میری بات
ندیم خان
ہر دور میں نوجوان کسی نہ کسی تبدیلی کی علامت رہے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی نوجوانوں کے اندر بے چینی، محرومی یا غصہ بڑھا، اس نے کسی نہ کسی شکل میں اپنا اظہار ضرور کیا۔ مگر ہر احتجاج، ہر تحریک اور ہر نعرہ درست راستہ اختیار کرے، یہ ضروری نہیں۔ بعض اوقات جذبات، مایوسی اور سوشل میڈیا کا شور مل کر ایسی فضا پیدا کردیتے ہیں، جہاں حقیقت اور پروپیگنڈا کے درمیان فرق کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔ حالیہ دنوں میں ’’کاکروچ جنتا پارٹی‘‘ یا CJP کے نام سے سامنے آنے والی آن لائن طنزیہ تحریک بھی کچھ اسی قسم کی بحث کا موضوع بن چکی ہے۔ ابتدا میں اس تحریک کو ایک مزاحیہ یا طنزیہ ردِعمل کے طور پر دیکھا گیا۔ یہ سب اُس وقت شروع ہوا جب ہندوستان کے چیف جسٹس سوریہ کانت کے ایک متنازع تبصرے کو سوشل میڈیا پر بے روزگار نوجوانوں کی توہین کے طور پر پیش کیا گیا۔ اگرچہ بعد میں چیف جسٹس نے وضاحت دی کہ ان کے الفاظ کا مقصد جعلی ڈگریوں اور غلط طریقوں سے فائدہ اٹھانے والے افراد تھے، نہ کہ ملک کے نوجوان۔ لیکن تب تک سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث جنم لے چکی تھی۔ اسی ماحول میں ابھیجیت دپکے نامی نوجوان نے ایک طنزیہ ٹویٹ کیا، جو بعد میں ’’کاکروچ جنتا پارٹی‘‘ کی شکل اختیار کرگیا۔ صرف چند دنوں میں یہ تحریک سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی۔ اے آئی سے بنائے گئے پوسٹرز، طنزیہ میمز، اشتعال انگیز نعرے اور حکومت مخالف مواد تیزی سے نوجوانوں میں پھیلنے لگا۔
رپورٹس کے مطابق لاکھوں لوگ اس سے جڑنے لگے اور انسٹاگرام پر اس کے کروڑوں فالوورز سامنے آئے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا صرف سوشل میڈیا پر وائرل ہوجانا کسی تحریک کو درست، سنجیدہ یا عوامی بنا دیتا ہے؟ آج ہندوستان کا نوجوان واقعی مشکلات کا شکار ہے۔ بے روزگاری، امتحانی پیپر لیکس، محدود مواقع، مہنگی تعلیم اور غیر یقینی مستقبل نے نوجوان نسل میں بے چینی پیدا کی ہے۔ نییٹ جیسے امتحانات سے متعلق تنازعات نے بھی نوجوانوں کے اعتماد کو متاثر کیا۔ یہ سب حقیقی مسائل ہیں اور ان پر آواز اٹھانا ہر شہری کا حق ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا ان مسائل کا حل ایک ایسی تحریک ہوسکتی ہے جو اپنی بنیاد ہی طنز، نفرت اور اداروں کی تضحیک پر رکھتی ہو؟ ’’کاکروچ‘‘ ایک ایسا استعارہ ہے جسے عام طور پر گندگی، نفرت اور تباہی سے جوڑا جاتا ہے۔ جب نوجوان خود کو اسی علامت کے ساتھ پیش کرنے لگیں تو یہ محض مزاح نہیں رہتا بلکہ ایک خطرناک ذہنی اور سماجی رجحان بننے لگتا ہے۔ ایک ایسی نسل جو ملک کا مستقبل کہلاتی ہے، اگر وہ اپنی شناخت طنز اور غصے پر کھڑی کرے تو اس کے اثرات صرف سیاست تک محدود نہیں رہتے بلکہ پورے معاشرے پر پڑتے ہیں۔ اگر واقعی نوجوانوں کو حکومت سے اختلاف تھایا وہ کسی سیاسی جماعت سے مایوس تھے، تو اس کے لیے جمہوری اور آئینی راستے پہلے سے موجود ہیں۔
