عظمیٰ ویب ڈیسک
سرینگر/وادیٔ کشمیر کے ممتاز دانشور، معالج، مصنف اور معروف کالم نگار ڈاکٹر جاوید اقبال آج پارس ہسپتال میں انتقال کر گئے۔ ان کے انتقال سے کشمیر کے علمی، ادبی اور سماجی حلقوں میں گہرے رنج و غم کی لہر دوڑ گئی ہے۔
ڈاکٹر جاوید اقبال کا شمار کشمیر کی اُن نابغۂ روزگار شخصیات میں ہوتا تھا جنہوں نے پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ ساتھ علم و دانش کے میدان میں بھی گراں قدر خدمات انجام دیں۔ وہ معروف ماہرِ تعلیم پروفیسر سیف الدین کے فرزند تھے اور کئی دہائیوں تک کشمیر سمیت بیرونِ ملک، خصوصاً ایران میں بطور معالج اپنی خدمات انجام دیتے رہے۔
طبی خدمات کے علاوہ ڈاکٹر جاوید اقبال نے ادبی اور فکری میدان میں بھی نمایاں مقام حاصل کیا۔ انہوں نے متعدد کتابیں تصنیف کیں جبکہ مختلف موضوعات پر سینکڑوں مضامین اور کالم تحریر کیے۔ تاریخ، فلسفہ، سیاست، مذہب، معیشت اور عصری مسائل پر ان کی گہری نظر اور متوازن آراء نے انہیں کشمیر کے معتبر عوامی دانشوروں میں ممتاز مقام عطا کیا۔
ڈاکٹر جاوید اقبال اپنی وسیع علمی استعداد، تحقیقی مزاج اور غیر معمولی فکری بصیرت کے لیے جانے جاتے تھے۔ بے پناہ علم و فضل کے باوجود وہ انتہائی منکسرالمزاج، خوش اخلاق اور انسان دوست شخصیت کے مالک تھے، جس کے باعث ہر طبقۂ فکر میں انہیں عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔
ان کا انتقال نہ صرف ایک ممتاز شخصیت کا بچھڑ جانا ہے بلکہ علم، اعتدال، حکمت اور انسانیت کی ایک توانا آواز کا خاموش ہو جانا بھی ہے۔ ان کی علمی و فکری میراث آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ بنی رہے گی۔
اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرمائے، ان کی لغزشوں سے درگزر کرے، ان کی نیکیوں کو شرفِ قبولیت بخشے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔
معروف دانشور، معالج اور کالم نگار ڈاکٹر جاوید اقبال انتقال کر گئے