عقل و کردار
ڈاکٹر ریاض احمد
قصوروار کون؟ذمہ داری مشترکہ —مگر برابر نہیں۔اگر ہم پوچھیں’’کس کی غلطی ہے؟‘‘ تو ایک آسان سا scapegoat ڈھونڈ لینا مسئلے کو حل نہیں کرتا۔ ذمہ داری کئی سطحوں پر مشتمل ہے:(1) فرد (تعلیم یافتہ شخص)تعلیم طاقت دیتی ہے—کمانے، اثر ڈالنے، بحث کرنے، نظام بنانے اور فیصلے کرنے کی۔ اگر یہ طاقت دھوکے، استحصال، تضحیک یا فتنہ انگیزی کے لیے استعمال ہو تو فرد ذمہ دار ہے۔مثال: کوئی پروفیشنل بغیر تصدیق رپورٹ پر دستخط کر دے، یا بغیر تحقیق افواہ پھیلا دے،صرف اس لیے کہ’’میرے فائدے میں ہے۔‘‘(2) تعلیمی ادارے (اسکول/کالج/یونیورسٹی)ادارے ذمہ دار ہیں جب وہ:گریڈز کو ترقیِ کردار پر فوقیت دیں،چیٹنگ/سرقہ پر چشم پوشی کریں،اخلاق کو صرف ’’ایک کورس ‘‘بنائیں،’’کلچر‘‘ نہ بنائیں،ایسے گریجویٹس پیدا کریں جو مسائل حل کر سکتے ہوں مگر قابلِ اعتماد نہ ہوں۔مثال: ادارہ ’’زیرو ٹالرنس‘‘ کا دعویٰ کرے مگر بدنامی کے ڈر سے سرقہ کے کیسز دبائے۔(3) پالیسی ساز اور نظام۔نظام ذمہ دار ہے جب تعلیم کو فیکٹری بنا دے:فنڈنگ اور رینکنگ مقدار کو انعام دیں، اقدار کو نہیں،ہائرنگ صرف کاغذی اسناد دیکھ کر ہو،کم معیار اور بدعنوانی کے خلاف مؤثر نگرانی نہ ہو۔مثال: بھرتی میں صرف ڈگری/ٹائٹل فلٹر ہو، اخلاقی فیصلے (ethics scenarios)، ٹیم ورک اور ذمہ داری کا کوئی ٹیسٹ نہ ہو۔(4) خاندان اور کمیونٹی۔خاندان ذمہ دار ہیں جب بچوں کوکھلے یا چھپے انداز میں،یہ سکھائیں کہ نمبر، تربیت سے زیادہ اہم ہیں اور تنخواہ، خدمت سے زیادہ۔مثال: والدین غیر اخلاقی طریقے سے حاصل کیے گئے اچھے گریڈز پر خوشی منائیں اور دیانت کو’’سادگی‘‘ سمجھیں۔(5) پورا معاشرہ (میڈیا اور ایمپلائرز سمیت)
میڈیا اور ادارے ذمہ دار ہیں جب وہ شارٹ کٹس، جارحیت، اور شہرت کو دیانت اور قابلیت سے زیادہ انعام دیں۔مثال: سطحی یا گمراہ کن مواد پھیلانے والے بلند آواز شخص کو’’تھوٹ لیڈر‘‘ بنانا۔اس لیے ایماندار جواب یہ ہے: سب ذمہ دار ہیں، مگر زیادہ اختیار والوں کی جواب دہی بھی زیادہ ہے،رہنما، ادارے اور اثر و رسوخ رکھنے والے افراد عام لوگوں سے زیادہ، تعلیم یافتہ اشرافیہ ضرورت مند طلبہ سے زیادہ؛ نظام کے معمار نظام کے متاثرین سے زیادہ۔