ہندوستان ایک جمہوری ملک ہے جہاں ہر شہری کو اظہارِ رائے، پرامن احتجاج اور سیاست میں حصہ لینے کا حق حاصل ہے۔ نوجوان چاہتے تو اپنے مطالبات منظم انداز میں حکومت تک پہنچاتے، تعمیری مباحثے کرتے، سیاسی پلیٹ فارم بناتے یا انتخابات کے ذریعے تبدیلی لانے کی کوشش کرتے۔ لیکن سوشل میڈیا پر طنزیہ مہمات، نفرت انگیز زبان اور اداروں کا مذاق اڑانا شاید جمہوریت کو مضبوط نہیں بلکہ کمزور کرتا ہے۔ اس تحریک کے بانی ابھیجیت دپکے نے دعویٰ کیا کہ ان کی ویب سائٹ ہٹا دی گئی، سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہوئے اور انہیں دھمکیاں موصول ہوئیں۔ اگر ایسا ہوا ہے تو یقیناً یہ بھی غلط ہے، کیونکہ اختلافِ رائے کو دھمکیوں کے ذریعے دبانا کسی بھی جمہوری معاشرے کے لیے نقصان دہ ہے۔ مگر اس کے باوجود یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ آخر ایک طنزیہ تحریک کو اس حد تک کیوں بڑھایا گیا کہ وہ نوجوانوں کے اندر غصے اور اداروں سے نفرت کا ذریعہ بننے لگے؟ اس پوری مہم کا ایک اور تشویشناک پہلو اس کے فالوورز کے حوالے سے سامنے آیا۔ دستیاب دعوؤں کے مطابق اس تحریک کے زیادہ تر فالوورز ہندوستان سے نہیں بلکہ بیرونِ ممالک سے تعلق رکھتے ہیں۔ بعض اعداد و شمار میں پاکستان، امریکہ اور بنگلہ دیش جیسے ممالک سے بڑی تعداد میں آن لائن سپورٹ دکھائی گئی، جبکہ ہندوستانی فالوورز کی شرح کم بتائی گئی۔ اگر یہ دعوے درست ہیں تو پھر سوال اٹھنا فطری ہے کہ آخر ایک ایسی تحریک، جو خود کو ہندوستانی نوجوانوں کی نمائندہ قرار دیتی ہے، اس کی اکثریتی ڈیجیٹل حمایت بیرونِ ملک سے کیوں آرہی ہے؟ اس سے بھی زیادہ حیران کن بات یہ ہے کہ ’’کاکروچ‘‘ کے نام پر بننے والی یہ آن لائن سیاست سرحد پار بھی پہنچ گئی۔
پاکستان میں ’’کاکروچ عوامی پارٹی‘‘، ’’کاکروچ عوامی لیگ‘‘ اور ’’متحدہ کاکروچ موومنٹ‘‘ جیسے صفحات سامنے آئے، جہاں میمز، طنزیہ ویڈیوز اور حکومت مخالف مواد کے ذریعے نوجوانوں کو متوجہ کیا جانے لگا۔ بعض اکاؤنٹس نے خود کو ’’نوجوانوں کا، نوجوانوں کے ذریعے، پاکستان کے لیے سیاسی محاذ‘‘ قرار دیا۔ یہ صورتحال واضح کرتی ہے کہ ایسی تحریکیں صرف ایک ملک تک محدود نہیں رہتیں بلکہ وہ پورے خطے میں سیاسی بے چینی اور نفسیاتی تقسیم کو ہوا دے
سکتی ہیں۔ بھارت کی دیگر ریاستوں کی طرح جموں و کشمیر میں بھی اس تحریک کے اثرات دیکھنے کو ملے۔ سوشل میڈیا پر کئی نوجوانوں نے اس کی حمایت میں پوسٹس اور ویڈیوز شیئر کیں۔ اس سے بھی زیادہ بحث اس وقت ہوئی جب بعض سیاسی شخصیات نے بھی اس تحریک کے لیے نرم گوشہ ظاہر کیا۔ خاص طور پر پارلیمنٹ ممبر آغا روح اللہ مہدی کی حمایت نے اس مہم کو مزید سیاسی رنگ دیا۔ ناقدین کے مطابق جب عوامی نمائندے اس قسم کی طنزیہ اور اشتعال انگیز تحریکوں کی حمایت کرتے ہیں تو نوجوانوں کے اندر اداروں کے خلاف مزید بے اعتمادی پیدا ہوسکتی ہے۔اس پوری تحریک کے دوران ایک اور اہم بحث ابھیجیت دپکے اور ان کے ساتھیوں کے سیاسی نظریات پر بھی ہوئی۔ سوشل میڈیا پر ان کے پرانے بیانات اور ٹویٹس گردش کرتے رہے، جن میں بعض حساس قومی معاملات پر ان کے خیالات کو متنازع قرار دیا گیا۔ بعض لوگوں نے دعویٰ کیا کہ یہ تحریک مکمل طور پر غیر جانبدار نہیں بلکہ اس کے پیچھے ایک خاص نظریاتی سوچ موجود ہے۔
