عظمیٰ ویب ڈیسک
جموں/جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر طارق حمید قرہ نے جمعرات کو قانون سازاسمبلی میں لیفٹیننٹ گورنر کے خطاب پر شکریہ کی تحریک میں حصہ لیتے ہوئے مرکزی حکومت سے ریاستی درجہ کی بحالی کے بارے میں واضح اور حتمی ٹائم لائن پیش کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے زور دیا کہ مرکز ہر بار ’مناسب وقت‘ کا حوالہ دیتا ہے، مگر یہ نہیں بتاتا کہ یہ وقت کب آئے گا اور لوگ اس انتظار میں کب تک رہیں گے۔ طارق قرہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ جموں و کشمیر میں جمہوری عمل دراصل سپریم کورٹ کی مداخلت کے بعد ہی بحال ہوا، ورنہ یہ اسمبلی وجود میں ہی نہ آتی۔ انہوں نے لیفٹیننٹ گورنر اپنے خطاب میں ریاستی درجہ کی بحالی پر خاموشی اختیار کی۔
کانگریس لیڈر نے بتایا کہ پارٹی کی قومی قیادت، بشمول صدر ملکارجن کھڑگے اور لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی، اس مطالبے کو پارلیمنٹ کے اندر اور باہر مسلسل اجاگر کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خطے کے عوام کا متفقہ مطالبہ ہے کہ جموں و کشمیر کو فوری طور پر ریاست کا درجہ واپس دیا جائے۔ اپنے خطاب کے دوران طارق قرہ نے نام لیے بغیر بی جے پی پر طنز کیا کہ اس وقت جب جموں و کشمیر کے لوگ ریاستی درجہ کی بحالی چاہتے ہیں، کچھ حلقوں میں جموں کو علاحدہ ریاست بنانے کی آوازیں اٹھ رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تاریخ گواہ ہے کہ اس طرح کے مطالبات نے ہمیشہ خطے میں علاقائی بداعتمادی کو جنم دیا اور ریاست کی مجموعی قوت کمزور ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر کی سالمیت، وحدت اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے لیے ضروری ہے کہ ایسی بحثوں کی حوصلہ شکنی کی جائے۔
کانگریس صدر نے یہ بھی نشاندہی کی کہ لیفٹیننٹ گورنر کے خطاب میں دو اہم انسانی مسائل بشمول کشمیری پنڈتوں کی باعزت واپسی اور 1947، 1965 اور 1971 کے مہاجرین کے مسائل کا ذکر تک نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری پنڈتوں کی بازآبادکاری محض علامتی اقدامات یا معاشی پیکیجز سے ممکن نہیں، بلکہ ایک جامع، مستقل اور قابلِ عمل منصوبہ درکار ہے جو نہ صرف ان کی سلامتی بلکہ سماجی اور معاشی استحکام کو بھی یقینی بنائے۔
انہوں نے تجویز دی کہ ایک آل پارٹی اسٹینڈنگ کمیٹی تشکیل دی جائے جس کے منتخب اراکین کشمیری پنڈت برادری سے باقاعدہ بات چیت کر کے اُن کی محفوظ اور باعزت واپسی کے لیے زمینی سطح پر قابلِ عمل روڈ میپ تیار کریں۔ طارق قرہ نے خصوصی طور پر کہا کہ یہ مسئلہ سیاسی نعرہ نہیں بلکہ انسانی مسئلہ ہے، جس کا حل پوری سنجیدگی سے نکالا جانا چاہیے۔اسی طرح مغربی پاکستان کے مہاجرین کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ یو پی اے حکومت کی جانب سے منظور شدہ 30 لاکھ روپے فی خاندان کے پیکیج کا مکمل نفاذ ضروری ہے، جس میں سے موجودہ حکومت نے صرف 5 لاکھ روپے جاری کیے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ان مہاجرین کے زمین اور آبادکاری کے مسائل حل کرنے کے لیے ایک مؤثر فلاحی بورڈ قائم کیا جائے، تاکہ دہائیوں پر محیط یہ مسئلہ مستقل بنیادوں پر حل ہوسکے۔طارق حمید قرہ نے اپنے خطاب کے اختتام پر کہا کہ جموں و کشمیر کے عوام اب مزید انتظار کے متحمل نہیں ہو سکتے، اس لیے مرکز کو چاہیے کہ ریاستی درجہ کی بحالی کے حوالے سے کوئی لائحہ عمل پیش کرے اور انسانی سطح کے مسائل کو اولین ترجیح دے۔
جموں و کشمیر کو ریاستی درجہ کب ملے گا: قرہ کا مرکز سے سوال