شفیع نقیب
کشمیر کی تہذیب، ثقافت اور رہن سہن کا ذکر جب بھی ہوتا ہے تو چند چیزیں فوراً ذہن میں اُبھر آتی ہیں۔ برف پوش پہاڑ، چنار کے سرخ پتّے، جھیل ڈل کے شکارے، صوفیانہ موسیقی، کشمیری دستکاریاں اور ان سب کے درمیان ایک ایسی روایت بھی ہے جو صرف ایک مشروب نہیں بلکہ محبت، اپنائیت اور خلوص کی علامت سمجھی جاتی ہے ۔ نون چائے ۔نون چائے جسے نمکین چائے بھی کہا جاتا ہے، کشمیر کے علاوہ جموں کے کئی علاقوں اور لداخ میں بھی بے حد شوق سے پی جاتی ہے۔ لداخ میں اسے’’گُڈ گُڈی چائے‘‘ کہا جاتا ہے جبکہ وادی کشمیر میں یہ ’’نون چائے‘‘ کے نام سے مشہور ہے۔ صبح کی شروعات ہو، شام کی محفل ہو، شادی بیاہ ہو یا سردیوں کی لمبی راتیں، نون چائے ہر جگہ اپنی موجودگی درج کرواتی ہے۔ کشمیری معاشرے میں شاید ہی کوئی ایسا گھر ہو جہاں مہمان کی تواضع اس چائے کے بغیر مکمل سمجھی جاتی ہو۔یہ صرف چائے نہیں بلکہ ایک مکمل تہذیب ہے، ایک احساس ہے،ذائقہ ہے، ایک یاد ہے، جو نسل در نسل منتقل ہوتی آرہی ہے۔
ہمارے بچپن میں نون چائے کی تیاری خود ایک دلچسپ منظر ہوا کرتی تھی۔ صبح سویرے گھر کے صحن یا باورچی خانے میں چولہا جلایا جاتا۔ لکڑیوں کی مدھم آنچ پر بڑی سی پتیلی رکھی جاتی اور اس میں چائے کی پتی، پانی اور خاص قسم کا سوڈا ڈال کر گھنٹوں اُبالا جاتا۔ پھر اس میں دودھ شامل کیا جاتا اور آخر میں حسب ذائقہ نمک اور مکھن ملایا جاتا۔ اس تمام عمل میں صبر، محنت اور محبت شامل ہوتی تھی۔وہ دھیمی آنچ، جلتی لکڑیوں کی خوشبو، اُبلتی چائے کی بھاپ اور ساتھ ہی گھر کے بزرگوں کی باتیں ، یہ سب مل کر ایک ایسا ماحول بناتے تھے جس کی مٹھاس آج بھی ذہن میں محفوظ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ چولہے پر تیار ہونے والی نون چائے کا ذائقہ آج کے جدید کچن میں تیار ہونے والی چائے سے بالکل مختلف اور کہیں زیادہ دلکش ہوتا تھا۔وقت کے ساتھ زندگی کی رفتار بدلی تو نون چائے کی تیاری کے انداز بھی بدل گئے۔ اب گیس اسٹو، الیکٹرک کیتلی اور جدید کچن ویئر نے پرانے چولہوں کی جگہ لے لی ہے۔ آج کی مصروف زندگی میں شاید ہی کسی کے پاس اتنا وقت ہو کہ وہ گھنٹوں چائے کو دھیمی آنچ پر پکائے۔ نئی نسل سہولت کو ترجیح دیتی ہے، اس لئے اب چائے جلدی تیار کی جاتی ہے اور سماوار میں رکھنے کے بجائے تھرماس فلاسک میں ڈال کر پیش کی جاتی ہے۔
