اگر فرصت ملے پانی کی تحریروں کو پڑھ لینا
فکر و ادراک
ڈاکٹر فلک فیروز
میں جہلم ہوں جس کے اندر پانی کی موجیں ٹھاٹھے مارتی ہوئی اپنا اظہار بیان چاہتی ہے اور کرتی بھی ہے۔ اس اظہار کے تفاہیم کو لوگوں تک پہنچانے کی کوشش کرتی ہیں۔ اگر آپ کو فرصت ملے تو میری پانی کی لہروں پر لکھی ہوئی تحریروں کو پڑھ لیجئے گا اور تاریخ تمدن تہذیب ثقافت نفسیات علم اقتصادیات جغرافیائی حدود تغیر و تبدل کے تناظرات میں اسے معنی بخش دیجئے گا۔ میری پانی کی تحریروں پر ہزاروں سال کے افسانے درج ہیں ،وہ افسانے جنہیں کوئی کتاب میں نہ لا سکا، وہ افسانے جو زمانہ اقتدار و اختیار کے ہاتھوں تلف ہوتے رہے، وہ افسانے جو ان کہے رہے ،وہ افسانے جنہیں جب کہہ دیا گیا تو ان کے کہنے والوں کو رہنے نہ دیا گیا، وہ افسانے جو زمانے کی آنکھوں سے اوجھل رہے، وہ افسانے جنہیں فنا کی راہ لینی پڑی، وہ افسانے جو گناہ گاروں کے ہونے کے باوجود بھی ان کے نہ رہے، وہ افسانے جنہیں معصوموں کے سر تھوپا گیا، وہ افسانے جو میرے پاس امانت کے طور پر محفوظ ہیں ،وہ افسانے جو میرے کنارے پر لکھے گئے ،وہ افسانے جن کے بارے میں معلومات حاصل ہی نہیں ہے ،وہ افسانے جن کے کردار مشہور ہوگئے گویا میں جہلم خود میں ایک طویل افسانہ ہوں، جس کے کنارے پر ،بطن میں ہزاروں سال کا درد ،دُکھ،خوشی اور لاکھوں کروڈوں انسانوں کی داستانیں پنہاں ہیں ۔میرےاندر بہتے پانی کی تحریروں پر لکھا ہے، کیسے یہاں سیاسی شعبدہ بازی کا بازار گرم رہا کرتا تھا ،رہتاہے نیز سیاسی کھیل کھیلے جاتے ہیں۔
کس طریقے سے یہاں متعدد بار دن کی تیز روشنی میں اور رات کی تاریکی میں ،چوری چھپے ،کھلے عام، نصیب کے فیصلے بدلتے رہے اور اس نصیب میں میں بد نصیب بھی شامل ہوں جسے لوگ جہلم کہتے ہیں، میں جہلم آپ سے کتنا کہوں، کتنا پوشیدہ رکھوں، اگر کچھ کہہ دوں تو کھل کر نہ کہہ سکتا ہوں، اگر کچھ پوشیدہ رکھوں تو نہ رکھ سکتا ہوں، میں یہاں کی ہر ایک چیز سے واقف ہوں، چاہے وہ اَرضی ہو یا آسمانی ہو،شمال کے ہوں یا جنوب کے، مشرق کے ہوں یا مغرب کے ۔
میں جہلم ہوں ماضی میں تمہاری تجارت سیر و تفری کے لیے یہاں سے آبی ٹرانسپورٹ بھی جاری تھی، جس سے لوگ تجارت کی غرض سے ایک جگہ سے دوسری جگہ تک جاتے تھے اور مختلف لوگ سیر و تفریح کی غرض سے آبی ٹرانسپورٹ کا استعمال کرتے تھے لیکن موجودہ دور میں یہ تمام چیزیں مفقود ہو کر رہ گئیں۔ اگرچہ حکومت وقت نے اپنے اپنے ادوار میں ان کوششوں کو دوبارہ شروع کرنے کی سعی بھی کی ہے، لیکن تا حال ناکامی ہاتھ ائی ہے۔
میں جہلم ہوں صدیوں سے تماشہ بین۔ میرے کناروں پر اکثر آبادی درخت لگاتے تھے،باالخصوص بیدہا، ان کے چھاؤں تلے گرمیوں کے موسم میں اکثر لوگ میرے کناروں پر بیٹھ کر راحت کا سانس لیتے تھے ۔تمہیں بتاؤں کہ کس قدر خوبصورت چنار اور چناروں کے جھنڈ میرے کناروں پر آباد ہیں، ان چناروں کے گنے چھاؤں میں تھکے ہوئے مسافر گرمی کے موسم میں راحت کا سانس لیتے ہیں، مقامی آبادی کے بوڑھے بزرگ بھی اکثر میرے کنارے پر آباد اِن چناروں کے وسیع سائیوں میں اپنے اپنے نحیف جسموں کو دراز کرتے رہتے ہیں۔ میں اور میرے یہ ساتھی چنار جس طرح انسانی ابادی کے لیے ہر طرح کی سہولیا دستیاب رکھتے ہیں، اس کی ہزار مثالیں آپ کے سامنے پڑی ہیں، شرط یہ ہے کہ آپ کی آنکھوں کی دھول صاف ہو جائے تاکہ تمہیں کچھ دکھائی دے۔
