طالب علم اور حقوق کے لئے سرگرم کارکن ہیں)