یہی وجہ ہے کہ کئی افراد نے نوجوانوں کو خبردار کیا کہ کسی بھی آن لائن تحریک یا سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ کی اندھا دھند حمایت کرنے کے بجائے اس کے ماضی، نظریات اور مقاصد کو سمجھنا ضروری ہے۔ اصل مسئلہ شاید یہی ہے کہ آج کا نوجوان سوشل میڈیا کے شور میں بہت جلد جذباتی ہوجاتا ہے۔ ایک وائرل پوسٹ، ایک میم یا ایک اشتعال انگیز نعرہ چند گھنٹوں میں لاکھوں لوگوں کو متاثر کرسکتا ہے۔ مگر ہر وائرل چیز حقیقت نہیں ہوتی۔ بعض اوقات سوشل میڈیا کی سیاست صرف جذبات کو بھڑکانے کے لیے بنائی جاتی ہے، تاکہ نوجوان غصے میں آکر بغیر سوچے سمجھے کسی بھی بیانیے کا حصہ بن جائیں۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ نوجوانوں کے اندر غصہ موجود ہے اور اس غصے کی وجوہات بھی حقیقی ہیں۔ مگر غصہ ہمیشہ درست سمت نہیں دکھاتا۔ تاریخ ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ قومیں صرف احتجاج سے نہیں بنتیں بلکہ تعمیری سوچ، شعور، تحقیق اور ذمہ داری سے بنتی ہیں۔ اختلاف کرنا جمہوریت کی خوبصورتی ہے، لیکن اختلاف کا بھی ایک وقار ہوتا ہے۔ اگر ہر اختلاف طنز، نفرت اور سوشل میڈیا ٹرولنگ میں بدل جائے تو معاشرہ سنجیدہ مکالمے کی صلاحیت کھو دیتا ہے۔ ہندوستان کے نوجوانوں کو اس وقت سب سے زیادہ ضرورت جذباتی نعروں کی نہیں بلکہ شعور اور مثبت قیادت کی ہے۔ انہیں چاہیے کہ وہ سوال ضرور کریں، حکومت سے جواب بھی مانگیں، احتجاج بھی کریں، مگر آئینی اور تعمیری انداز میں۔ اگر نوجوان واقعی تبدیلی چاہتے ہیں تو انہیں سیاست میں سنجیدگی کے ساتھ حصہ لینا ہوگا، نہ کہ محض سوشل میڈیا کی وقتی شہرت کے ذریعے۔ ’’کاکروچ جنتا پارٹی‘‘ شاید چند دنوں یا چند مہینوں کا ایک آن لائن شور ہو، مگر اس نے ایک اہم حقیقت ضرور بے نقاب کردی ہے کہ نوجوان نسل بے چین ہے، مایوس ہے اور خود کو نظر انداز محسوس کررہی ہے۔ لیکن اس بے چینی کا حل نفرت، طنز اور اداروں کی تضحیک نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ قومیں صرف میمز، ہیش ٹیگز اور وائرل پوسٹس سے نہیں بنتیں۔ قومیں ان نوجوانوں سے بنتی ہیں جو مشکل وقت میں بھی شعور، وقار اور ذمہ داری کا راستہ اختیار کرتے ہیں۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ نوجوان اپنے غصے کو تعمیر میں بدلیں، نفرت کو مکالمے میں بدلیں اور وقتی سوشل میڈیا شور کے بجائے ایک مضبوط، باشعور اور مثبت ہندوستان کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کریں۔
رابطہ ۔ 9596571542