عظمیٰ ویب ڈیسک
سری نگر/آج مختلف ریاستوں سے تعلق رکھنے والے کئی ارکانِ پارلیمنٹ نے شمالی کشمیر کے ضلع کپواڑہ کے لنگیٹ میں رکنِ پارلیمنٹ بارہمولہ انجینئر رشید کی رہائش گاہ کا دورہ کیا اور سوگوار خاندان سے تعزیت و یکجہتی کا اظہار کیا۔پارلیمانی وفد میں ارکانِ پارلیمنٹ اُمیش بہوبھائی پٹیل اور سدھاکر سنگھ سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنما شامل تھے۔ وفد نے اہلِ خانہ، پارٹی لیڈران اور وہاں جمع لوگوں سے ملاقات کی۔
اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفد کے ارکان نے کہا کہ ملک بھر میں ایسے لوگوں کی کوئی کمی نہیں جو جموں و کشمیر کے عوام کے درد اور مشکلات کو محسوس کرتے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ خطے میں دیرپا امن اور مفاہمت کے لیے جمہوری روابط اور سنجیدہ مذاکرات ناگزیر ہیں۔
وفد کی قیادت کرنے والے بہار سے تعلق رکھنے والے رکنِ پارلیمنٹ سدھاکر سنگھ نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ کشمیری عوام نے بے پناہ مشکلات جھیلی ہیں اور ان کی آواز کو سنجیدگی، وقار اور خلوص کے ساتھ سنا جانا چاہیے۔ انہوں نے پارلیمنٹ میں انجینئر رشید کی جانب سے جموں و کشمیر کے سیاسی اور انسانی حقوق کے مسائل کو مسلسل اٹھانے کو سراہا۔
انہوں نے مزید کہا کہ مودی حکومت کی جانب سے جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ بامعنی رابطہ قائم نہ کرنا احساسِ بیگانگی کو مزید گہرا کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انجینئر رشید کی مسلسل قید نئی دہلی اور کشمیر کے درمیان اعتماد کے پل کو کمزور کر رہی ہے۔ انہوں نے انجینئر رشید کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ انہیں عوامی خدمت جاری رکھنے کا موقع دیا جانا چاہیے کیونکہ عوام نے بھاری اعتماد کے ساتھ انہیں منتخب کیا ہے۔
وفد نے مختلف طبقہ ہائے فکر سے تعلق رکھنے والے لوگوں سے بھی ملاقات کی اور یقین دلایا کہ ہندوستان کے عوام کشمیریوں کے دشمن نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نئی دہلی اور جموں و کشمیر کے عوام کے درمیان تعلقات کی بنیاد بننے والے تمام وعدوں اور معاہدوں کا احترام کیا جانا چاہیے۔پارلیمانی وفد نے جموں و کشمیر کے عوام کی خواہشات اور شکایات کے حل کے لیے مذاکرات، مفاہمت اور جمہوری عمل کی ضرورت پر زور دیا۔
رُکن پارلیمان انجینئر رشید کی مسلسل قید سے کشمیر اور دہلی کے درمیان دوریاں بڑھ رہی ہیں: پارلیمانی وفد