عظمیٰ ویب ڈیسک
سری نگر/ملی ٹینٹ نیٹ ورکس کے خاتمے اور قانون کی عملداری کو مضبوط بنانے کی سمت ایک اہم پیش رفت میں کاؤنٹر انٹیلی جنس کشمیر (سی آئی کے) نے کالعدم تنظیم حزب المجاہدین سے وابستہ چار ملزمان کے خلاف ناقابلِ ضمانت وارنٹ (NBWs) حاصل کر لیے ہیں۔ یہ کارروائی ایف آئی آر نمبر 05/1996 کے سلسلے میں عمل میں لائی گئی، جو پولیس اسٹیشن سی آئی کے میں درج ہے اور جس میں رنبیر پینل کوڈ کی دفعات 121، 121-اے، 153-اے، 153-بی کے ساتھ غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام ایکٹ (یو اے پی اے) کی دفعہ 13 اور ای اینڈ آئی ایم سی او ایکٹ کی دفعات 2/3 شامل ہیں۔
ایڈیشنل سیشنز جج ٹاڈا/پوٹا (این آئی اے ایکٹ کے تحت نامزد خصوصی جج)، سری نگر کی عدالت نے استغاثہ اور تحقیقاتی افسر کا موقف سننے اور کیس ریکارڈ کا باریک بینی سے جائزہ لینے کے بعد ملزمان محمد یوسف شاہ عرف سید صلاح الدین ولد غلام رسول شاہ، ساکن سوئی بُگ ، بڈگام،غلام نبی خان عرف امیر خان ولد غلام رسول خان، ساکن لیور سری گفوارہ، اننت ناگ،شیر محمد عرف بہادر/ریاض ولد شیر احمد، ساکن ملنگام، بانڈی پورہ،ناصر یوسف قادری ولد محمد یوسف قادری، ساکن شیلٹینگ دار محلہ حبہ کدل، بعد ازاں ابو بکر کالونی بمنہ، سری نگرکے خلاف ناقابلِ ضمانت وارنٹ جاری کئے
عدالتی ریکارڈ کے مطابق مفرور ملزم محمد یوسف شاہ عرف سید صلاح الدین ولد غلام رسول شاہ، یونائیٹڈ جہاد کونسل (یو جے سی) اور کالعدم تنظیم حزب المجاہدین کا سربراہ ہے۔ اسے ایک سرگرم ملی ٹینٹ آپریٹر اور اکسانے والا قرار دیا گیا ہے اور اس کے خلاف وادی کشمیر کے مختلف تھانوں میں ملی ٹینسی سے متعلق متعدد ایف آئی آرز درج ہیں۔
اسی طرح سے ملزم غلام نبی خان عرف امیر خان ولد غلام رسول خان کو حزب المجاہدین کا ڈپٹی سپریم کمانڈر بتایا گیا ہے۔ ریکارڈ کے مطابق وہ ملی ٹینسی کی سرگرمیوں، بھرتیوں، ہم آہنگی اور دیگر کارروائیوں میں ملوث رہا ہے۔ اس کے خلاف مختلف تھانوں اور مرکزی تحقیقاتی ایجنسیوں میں بھی مقدمات درج ہیں۔
ملزم شیر محمد عرف بہادر/ریاض کو حزب المجاہدین کا کمانڈر قرار دیا گیا ہے اور اس کے خلاف یو اے پی اے اور ای آئی ایم سی او ایکٹ کے تحت مقدمات درج ہیں۔وہیں ملزم ناصر یوسف قادری ولد محمد یوسف قادری پر حزب المجاہدین سے وابستگی اور مبینہ طور پر تنظیم کے بیانیے کو فروغ دینے کا الزام ہے۔ تحقیقاتی ایجنسی کے مطابق وہ کشمیر میڈیا سروس (کے ایم ایس) کے ذریعے ملک مخالف جھوٹے بیانیے پھیلانے اور مختلف طبقات کو دھمکیاں جاری کرنے میں ملوث رہا ہے۔
یہ مقدمہ 5 اپریل 1996 کو پولیس اسٹیشن سی آئی کے سری نگر میں موصولہ مصدقہ اطلاع کے بعد درج کیا گیا تھا، جس میں بتایا گیا تھا کہ پاکستان میں مقیم ملی ٹینٹ ہینڈلرز اور انٹیلی جنس ایجنسیاں کشمیری نوجوانوں کو پی او کے/پاکستان میں تربیت کے لیے اکسا رہی ہیں تاکہ وہ بھارت کے خلاف جنگ چھیڑ سکیں۔تحقیقات کے دوران سی آئی کے نے خاطر خواہ شواہد اکٹھے کیے جن سے کالعدم تنظیم حزب المجاہدین سے وابستہ ملزمان کی مبینہ غیر قانونی اور ملک دشمن سرگرمیوںمیں ملوث ہونے کے شواہد ملے۔ مسلسل کوششوں کے باوجود ملزمان گرفتاری سے بچتے رہے اور مفرور ہیں۔
عدالت نے اپنے مشاہدات میں قرار دیا کہ الزامات سنگین نوعیت کے ہیں اور ریاست کے خلاف جنگ اور قومی سلامتی کے منافی سرگرمیوں سے متعلق ہیں۔ عدالت نے کہا کہ مؤثر تفتیش اور انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے ملزمان کا تحویل میں لینا ضروری ہے۔ چنانچہ عدالت نے ناقابلِ ضمانت وارنٹ جاری کرنے کی درخواست منظور کرتے ہوئے ایس ایچ او/تفتیشی افسر پولیس اسٹیشن سی آئی کے کو ہدایت دی کہ ملزمان کو گرفتار کر کے جلد از جلد عدالت میں پیش کیا جائے۔سی آئی کشمیر نے اس کارروائی کو ملی ٹینسی سے متعلق مقدمات کو منطقی انجام تک پہنچانے کے عزم کا اعادہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ قومی سلامتی اور ملک کی خودمختاری کے خلاف سرگرمیوں میں ملوث عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