یہ تبدیلی بظاہر معمولی محسوس ہوتی ہے لیکن ذائقے اور روایت دونوں پر اس کا اثر واضح دکھائی دیتا ہے۔ جو لطف اُبلتے ہوئے سماوار سے نکلتی چائے میں تھا، وہ تھرماس میں محفوظ چائے میں کہاں! سماوار میں مسلسل گرم رہنے کی وجہ سے چائے میں ایک قدرتی چاشنی پیدا ہوجاتی تھی، ایک ایسی مہک اور نرمی جو دل کو چھو لیتی تھی۔اگرچہ نئے کچن اور الیکٹرک کیتلیاں عام ہوچکی ہیں، مگر سماوار اور روایتی نون چائے کی اہمیت آج بھی برقرار ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بڑی تقریبات اور شادی بیاہ میں آج بھی سماوار ہی کو ترجیح دی جاتی ہے۔ سماوار کشمیری ثقافت کی ایک عظیم علامت ہے۔ تانبے یا پیتل سے تیار کیا جانے والا یہ مخصوص برتن نہ صرف چائے بنانے کے کام آتا ہے بلکہ کشمیری فن اور دستکاری کا شاہکار بھی سمجھا جاتا ہے۔ اس پر بنے نقش و نگار، پھولوں کی تراش خراش اور نفیس ڈیزائن کشمیری کاریگروں کی مہارت کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔
کشمیر کے کئی علاقوں میں اگرچہ سماوار کا استعمال کم ہوگیا ہے، لیکن اس کی اہمیت آج بھی قائم ہے۔ بڑے بزرگ اب بھی سماوار کی چائے کو ترجیح دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک اصل نون چائے وہی ہے جو سماوار میں تیار ہو۔ یہی وجہ ہے کہ شادی بیاہ کے موقعوں پر آج بھی سماوار خاص اہمیت رکھتا ہے۔ہر کشمیری ماں باپ کی خواہش ہوتی ہے کہ بیٹی کے جہیز میں ایک خوبصورت اور اعلیٰ معیار کا سماوار ضرور شامل ہو۔ یہ صرف ایک برتن نہیں بلکہ محبت، روایت اور ثقافتی وقار کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ بعض خاندان تو نسلوں سے محفوظ قدیم سماوار کو آج بھی بڑے فخر سے سنبھال کر رکھتے ہیں۔دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ اب سماوار صرف چائے بنانے تک محدود نہیں رہا بلکہ اسے بطور تحفہ بھی پیش کیا جاتا ہے۔ امیر تاجر، اعلیٰ افسران اور بیرون ملک مقیم کشمیری اکثر سماوار کو بطور تحفہ اپنے دوستوں یا معزز مہمانوں کو پیش کرتے ہیں۔ کئی سیاح بھی کشمیر سے واپسی پر اسے ایک نادر اور یادگار سوغات کے طور پر اپنے ساتھ لے جاتے ہیں۔آج بڑے ہوٹلوں، ریسٹورنٹس، کارپوریٹ دفاتر اور ثقافتی مراکز میں بھی سماوار کو سجاوٹ کے طور پر رکھا جاتا ہے۔ یہ صرف ایک برتن نہیں بلکہ کشمیر کی شناخت بن چکا ہے۔
سماوار کی تیاری خود ایک مشکل اور محنت طلب فن ہے۔ کشمیر کے ہزاروں کاریگر آج بھی ہاتھوں سے سماوار تیار کرتے ہیں۔ یہ لوگ دن رات محنت کرکے تانبے کو کاٹتے، جوڑتے اور اس پر خوبصورت نقش و نگار بناتے ہیں۔ یہ صرف ایک کاروبار نہیں بلکہ نسلوں سے چلا آرہا فن ہے۔بدقسمتی سے جدید مشینری اور سستے تیار شدہ سامان کی آمد نے اس روایتی صنعت کو بھی متاثر کیا ہے۔ کئی نوجوان اب اس پیشے سے دور ہورہے ہیں کیونکہ یہ محنت طلب کام ہے۔ اگر یہی صورتحال جاری رہی تو خدشہ ہے کہ آنے والے برسوں میں یہ عظیم فن معدوم نہ ہوجائے۔