عظمیٰ نیوزسروس
جموں//ڈائریکٹوریٹ آف انفارمیشن اینڈ پبلک ریلیشنزنے ڈی آئی پی آر آڈیٹوریم میں’’جامع صحت و تندرستی:سانس، ذہن اور مراقبہ کی سائنس‘‘ کے موضوع پر دو روزہ ورکشاپ کا انعقاد کیا۔اس ورکشاپ میں ڈائریکٹر انفارمیشن نتیش راجورا، جوائنٹ ڈائریکٹر (ہیڈکوارٹر) ڈاکٹر ظہور احمد رینہ، جوائنٹ ڈائریکٹر جموں ڈویژن دیپک دوبے، ڈی آئی پی آر اور ڈویژنل آفس جموں کے افسران اور دیگر اہلکاروں نے شرکت کی۔ورکشاپ کے سیشنز معروف ماہرِ غذائیت، یوگا ٹیچر اور چکرہ میڈیٹیشن ایکسپرٹ ڈاکٹر میتالی گپتا نے منعقد کیے، جنہوں نے سائنسی اصولوں کو قدیم یوگک حکمت کے ساتھ بخوبی ہم آہنگ کرتے ہوئے تجرباتی تدریسی انداز کے ذریعے سیشنز کو عملی، دلچسپ اور اثر انگیز بنایا۔ورکشاپ کی ایک خاص جھلک ڈاکٹر میتالی گپتا کے زیرِ تربیت ایک نادار طالب علم، دیو، کی جانب سے براہِ راست عملی مظاہرہ تھا۔ ان کے پُراعتماد اور منظم مظاہرے کو سراہا گیا اور یہ اس بات کی زندہ مثال بن کر سامنے آیا کہ کس طرح یوگا اور مراقبہ افراد کو بااختیار بنا سکتے ہیں اور ہمہ گیر ترقی کو فروغ دے سکتے ہیں۔دو روزہ ورکشاپ کے دوران شرکاء نے جسم، سانس اور ذہن کے باہمی تعلق پر گہری بصیرت حاصل کی، ساتھ ہی ذہنی سکون اور باطنی توازن کے حصول کے لیے عملی طریقے بھی سیکھے۔ورکشاپ میں اس بات کی وضاحت کی گئی کہ جسمانی صحت، سانس لینے کے انداز اور ذہنی کیفیت ایک دوسرے سے گہرے طور پر جڑے ہوئے ہیں۔ شرکاء نے سیکھا کہ شعوری طور پر سانس کو منظم کرنے سے ذہن پرسکون ہوتا ہے، جذبات میں توازن آتا ہے، دباؤ کم ہوتا ہے اور مجموعی صحت بہتر ہوتی ہے۔ ابتدائی سیشنز میں باطنی آگاہی، خود نظم و ضبط اور جامع شفایابی کی بنیاد رکھی گئی۔اختتامی دن مراقبہ، چکرہ میڈیٹیشن اور پاور نیپ تکنیکس سے متعلق سیشنز منعقد کیے گئے۔ اس کے علاوہ، آسان مراقبہ کی مشقیں متعارف کرائی گئیں تاکہ شرکاء ذہن کو خاموش کرنے اور آگاہی میں اضافہ کر سکیں۔ چکرہ میڈیٹیشن سیشن میں جسم کے توانائی مراکز کو متوازن کرنے پر زور دیا گیا تاکہ جذباتی استحکام، باطنی ہم آہنگی اور ذہنی وضاحت کو فروغ دیا جا سکے۔ مزید برآں، کم وقت میں گہری راحت اور تازگی کے لیے پاور نیپ کی تکنیکس بھی سکھائی گئیں۔ورکشاپ کا اختتام ایک متاثر کن نوٹ پر ہوا، جس میں ذہنی صحت، شعوری طرزِ زندگی اور ہمدردانہ تعلیم کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا تاکہ ایک صحت مند اور متوازن معاشرہ تشکیل دیا جا سکے۔