عظمی ویب ڈیسک
جموں/جموں و کشمیر کے نائب وزیر اعلیٰ سریندر سنگھ چودھری کا کہنا ہے کہ نہ صرف عمر حکومت بلکہ جموں و کشمیر کا ہر بے روزگار نوجوان ریاستی درجے کی بحالی کا مطالبہ کرتا ہے۔
انہوں کہا: ‘ریاستی درجہ بحال ہونے سے جموں وکشمیر سرکار کے ہاتھوں میں بہت طاقت آئے گی اور لوگوں کے حق میں فیصلے کئے جا سکیں گے’۔
ان کا کہنا تھا: ‘آج جو بھی فیصلہ ہمیں کرنا ہوتا ہے تو فائل وزیر اعلیٰ سے لیفٹیننٹ گورنر کے پاس جاتی ہے’۔
نائب وزیر اعلیٰ نے ان باتوں کا اظہار بدھ کو یہاں نامہ نگاروں کے سوالوں کا جواب دینے کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا: ‘ریاستی درجے کی بحالی کا مطالبہ صرف عمر عبداللہ سرکار کا نہیں ہے بلکہ جموں وکشمیر کے ہر بے روزگار بچے کا ہے’۔
ان کا کہنا تھا: ”ریاستی درجہ بحال ہونے سے جموں وکشمیر سرکار کے ہاتھوں میں بہت طاقت آئے گی اور لوگوں کے حق میں فیصلے کئے جا سکیں گے، آج جو بھی فیصلہ ہمیں کرنا ہوتا ہے تو فائل وزیر اعلیٰ سے لیفٹیننٹ گورنر کے پاس جاتی ہے’۔
بی جے پی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے مسٹر چودھری نے کہا: ‘بی جے پی کو غلطی سے 28 سیٹیں ملی ہیں، یہ لوگ ووٹ کے بجائے نام پر جیتے ہیں، اگر یہ ووٹ پر جیتتے تو ان کو معلوم ہوتا ہے کٹرہ آج بند کیوں ہے، اگر وہ روپ وے نہیں چاہتے ہیں تو اس کو وہاں کیوں لگایا جا رہا ہے’۔
انہوں نے کہا: ‘بی جے پی کے ارکان اسمبلی لوگوں کے ہمدرد نہیں ہیں، وہ کبھی لوگوں کی بات نہیں کرتے ہیں’۔
ان کا دعویٰ تھا: ‘اگلے انتخابات میں جموں صذوبے کے لوگ بھی ان کو منہ توڑ جواب دیں گے’۔
نہ صرف عمر عبداللہ سرکار بلکہ بے روزگار بچے بھی ریاستی درجے کی بحالی چاہتے ہیں: سریندر چودھری