جب کوئی انسان اس بات پر غور و فکر کرتا ہےکہ اللہ تعالیٰ اُس کی بے شمار نافرمانیوں کے باوجود بھی اُس پر نعمتوں اور احسانات کی بارش کررہا ہے تو اُس کے دل میں محبت ِ الٰہی کا ایسا ولولہ پیدا ہوجاتا ہے جو اُس کو نیکیوں کی طرف مائل کرنے اور بُرائیوں سےدور رہنے میں معاون ثابت ہوتا ہے۔قرآن ِ مجید بھی ہر مسلمان کو تقویٰ و فکر ِآخرت کی دعوت دیتا ہے تاکہ اُس کی دنیا و آخرت سنور جائے۔ لیکن افسو س ! آج مسلمانوں کی اکثریت آخرت کو سنوارنے اور اس کی فکر کرنے کے بجائے دُنیا کو بنانے کی فکر میں غرق ہوچکی ہے۔ حالانکہ تاریخ گواہ ہے کہ جب تک مسلمانوں میں ایمان، تقویٰ اور آخرت میں جوابدہی کا احساس تھا، تب تک عزت و وقار، غلبہ و ترقی مسلمانوں کے قدم چوم رہی تھی اور وہ اغیاروں کی سازشوں سے محفوظ تھے، لیکن جب سے اُمت ِ مسلمہ حق و صداقت کے راستے سے بھٹک کراپنے عظیم صفات سے محروم ہوئی ،اُس کی کوئی حیثیت و وقعت باقی نہیں رہی ہےاور نہ ہی مسلمانوں کی حالت ِ زار کا کوئی پُرسانِ حال ہے۔ جبکہ طرفہ تماشہ یہ کہ آج سوشل میڈیا پر مسلم خواتین کی عزت سے کھلواڑ کرنے والوں کی تائید اور اپنی عزت و ناموس اور حیاء و تقدس کو پامال ہونے سے بچانے والی مسلم خواتین کو تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے ۔جہاںمسلمانوں کی عظیم نشانیوں کو حرفِ غلط کی طرح مٹایا جارہا ہے ،وہیں متعصب پرنٹ و الیکرٹانک میڈیا جس مذہب اور قوم کے خلاف ہر وقت کھُل کر زہراُگل رہا ہے، وہ اسلام اور مسلمان ہیں۔ کسی میں ہمت باقی نہیں کہ اِس کھلی ناانصافی کے خلاف آواز بلند کرسکے۔ جس کی سب سے بڑی وجہ ہماری اپنے دین سے دوری ہے۔اب بھی وقت ہے ہم خواب غفلت سے اُٹھیں اورمحض دُنیاوی مفادات کے حصول کے لئے زندگی گزارنے کے بجائے قرآن مجید کے حکم پر عمل پیرا ہوکر اُخروی زندگی پر غور و فکر کریں ، اِس سے ہماری دُنیاوی زندگی میں بھی بہار آئے گی۔ چونکہ آخرت میں جوابدہی کے احساس سے ہی انسان نیکیوں کا خوگر اوربُرائیوں سے متنفر ہوگا، جس میں انسان کی حقیقی خوشی کا راز مضمر ہے۔ آج مسلمانوں کی اکثریت شہرت طلبی میں غرق ہوکرآخرت کی زندگی سے غافل ہوچکی ہے جس کی وجہ سے مسلم معاشرے میں بُرائیاں تیزی سے پھیل رہی ہیں، ہر کوئی نام و نمُوداور نام آوری جیسے قبیح و مذموم فعل کا شکار نظر آرہا ہے ،یہاں تک کہ مذہبی معاملات میں بھی یہ رجحان عام ہوتا جارہا ہے۔ جبکہ اس حقیقت سے ہم سب بخوبی واقف ہیں کہ جب انسان کی روح قفس عنصری سے پرواز کرجاتی ہے تو سب سے پہلے دنیا انسان کے نام ہی میں تبدیلی آتی ہے۔ اب فلاں شخص کے بجائے لوگ لفظ میت کا ہی استعمال کرنا شروع کردیتے ہیں۔ شہرت طلبی کو چھوڑ کر جو بندہ اللہ اور اُس کے رسولؐ کے احکامات پر صدق دِلی کے ساتھ عمل کرتا ہے، اللہ ایسے نیک بندے کو نہ صرف اپنا محبوب بنالیتا ہے بلکہ اسے مقبولیتِ عامہ کی دولت عطا فرماتا ہے۔لہٰذا جو شخص چاہتا ہے اُسے مقبولیت و محبوبیت حاصل ہوجائے ،اُس پر لازم ہے کہ وہ رِیاکاری کے تمام افعال اور ذرائع شہرت کو ترک کرکے خلوص و للہیت کے ساتھ زندگی گزارنے کی کوشش کرے ۔ یہ اُسی وقت ممکن ہے جب انسان موت کے بعد پیش آنے والے حقائق کو اپنے ذہن میں محفوظ رکھے ۔ انسانی معاشرے کی ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ اکثر لوگ دوسروں کی زندگیوں کو سنوارنے کی خاطر اپنی زندگی کو اجیرن بنادیتے ہیں، حرام ذرائع سے پیسہ اس لئے کماتے ہیں تاکہ اُن کے اہل و عیال خوشحال زندگی گزاریں لیکن یہ بھی ہماری زندگی کی ناقابل فراموش حقیقت ہے کہ جب انسان کا انتقال ہوتا ہے تو اسے گھر سے نکالنے اور تنہائی، خوف اور منکر و نکیر کے سوالوں کے جواب دینے کی جگہ یعنی قبر کے اندھیرے گڑھے کے حوالے کرنے میں ہمارے اہل و عیال ہی پیش پیش رہتے ہیں لیکن ان میں کوئی بھی قبر کی تنہائی کو دور کرنے میں ہمارا ساتھ نہیں دیتا۔ اگر انسان زندگی میں ہی اِن چیزوں پر غور و فکر کرنا شروع کردے تو اس سے کوئی بُرائی کا صدور نہیں ہوگا ، وہ اپنے اہل و عیال کی کفالت کسب ِ حلال سے ہی کرے گااور ہر قدم پر نیکی کمانے کو ترجیح دیگا جو قبر میں میت کے حق میں بہترین روشنی اور سہاراثابت ہو گی۔اس لئے لازم ہے کہ انسان ایمانداری، احتیاط، اخلاص کے ساتھ زندگی گزارنے کی طرف مائل ہوجائے اورنفاق کی گندگیوںسے اپنے دامن کوصاف و پاک رکھے،کیونکہ سب سے بہترین راستہ،حق و صداقت کا راستہ ہے۔