میں جہلم ہوں صدیوں سے تماشہ بین ،تمہیں بتلاؤں کہ ایک زمانہ ہوا کرتا تھا کہ آپ کے بستیوں کے آبا و اجداد میرے کنارے صاف و پاک رکھنا اپنا مذہبی فریضہ سمجھتے تھے اور میری گود سے بہنے والے پانی کو قدرت کی نعمت عظمیٰ تصور کرتے تھے، ہر طرح کی کوشش روا رکھتے تھے تاکہ یہ پانی صاف پاک اور قابل استعمال رہے اور یقین مانیے ہر فرد کی انفرادی کوشش یہی رہتی تھی کہ دریائے جہلم کو صاف اور محفوظ رکھا جائے، میری حالت بالکل ایسی ہوتی تھی کہ میرا پانی صاف ہوتا تھا، اس میں ہر ایک انسان اپنا عکس دیکھ پاتا تھا ۔ میں جہلم ہوں صدیوں سے تماشابین ،تمہیں دکھلاؤں تمہارے کرتوتوں کا یہ آئینہ کہ کون سی گندگی آپ کے شہر کی ،قصبہ جات کی، دیہات کی، آپ کے گھروں کی، ایسی نہیں ہے جس کو آپ میرے اندر دفن نہیں کرتے ہیں۔یہاں تک کہ آپ نے پاخانے میرے کناروں پر تعمیر کئے ہیں، ان کا سارا ملبہ میرے اندر پھینکتے ہو، گھروں سے نکلنے والا گوبر، اس کا فضلا بھی میرے کناروں پر رکھتے ہو، تو کیسے ممکن ہے کہ میرے اندر بہنے والا پانی صاف رہے ۔جو بھی پالتو گھریلو آوارہ جانور مرتے ہیں، انہیں بھی میرے اندر پھینک کر جاتے ہو، مجھے حیرت ہوتی ہے ایسا کرتے ہوئے آپ کو نیند کیسے آتی ہے۔ آپ کی بے حسی پر بے رخی پر بے ضمیری پر غیر انسانی رویوں پر۔
یہ اپنی بے بسی ہے یا کہ اپنی بے حسی یارو
ہے اپنا ہاتھ ان کے سامنے جو خود بھکاری ہے (عزیز انصاری )
میں جہلم ہوں صدیوں سے تماشہ بین۔ تمہاری ہر حالت کا تماشہ بین تمہاری ظاہری اور باطنی حالت کا، تمہاری تاریخ کا، تمہاری ثقافت کا، تمہاری تہذیب کا، تمہاری سماجی زندگی کا، تمہاری معاشی حالت کا، میں جہلم ہوں حالات کے مظالم کا شکار، کبھی عوام میں ظالم خود غرض افراد کے ہاتھوں میں سکڑتا رہا، کبھی مجھ سے میرا بہنے کا راستہ چھینا گیا ،میں تمہاری بستیوں کا خیر خواہ ہوں، تمہاری نسلوں کو آباد رکھنے والا دریا ہوں، تو میں زندگی بخشنے والا پانی ہوں۔
میں جہلم ہوں ،آپ سے ہاتھ جوڑ کے ملتمس ہوں کہ میری ہستی کو فناہ کرنے سے باز آجاؤ ،مجھے میرے جینے کا حق چاہیے، مجھے میری زندگی چاہیے، بخش دو خدا کے لیے بخش دو مجھے، میرے ذرے ذرے کے محافظ بن جاؤ، میری روانی کو راستہ فراہم کرتے جاؤ، مجھ میں جس قدر روانی تیز ہوگی اس قدر آپ کی حیات کو ضمانت ملنے کی امیدیں بڑ ھ سکتی ہیں۔ تمہاری آنے والی نسلوں کو صاف پانی کی اشد ضرورت محسوس ہوگی، کیونکہ اب دنیا کی اکثر بیشتر چیزیں فضائیں ،ہوائیں، غذائیں ،آلودگی سے بھری پڑی ہیں۔ میرا تم سے یہی سوال ہوگا، یہی امیدیں تم سے وابستہ ہیں، اگر میں فنا ہو گیا تو تمہاری تاریخ فنا ہوگی اور تم بھٹکتے رہو گے، تمہیں اپنی تاریخ نہیں ملے گی، تمہیں اپنی کوئی خبر نہیں رہے گی، نہ تمہارا کوئی ماضی رہے گا نہ تمہارا حال بہتر ہوگا، نہ تمہارا مستقبل سنور جائے گا،نہ ہی تمہاری نسلیں تمہیں معاف کریں گی۔
سوال سخت تھا دریا کے پار اتر جانا
وہ موج موج مگر خود میرا بکھر جانا (ابن فیضی )
رابط۔8825001337