عظمیٰ ویب ڈیسک
جموں/جموں میں ڈیلی ویجروں نے اپنے مطالبات کے حق میں وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی سرکاری رہائش گاہ کے باہر دھرنا دینے کا منصوبہ بنایا تھا، تاہم پولیس نے ان کی پیش قدمی کو بروقت کارروائی کرتے ہوئے ناکام بنا دیا۔ اطلاعات کے مطابق جیسے ہی ڈیلی ویجر رہائشی کمپلیکس کی طرف بڑھنے لگے تو پولیس نے فوری طور پر انہیں روک کر آگے جانے کی اجازت نہیں دی۔موقع پر موجود ڈیلی ویجروں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ہر سال بجٹ پیش کرتے وقت مستقل تقرری کی یقین دہانی کراتی ہے، مگر یہ وعدے صرف بیانات تک محدود رہتے ہیں اور زمینی سطح پر کوئی پیش رفت نہیں ہوتی۔ احتجاجی ملازمین کا کہنا تھا کہ وہ گزشتہ کئی برسوں سے غیر یقینی کی کیفیت میں کام کر رہے ہیں، لیکن حکومت ان کے مسائل کو سنجیدگی سے نہیں لیتی۔
ڈیلی ویجر رہنماؤں نے الزام لگایا کہ حکومت جان بوجھ کر ان کے مطالبات کو نظرانداز کر رہی ہے اور انہیں جھوٹے وعدوں کے ذریعے ٹالتی رہتی ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ جب تک ان کی ملازمتوں کو مستقل نہیں کیا جاتا اور بقایا جات ادا نہیں کیے جاتے، وہ اپنی جدوجہد پوری شدت کے ساتھ جاری رکھیں گے۔احتجاجی ملازمین نے یہ بھی واضح کیا کہ دھرنے یا مارچ کو روک کر حکومت ان کے غصے یا عزم کو کمزور نہیں کر سکتی۔ انہوں نے کہا کہ انصاف ملنے تک احتجاجی پروگرام جاری رہے گا۔ انہی کوششوں کے تحت بدھ کے روز ڈیلی ویجر ملازمین نے سول سیکریٹریٹ جموں کا گھیراؤ کی کال بھی دی ہے، جس کے باعث سیکورٹی ایجنسیوں نے پہلے ہی چوکسی بڑھا دی ہے۔سرکاری ذرائع کے مطابق انتظامیہ حالات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لیے اضافی فورسز تعینات کی جائیں گی۔ دوسری جانب، ڈیلی ویجر مسلسل مطالبہ کر رہے ہیں کہ حکومت فوری طور پر ایک واضح پالیسی پیش کرے تاکہ ہزاروں عارضی ملازمین کو مستقل حل مل سکے۔
جموں میں ڈیلی ویجروں کا وزیر اعلیٰ کی رہائش کے باہر دھرنا دینے کا منصوبہ ناکام، پولیس نے مظاہرین کو روک دیا