عظمیٰ ویب ڈیسک
سرینگر/ اپنی پارٹی کے سربراہ سید محمد الطاف بخاری نے جموں و کشمیر سرکار کو تلقین کی ہے کہ وہ تمل ناڈو کی نئی منتخب حکومت سے تحریک حاصل کرے اور یہاں شراب کی خرید و فروخت پر پابندی عائد کرے۔
انہوں نے کہا کہ یہاں کے لوگ مکمل شراب بندی چاہتے ہیں، اور منتخب حکومت عوامی جذبات کا احترام کرنے کی پابند ہے۔
اپنے ایکس ہینڈل پر سید محمد الطاف بخاری نے لکھا، ’’اقتدار سنبھالنے کے فوراً بعد تمل ناڈو کے نئے منتخب وزیر اعلیٰ جوذف وجے نے یہ دکھایا ہے کہ حقیقی عوامی قیادت کیسی ہوتی ہے۔ ان کے فیصلے واضح طور پر ان لوگوں کی خواہشات اور جذبات کی عکاسی کرتے ہیں جنہوں نے انہیں منتخب کیا ہے۔ وزیر اعلیٰ کے طور پر حلف اٹھانے کے صرف دو دن بعد ہی انہوں نے ریاست بھر میں مندروں، اسکولوں اور بس اڈوں کے قریب واقع 717 شراب کی دکانوں کو بند کرنے کا حکم دیا۔‘‘
اس اقدام کو جرات مندانہ قرار دیتے ہوئے اپنی پارٹی کے سربراہ نے مزید کہا، ’’یہ فیصلہ آسان نہیں تھا۔ کیونکہ تمل ناڈو کی آمدنی کا ایک بڑا حصہ شراب کی فروخت سے حاصل ہوتا ہے۔ اس کے باوجود وہاں کے نو منتخب وزیر اعلیٰ نے عوام کے ساتھ کھڑے ہونے اور ایک دیرینہ عوامی مطالبہ پورا کرنے کا انتخاب کیا۔‘‘
تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ کے فیصلے کی تعریف کرتے ہوئے سید محمد الطاف بخاری نے کہا، ’’ اسی طرح حقیقی عوامی نمائندے جرات اور خلوص کے ساتھ معاشرے کی خدمت کے لیے اقتدار کا استعمال کرتے ہیں۔ جوزف وجے کا فیصلہ ہماری حکومت کے لیے چشم کشا ہونا چاہیے۔ بدقسمتی سے ہماری سیاسی جماعتیں الزام تراشی میں مصروف ہیں۔ برسر اقتدار نیشنل کانفرنس کہتی ہے کہ جب پی ڈی پی اقتدار میں تھی تو اس نے بھی شراب بندی نہیں کی۔ یہ بات درست ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ نیشنل کانفرنس، جسے اس بار بھاری عوامی مینڈیٹ ملا ہے، وہ بھی پی ڈی پی کے راستے پر چلے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ’’جموں و کشمیر کے لوگ، چاہے ان کا تعلق کسی بھی مذہب یا خطے سے ہو، بارہا مکمل شراب بندی کا مطالبہ کر چکے ہیں۔ ان کی آواز کو مزید نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ جمہوریت میں اقتدار عوام کا ہوتا ہے، اور ہر منتخب حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے عوام کے جذبات، اقدار اور امنگوں کا احترام کرے۔‘‘