فکرانگیز
ندیم خان
رواں ماہ کے آغاز میں منعقد ہونے والے NEET-UG 2026 امتحان کی منسوخی نے پورے ملک، خصوصاً جموں و کشمیر کے ہزاروں طلبہ اور اُن کے والدین کو شدید ذہنی صدمے سے دوچار کر دیا ہے۔ نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (NTA) کی جانب سے 3 مئی 2026 کو منعقد ہونے والا یہ امتحان منسوخ کرتے ہوئے اعلان کیا گیا کہ اب امتحان دوبارہ نئی تاریخوں پر لیا جائے گا، جس کی اطلاع بعد میں دی جائے گی۔ یہ فیصلہ اُس وقت سامنے آیا جب ملک بھر میں’’گیس پیپر‘‘، پیپر لیک اور امتحان میں بڑے پیمانے پر بے ضابطگیوں کے الزامات نے ایک سنگین تنازع کی شکل اختیار کر لی۔ حکومت نے اس معاملے کی جانچ کے لیے سینٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (CBI) کو تحقیقات کا حکم بھی دیا ہے۔ اس سال تقریباً 22.79 لاکھ طلبہ نے اس امتحان میں شرکت کی تھی۔ ان لاکھوں طلبہ کے پیچھے لاکھوں خواب، والدین کی امیدیں، برسوں کی محنت اور غریب خاندانوں کی جمع پونجی شامل تھی۔ یہ صرف ایک امتحان کے منسوخ ہونے کی خبر نہیں بلکہ اُن خوابوں کے ٹوٹنے کی داستان ہے جو غربت، مشکلات اور محرومیوں کے درمیان پلتے ہیں۔ بارہمولہ کے رہنے والے اعجاز احمد میر (نام میں تبدیلی) نے اپنی زندگی کے قیمتی سال ڈاکٹر بننے کے خواب کے لیے وقف کر دیے،وہ ایک غریب مگر باہمت خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ اُن کے والد ایک مزدور ہیں، جو دن رات محنت مزدوری کر کے اپنے خاندان کا پیٹ پالتے ہیں۔ غربت کے باوجود اُن کے دل میں ایک خواہش ہمیشہ زندہ رہی، اپنے بیٹے کو ڈاکٹر بنتا دیکھنے کی خواہش۔ اعجاز نے دو سال تک مسلسل تیاری کی، سرینگر میں رہ کر کوچنگ حاصل کی، رات رات بھر جاگ کر پڑھائی کی، دوستوں اور تفریح سے دور رہے، اس دوران اُن کے والد نے اپنی زندگی کی جمع پونجی اُن کی تعلیم پر خرچ کر دی۔ تقریباً ڈھائی لاکھ روپے کوچنگ، رہائش، کتابوں اور دیگر اخراجات پر صرف ہوئے۔ اعجاز احمد کے بقول، ’’ہم نے کبھی آرام کی زندگی نہیں دیکھی۔ میرے والد نے آج تک نیا گھر نہیں بنایا، صرف اس لیے کہ میری پڑھائی متاثر نہ ہو۔ کئی بار گھر میں کھانے پینے کی چیزوں کی کمی ہوئی، مگر میرے والدین نے مجھے کبھی احساس نہیں ہونے دیا۔‘‘ 3 مئی کو جب اعجاز احمدامتحانی مرکز سے باہر نکلے تو اُن کے چہرے پر خوشی تھی، اُنہیں یقین تھا کہ اُن کا امتحان بہت اچھا ہوا ہے۔ لیکن یہ خوشی زیادہ دیر قائم نہ رہ سکی۔چند دن بعد جب پورے ملک میں یہ خبریں گردش کرنے لگیں کہ NEET-UG 2026 کا پیپر لیک ہو چکا ہے، تو لاکھوں طلبہ کے ساتھ اعجاز احمد کے گھر میں بھی جیسے قیامت ٹوٹ پڑی۔ اعجاز میر کہتے ہیںکہ’’ اب ہم دوبارہ کہاں سے ہمت،وہ محنت،وہ اخراجات کہاں سے لائیں؟ اگر یہی پیسہ کسی کاروبار میں لگایا ہوتا تو شاید آج ہمارے حالات بہتر ہوتے۔ اعجاز کا کہنا ہے کہ، ’’مجھے اس امتحان کے بارے میں کچھ معلوم نہیں،میں اَن پڑھ ہوں، لیکن ایک خواب تھا کہ میرا بیٹا ڈاکٹر بنےاورہم ایک نیا گھر بنائیں، لیکن اب سب کچھ ختم ہو گیا۔‘‘ یہ صرف اعجاز کی کہانی نہیں۔ سوپور بارہمولہ سے تعلق رکھنے والے امتیاز احمد شیخ بھی انہی طلبہ میں شامل ہیں جو آج شدید ذہنی دباؤ اور غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں۔وہ گزشتہ دو سال سے سرینگر میں رہ کر NEET کی تیاری کر رہے تھے،اُسے امید تھی کہ وہ 650 سے زیادہ نمبر حاصل کریں گے۔ لیکن اب دوبارہ امتحان کی خبر نے سب کچھ بدل دیا ہے،کیا پتہ کہ اگلی بار بھی وہی نمبر حاصل ہوں، مستقبل غیر یقینی کا شکار ہے۔ اُدھر راجستھان میں اس مبینہ پیپر لیک کی تحقیقات نے اُس وقت نیا موڑ اختیار کیا جب تفتیش کاروں کو ایک واٹس ایپ پیغام ملا ،جس پر لکھاتھا،’’ Many times forwarded‘‘یعنی’’کئی بار فارورڈ کیا گیا۔‘‘ ابتدائی طور پر جسے محض ’’اندازہ پیپر‘‘ سمجھا جا رہا تھا، تحقیقات کے دوران یہ انکشاف سامنے آیا کہ سوالیہ پرچے امتحان سے پہلے مخصوص نیٹ ورکس کے ذریعے گردش کر رہے تھے۔ اس انکشاف نے پورے امتحانی نظام کی شفافیت پر سنگین سوالات کھڑے کر دئیے۔ اس معاملے پر سیاسی حلقوں میں بھی شدید ردِعمل دیکھنے کو ملا۔ لوک سبھا میں حزبِ اختلاف کے قائد راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’’ایکس‘‘ پر لکھا: ’’نیٹ کا امتحان رد ہو گیا۔ 22 لاکھ سے زیادہ طلبہ کی محنت، قربانی اور خوابوں کو اس بدعنوان نظام نے کچل دیا۔‘‘ انہوں نے مزیدکہا کہ پیپر لیک، سرکاری لاپروائی اور تعلیم میں منظم بدعنوانی ہی نہیں بلکہ نوجوانوں کے مستقبل کے ساتھ کیا گیا بڑاکھلواڑ ہے۔‘‘ اسی طرح اکھلیش یادو نے بھی حکومت کے فیصلے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ آخر بار بار ہونے والی ان بے ضابطگیوں کا ذمہ دار کون ہے۔اسی طرح سوشل میڈیا، ڈاکٹروں کی تنظیموں اور مختلف طبی انجمنوں نے بھی امتحان کی منسوخی اور مبینہ پیپر لیک پر شدید غصے کا اظہار کیا ہے۔ کئی ماہرین تعلیم کا کہنا ہے کہ اس قسم کے واقعات نہ صرف لاکھوں طلبہ کے مستقبل کو متاثر کرتے ہیں بلکہ پورے طبی تعلیمی نظام کی ساکھ کو بھی نقصان پہنچاتے ہیں۔یہ پہلا موقع بھی نہیں جب ملک کے بڑے امتحانات پر سوالات اٹھے ہوں۔ اس سے پہلے بھی NEET، SSC اور دیگر امتحانات میں پیپر لیک اور بے ضابطگیوں کے الزامات سامنے آتے رہے ہیں۔ ہر بار تحقیقات، گرفتاریاں اور وعدے کیے جاتے ہیں، مگر نقصان ہمیشہ اُن غریب اور محنتی طلبہ کا ہوتا ہے جو اپنی زندگی کے قیمتی سال ان امتحانات کی تیاری میں گزار دیتے ہیں۔
ایسے کئی طلبہ و طالبات پورے ملک میں موجود ہیں جن کا کیریئر، وقت، پیسہ اور ذہنی سکون ایک غلط نظام کی وجہ سے تباہ و برباد ہو چکا ہے۔ ب ایک ہی سوال پوچھ رہے ہیں، آخر اُن کے خوابوں کا قاتل کون ہے؟
(رابطہ۔ 9596571542)
[email protected]
������������������