ہم اس بات کو محسوس کررہے ہیں کہ حکومت، ثقافتی ادارے اور سماجی تنظیمیں اس فن کے تحفظ کے لئے اقدامات کریں۔ کاریگروں کو مالی مدد، تربیت اور عالمی سطح پر مارکیٹنگ کی سہولت فراہم کی جائے تاکہ یہ صنعت زندہ رہ سکے۔ اگر کشمیری قالین، شال اور پیپر ماشی دنیا بھر میں اپنی شناخت رکھتے ہیں تو سماوار بھی اسی فہرست میں شامل ہونے کا حق رکھتا ہے۔نون چائے کی روایت دراصل کشمیری سماج کے مزاج کی عکاسی کرتی ہے۔ کشمیری لوگ مہمان نواز، نرم خو اور محبت کرنے والے ہیں۔ جب کوئی مہمان گھر آتا ہے تو سب سے پہلے اسے نون چائے پیش کی جاتی ہے۔ یہ گویا ایک خاموش پیغام ہوتا ہے کہ ’’آپ ہمارے لئے محترم ہیں۔‘‘
آج اگرچہ جدید طرز زندگی نے بہت کچھ بدل دیا ہے، مگر خوش آئند بات یہ ہے کہ نون چائے اور سماوار کی روایت ابھی بھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی۔ دیہاتوں میں، پرانے محلّوں میں اور بزرگوں کے گھروں میں آج بھی صبح کا آغاز سماوار سے ہی ہوتا ہے۔شادیوں میں جب بڑے بڑے سماوار قطار میں رکھے جاتے ہیں اور ان میں کوئلے کی آنچ دہک رہی ہوتی ہے تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے پوری کشمیری تہذیب ایک جگہ جمع ہوگئی ہو۔ مہمان جب چھوٹے پیالوں میں گرم نون چائے پیتے ہیں تو سرد موسم میں جسم کے ساتھ دل بھی گرم ہوجاتا ہے۔یہ روایت صرف ذائقے تک محدود نہیں بلکہ سماجی رشتوں کو مضبوط بنانے کا ذریعہ بھی ہے۔ ایک زمانہ تھا جب لوگ شام کو محلے کے کسی بزرگ کے گھر جمع ہوتے، سماوار کے گرد بیٹھتے، چائے پیتے اور گھنٹوں باتیں کرتے۔ یہی محفلیں محبت اور اُخوت کو فروغ دیتی تھیں۔آج موبائل فون، سوشل میڈیا اور مصروفیات نے انسان کو تنہا کردیا ہے۔ شاید اسی لئے پرانی روایات کی اہمیت اور بھی بڑھ گئی ہے۔ ہمیں اپنی نئی نسل کو یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ سماوار صرف ایک برتن نہیں بلکہ ہماری تاریخ، تہذیب اور خاندانی رشتوں کی علامت ہے۔اگر ہم نے اپنی روایات کو محفوظ نہ رکھا تو آنے والی نسلیں صرف تصویروں اور میوزیموں میں سماوار دیکھیں گی۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم جدیدیت کو قبول کرتے ہوئے بھی اپنی تہذیبی شناخت سے جڑے رہیں۔نون چائے کی ایک پیالی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ اصل خوشی سادگی، اپنائیت اور روایت میں پوشیدہ ہے۔ لکڑی کے چولہے کی دھیمی آنچ، سماوار کی بھاپ، برفانی موسم اور خاندان کے درمیان بیٹھ کر پی جانے والی نمکین چائے شاید اسی لئے آج بھی دلوں میں بسی ہوئی ہے۔وقت بدل سکتا ہے، انداز بدل سکتے ہیں، مگر کشمیر کی نون چائے اور سماوار کی خوشبو شاید کبھی ختم نہیں ہوگی۔
(رابطہ۔9622555263)
[email protected]