اسلامی زاویہ: اخلاق کے بغیر علم نامکمل ہے۔ہماری زیرِ نظر تحریر میں اسلامی روایت کی روشنی میں ایک اہم اصلاح موجودہے۔ علم محض کیریئر کی’’کرنسی‘‘ نہیں، یہ ذمہ داری ہے،کردار اور سماجی انصاف سے جڑی ہوئی۔ اسی طرح’’نفع بخش علم‘‘ کو جاری صدقہ قرار دیا گیا ہے،یعنی علم کا مقصد اثر ہے، صرف شہرت نہیں۔مثال: اگر کوئی اکاؤنٹنگ سیکھتا ہے تو ’’نفع بخش ‘‘نتیجہ صرف آمدن نہیں، بلکہ شفاف کمیونٹی حسابات، منصفانہ معاہدے، اور استحصال سے حفاظت بھی ہے۔یہ زاویہ علم کو’’فخر‘‘ نہیں بلکہ ’’امانت‘‘ اور’’آزمائش‘‘ بناتا ہے: علم والے سے توقع ہے کہ وہ نقصان کم کرے،دعویٰ پھیلانے سے پہلے تحقیق کرے، انصاف کے ساتھ بات کرے اور اپنی صلاحیت کو کمزوروں کی خدمت میں لگائے۔کیا بدلنا ہوگا؟’’عقل + کردار‘‘ کی دوبارہ تعمیر۔اگر ہم چاہتے ہیں کہ تعلیم اپنے وعدے کے مطابق انسان بنائے، تو اصلاحات کو incentives اور کلچر دونوں پر کام کرنا ہوگا:دیانت کو غیر مذاکراتی بنائیں (چیٹنگ/سرقہ پر واضح کارروائی، شفاف عمل)مثال: انٹیگریٹی کیسز کے لیے واضح پروسیجر: ثبوت، سماعت، اصلاحی تربیت + سزا—سب کے لیے یکساں۔وہ ناپیں جو واقعی اہم ہے (تنقیدی سوچ، مواصلات، اخلاقی استدلال، سروس لرننگ)مثال: ایک رٹّے والے امتحان کی جگہ حقیقی مسئلہ حل کرنے والا پروجیکٹ،حوالہ جات کے ساتھ، اور عوامی دفاع (viva/defence) کے ساتھ۔اساتذہ کو اخلاقی رہنما بنائیں، صرف مواد پڑھانے والا نہیںمثال: اختلافِ رائے کا مہذب طریقہ سکھانا، غلطی ماننے کا کلچر، اور اصلاح بغیر تضحیک۔کمیونٹی میں عملی شمولیت (سماجی ذمہ داری کا تجربہ)مثال: مالی خواندگی ورکشاپس، ٹیوٹرنگ، پائیداری آڈٹس، کمیونٹی ڈیٹا پروجیکٹس۔خدمت اور عاجزی کو عوامی انعام بنائیں (اسکالرشپس، ایوارڈز، ہائرنگ معیار)مثال: ہائرنگ روبریک میں ethics scenarios اور ٹیم ورک کو باقاعدہ اسکور دینا،صرف ڈگری کو نہیں۔ڈیجیٹل/میڈیا لٹریسی لازمی کریں۔مثال: وائرل دعووں کی fact-checking، ماخذ کی ساکھ، تعصب کی پہچان، ثبوت کے معیار کی تربیت۔تعلیم کو ’’نفع بخش علم ‘‘سے جوڑیںجو زندگی بہتر کرے، صرف CV نہیں۔مثال: طلبہ کو اوپن یسورسز(نوٹس/گائیڈز/ٹیوٹوریلز) بنانے کی ترغیب جو دوسروں کے کام آئیں۔
نتیجہ: قصور مشترک ہے، مگر ذمہ داری شخصی ہے۔تعلیم سے توقع تھی کہ وہ طاقت کو انسانیت میں ڈھالے گی۔ مگر اکثر یہ ہوا کہ اس نے صرف خواہش کو پروفیشنل بنا دیا۔ یہی تضاد ہے۔قصوروار کون؟ وہ تعلیم یافتہ فرد جو علم کو غلط استعمال کرتا ہے، وہ ادارے جو کھوکھلی کامیابی کو نارمل بناتے ہیں، اور وہ نظام جو سند کو کردار پر ترجیح دیتے ہیں۔ لیکن جب ہم مشترکہ ذمہ داری مان لیتے ہیں تو مشترکہ اصلاح بھی ممکن ہو جاتی ہےاور اصلاح کا آغاز اسی بنیادی وعدے کی بحالی سے ہے۔ تعلیم محض معلومات کا ذخیرہ نہیں،یہ ایک قابلِ اعتماد انسان کی تشکیل ہے، عقل کے ساتھ کردار۔
[email protected]
�����������������