عظمیٰ ویب ڈیسک
جموں/کانگریس کے دو اراکین اسمبلی نے جمعرات کے روز ڈپٹی کمشنر کشتواڑ کی جانب سے ماہِ رمضان کے دوران چندہ جمع کرنے کو منظم کرنے سے متعلق جاری کردہ حکم نامے کو واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔
یہ معاملہ ایوان میں اس وقت اٹھایا گیا جب بانڈی پورہ سے ایم ایل اے نظام الدین بٹ نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کے زیرِ انتظام محکموں کی گرانٹس پر بحث کے دوران اس حکم پر اعتراض کیا۔
نظام الدین بٹ نے کہا کہ مذکورہ حکم، جس میں رمضان المبارک کے دوران چندہ جمع کرنے کے عمل کی نگرانی اور ضابطہ بندی کی بات کی گئی ہے، غیر آئینی ہے۔
انہوں نے کہا، یہ نجی معاملات میں مداخلت ہے۔ کیا صدقہ اور زکوٰۃ بھی انتظامی نگرانی کے تابع ہوں گے؟ ہماری شریعت کہتی ہے کہ بائیں ہاتھ کو بھی معلوم نہ ہو کہ دائیں ہاتھ نے کیا دیا۔
انہوں نے اس ہدایت کو “مکمل طور پر غیر آئینی، اختیارات سے تجاوز، قانون کے منافی اور اشتعال انگیز” قرار دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر اس معاملے کا جائزہ لیں اور حکم نامہ واپس لیں۔
اس مطالبے کی تائید کرتے ہوئے ڈورو سے ایم ایل اے اور کانگریس کے سینئر رہنما غلام احمد میر نے اس حکم کو “حیران کن” قرار دیا۔
انہوں نے کہا، “ملک میں پہلی بار ایسا حکم جاری کیا گیا ہے،” اور وزیر اعلیٰ سے اپیل کی کہ اسے واپس لیا جائے۔
ڈپٹی کمشنر کے حکم نامے کے مطابق افراد یا گروپوں کو چندہ جمع کرنے سے قبل ایگزیکٹو آفیسر وقف بورڈ کشتواڑ، امام جامع مسجد کشتواڑ (صدر مجلس شوریٰ کمیٹی کشتواڑ) یا متعلقہ تحصیلدار سے اجازت لینا ہوگی۔
حکم نامے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ تمام چندہ جمع کرنے والے ادارے اپنی وصولیوں اور عطیات کا شفاف ریکارڈ برقرار رکھیں۔
ڈپٹی کمشنر کشتواڑ کا چندہ جمع کرنے سے متعلق حکم غیر آئینی اور قانون کے منافی: کانگریس اراکین اسمبلی کا شدید ردعمل