عظمیٰ ویب ڈیسک
جموں/جموں و کشمیر اسمبلی میں نجی اسکولوں اور کالجوں میں اساتذہ اور غیر تدریسی عملے کو کم تنخواہیں دینے اور استحصال کے الزامات پر حکومت نے واضح کیا ہے کہ کم از کم اجرت کے تمام قوانین نافذ ہیں اور کسی بھی خلاف ورزی پر محکمہ فوری کارروائی کرتا ہے۔
یہ وضاحت رکن اسمبلی شیخ احسن احمد پردیسی کے سوال کے جواب میں سامنے آئی، جنہوں نے ایوان میں یہ مسئلہ اٹھایا تھا کہ متعدد نجی ادارے اعلیٰ تعلیم یافتہ عملے کو کم اجرت دے کر استحصال کر رہے ہیں، اور یہ کہ حکومت ایسے اداروں کے خلاف کم از کم اجرت ایکٹ سمیت دیگر مزدور قوانین کیوں نافذ نہیں کر رہی۔
حکومت نے تحریری جواب میں کہا کہ ویجز ایکٹ 1948 ان تمام پیشہ ور زمروں پر نافذ ہے جن کے لیے کم از کم اجرتیں سرکاری طور پر نوٹیفائی کی گئی ہیں۔ جواب کے مطابق جب بھی کسی نجی اسکول کے ملازمین کی جانب سے کم اجرت کی شکایت موصول ہوتی ہے تو متعلقہ محکمہ فوراً مداخلت کر کے معاملے کی جانچ کرتا ہے، ریکارڈ طلب کیا جاتا ہے اور خلاف ورزی ثابت ہونے پر کارروائی عمل میں لائی جاتی ہے۔
حکومت نے مزید کہا کہ محکمہ باقاعدہ معائنوں کے دوران اداروں کے تنخواہی ریکارڈ کی جانچ کرتا ہے اور نوٹیفائی شدہ اجرت یا مقررہ قواعد کی خلاف ورزی کی صورت میں قانونی کارروائی کی جاتی ہے۔
سوال کے دوسرے حصے کا جواب دیتے ہوئے حکومت نے بتایا کہ جموں و کشمیر میں لیبر کوڈز نافذ کرنے کا عمل جاری ہے اور مسودہ قواعد پری پبلی کیشن کے مرحلے میں ہیں۔ ان کے حتمی نوٹیفکیشن کے بعد کم از کم اجرت کے حوالے سے ضروری کارروائیاں نئے کوڈز کے مطابق کی جائیں گی۔
حکومت نے یہ بھی بتایا کہ نجی کالجز دو یونیورسٹیوں کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں، اور اب تک کسی بھی یونیورسٹی کو نجی کالجوں کے ذریعے کم اجرت کی ادائیگی کی کوئی شکایت موصول نہیں ہوئی ہے۔
جواب میں یہ بھی کہا گیا کہ کشمیر یونیورسٹی نے نجی کالجوں کے لیے ایک باقاعدہ پے اسٹرکچر جاری کیا تھا، جو اس وقت عدالت میں زیرِ سماعت ہے، لہٰذا مزید کوئی نفاذ یا ترمیم عدالتی فیصلے تک ممکن نہیں۔
حکومت نے کہا کہ نجی اداروں میں منصفانہ اجرت، سوشل سیکورٹی اور ملازمت کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے لیبر کوڈز، خصوصاً کوڈ آن ویجز 2019 کے تحت مزید اقدامات کیے جائیں گے۔
محکمہ نے آخر میں یہ یقین دہانی کرائی کہ باقاعدہ معائنے، ریکارڈ کی چھان بین اور قانونی کارروائی کے ذریعے اس بات کو یقینی بنایا جا رہا ہے کہ نجی تعلیمی ادارے اپنے ملازمین کو تمام لازمی قوانین کے مطابق تنخواہیں اور مراعات فراہم کریں۔
جموں و کشمیر میں نجی تعلیمی اداروں میں کم تنخواہوں کا معاملہ: کم از کم اجرت کے تمام قوانین نافذ: حکومت