عظمیٰ ویب ڈیسک
سری نگر/جموں و کشمیر کے مفتیِ اعظم، مفتی ناصر الاسلام نے جمعرات کو کہا کہ ریاستی درجے کی بحالی اور آئینی حقوق کا مطالبہ جموں و کشمیر کے عوام کی خواہشات کی ترجمانی کرتا ہے، اور نیشنل کانفرنس کی جانب سے نئی دہلی میں مجوزہ احتجاج کو تمام سیاسی فریقین کو متحد کرنے کا پلیٹ فارم بننا چاہیے۔جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کی میٹنگ اور ریاستی درجے کی بحالی کے حق میں قومی دارالحکومت میں مجوزہ احتجاج پر ردِ عمل ظاہر کرتے ہوئے مفتیِ اعظم نے کہا کہ عوام نے نیشنل کانفرنس کو اس امید کے ساتھ ووٹ دیا تھا کہ وہ ریاستی درجے اور آئینی تحفظات کی بحالی کے لیے سنجیدہ کوششیں کرے گی۔انہوں نے کہا، ’’نیشنل کانفرنس کو جو مینڈیٹ ملا تھا اُس میں ریاستی درجہ اور آئینی حقوق شامل تھے۔ آج بھی لوگ ریاستی درجے کی بحالی اور اپنے حقوق کی واپسی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ یہ صرف کسی ایک جماعت کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے عوام کا مطالبہ ہے۔‘‘
مفتی ناصر الاسلام نے کہا کہ اگرچہ پارٹی کو یہ کوشش پہلے شروع کرنی چاہیے تھی، تاہم وہ اس اقدام کا خیرمقدم کرتے ہیں کیونکہ یہ جموں و کشمیر کے عوامی اور سیاسی حلقوں میں مسلسل زیر ِبحث رہنے والے اہم مسائل کو اجاگر کرتا ہے۔انہوں نے نیشنل کانفرنس پر زور دیا کہ وہ اس مہم کو وسیع تر بناتے ہوئے تمام سیاسی فریقین کو اعتماد میں لے۔
انہوں نے کہا، ’’میری رائے میں نیشنل کانفرنس کو اس معاملے میں تمام اسٹیک ہولڈرز کو شامل کرنے پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔ وہ شامل ہوں یا نہ ہوں، یہ اُن کی مرضی ہے، لیکن عوامی مفاد کے اس اہم مسئلے پر سب کو مشترکہ جدوجہد کے لیے دعوت دی جانی چاہیے۔‘‘
آئندہ امرناتھ یاترا کے حوالے سے مفتی اعظم نے کہا کہ کشمیر ہمیشہ سے زائرین کا گرمجوشی اور محبت سے استقبال کرتا آیا ہے اور اس روایت کو اس سال بھی برقرار رکھا جائے گا۔انہوں نے کہا، ’’ہم نے ہمیشہ امرناتھ یاترا کی حمایت کی ہے اور آئندہ بھی کرتے رہیں گے۔ زائرین ہمارے مہمان ہیں اور اُن کی بہتر دیکھ بھال ہماری ذمہ داری ہے۔‘‘مفتیِ اعظم نے انتظامیہ سے اپیل کی کہ یاترا کے دوران سیکورٹی اور دیگر سہولیات کے جامع انتظامات کیے جائیں، جبکہ عوام سے بھی کہا کہ وہ کشمیر کی روایتی مہمان نوازی کو برقرار رکھیں۔