عظمیٰ ویب ڈیسک
جموں/جموں کے باہو حلقہ انتخاب سے بی جے پی کے رکنِ اسمبلی وکرم رندھاوا نے جمعہ کو کہا کہ جموں خطے کو الگ حیثیت دینے کا مطالبہ آج بھی زندہ ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ مطالبہ کشمیر کی جانب سے جموں پر طویل عرصے تک بالادستی کے نتیجے میں سامنے آیا ہے۔صحافیوں سے بات کرتے ہوئے رندھاوا نے کہا کہ یہ مطالبہ اچانک پیدا نہیں ہوا بلکہ اس کی جڑیں تاریخی عدم توازن میں پیوست ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں کشمیر نے لداخ پر بھی بالادستی قائم رکھی تھی، تاہم لداخ کو الگ یونین ٹیریٹری بنائے جانے کے بعد صورتحال میں تبدیلی آئی۔انہوں نے کہا،ہم علیحدگی نہیں چاہتے، لیکن کشمیر نے ہمیشہ جموں کو دبائے رکھا ہےاور مزید کہا کہ اس مطالبے کا مستقبل کا لائحۂ عمل وقت کے ساتھ واضح ہوگا۔
مجوزہ نیشنل لا ءیونیورسٹی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے رندھاوا نے کہا کہ یہ ادارہ صرف جموں میں ہی قائم ہونا چاہیے اور اس کے علاوہ یونین ٹیریٹری میں کہیں اور اس کے قیام کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ حتمی فیصلہ مرکز کے ہاتھ میں ہے اور نئی دہلی کو قائل کرنے کی کوششیں کی جائیں گی تاکہ نیشنل لا یونیورسٹی جموں کو ہی دی جائے۔انہوں نے کہا، یا تو نیشنل لا یونیورسٹی جموں میں آئے گی یا پھر یہ قائم ہی نہیں ہوگی۔
جموں کی تعلیمی حیثیت کو اجاگر کرتے ہوئے رندھاوا نےدعویٰ کیا کہ جموں ایک تعلیمی مرکز کے طور پر ابھرا ہے جہاں کشمیر سمیت مختلف علاقوں سے طلبہ تعلیم حاصل کرنے آ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بڑی تعداد میں کشمیری طلبہ جموں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔تاہم، انہوں نے الزام عائد کیا کہ کشمیر میں جموں کے طلبہ کے زیرِ تعلیم ہونے کی مثالیں نا ہونے کے برابر ہیں، اور دعویٰ کیا کہ ماضی میں جموں کے طلبہ کو وہاں ہراسانی کا سامنا کرنا پڑا۔
لاء یونیورسٹی صرف جموں میں قائم ہوگی ورنہ کہیں نہیں ہوگی: وکرم رندھاوا