عظمیٰ ویب ڈیسک
سرینگر/اپنی پارٹی کے سربراہ سید محمد الطاف بخاری نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ نیشنل ہیلتھ مشن (این ایچ ایم) کے تحت کام کرنے والے ملازمین کے مسائل اور شکایات کا فوری ازالہ کرے۔ قابل ذکر ہے کہ این ایچ ایم ملازمین اپنے دیرینہ مطالبات کے حق میں اس وقت سرینگر میں 48 گھنٹے کے دھرنے پر بیٹھے ہوئے ہیں۔
اس ضمن میں سید محمد الطاف بخاری نے این ایچ ایم ملازمین کے طویل عرصے سے زیرِ التوا مطالبات کو حل کرنے میں حکومتی غفلت پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ یہ ملازمین محنت شاقہ کرتے ہوئے اپنی ذمہ داریاں نبھاتے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود تاحال انتظامیہ ان کے جائز مطالبات کو پورا کرنے میں ناکام رہی ہے۔
انہوں نے کہا، یہ ملازمین زمینی سطح پر شعبہ صحت میں اپنی خدمات فراہم کررہے ہیں۔ بالخصوص دیہی اور پسماندہ علاقوں میں وہ جانفشانی کے ساتھ کام کررہے ہیں۔ وہ حفاظتی ٹیکہ کاری مہمات سے لے کر ہنگامی حالات میں فوری ردِعمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی خدمات بہم پہنچانے میں ایک کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ لیکن بدقسمتی سے حکومت اور حکومتی پالیسی ساز ابھی تک ان کے کردار کے پیش نظر انہیں اُن کے جائز حقوق دینے میں ناکام ثابت ہورہے ہیں۔‘‘انہوں نے مزید کہا، بدقسمتی سے یہ فرنٹ لائن کارکنان اب بھی غیر یقینی سروس ڈھانچے کے تحت کام کرنے پر مجبور ہیں۔ انہیں نہ ملازمت کا تحفظ ہے، نہ منصفانہ تنخواہیں اور نہ ہی ادارہ جاتی تحفظات حاصل ہیں۔‘‘
انہوں نے کہا کہ ملک کی کئی ریاستیں، جن میں مہاراشٹر، ہریانہ، تلنگانہ اور راجستھان شامل ہیں، پہلے ہی ایڈہاک نظام کے خاتمے کے لیے اقدامات کر چکی ہیں، جن کے تحت سروس شرائط کو باقاعدہ بنایا گیا ہے، مساوی تنخواہوں کو یقینی بنایا گیا ہے اور این ایچ ایم ملازمین کو سماجی تحفظ کی سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔ لیکن یہاں اس کا بھی تک تصور بھی نہیں ہے۔ اس سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے جموں و کشمیر میں اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے ارادے اور ترجیح کا فقدان ہے۔‘‘
اپنی پارٹی کے صدر نے حکومت سے اپیل کی کہ وہ محض یقین دہانیوں سے آگے بڑھتے ہوئے ایک مدت مقررہ اور منظم پالیسی اقدام اختیار کرے، جس میں طویل عرصے سے خدمات انجام دینے والے این ایچ ایم ملازمین کی ریگولرائزیشن کا واضح روڈ میپ، دیگر ریاستوں کے برابر تنخواہوں کی فوری منطقی ترتیب، ای پی ایف، ای ایس آئی، انشورنس اور ریٹائرمنٹ کے بعد کے فوائد سمیت جامع سماجی تحفظ کی کوریج، اور سالوں کی غیر یقینی کا خاتمہ کرنے کے لیے ایک خصوصی سروس پالیسی کا نفاذ شامل ہو۔
اپنی پارٹی کے عوام دوست عزم کا اعادہ کرتے ہوئے سید محمد الطاف بخاری نے کہا، “فلاحی طرزِ حکمرانی کا ماڈل غیر محفوظ افرادی قوت کے کندھوں پر قائم نہیں رہ سکتا۔ اگر ہم واقعی عوامی صحت کے نظام کو مضبوط بنانا چاہتے ہیں تو سب سے پہلے ان افراد کے لیے وقار، استحکام اور انصاف کو یقینی بنانا ہوگا جو یہ خدمات فراہم کرتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ این ایچ ایم ملازمین کے مسائل کا حل محض ایک انتظامی کارروائی نہیں بلکہ جموں و کشمیر کے عوام کی صحت کے تحفظ میں براہِ راست سرمایہ کاری ہے۔
سید محمد الطاف بخاری کا این ایچ ایم ملازمین کے مطالبات فوری حل کرنے کا مطالبہ