کٹھوعہ // کٹھوعہ ضلع کی پہاڑی علاقوں پرمشتمل تحصیل بنی میں آزادی کے ستر سال بعد بھی رولکا گاؤں میں بجلی کیتاریںسر سبز درختوں کے ساتھ بندھی ہوئی ہے اورہزاروں کی آبادی پر مشتمل پورے علاقے میں بجلی کی سپلائی لکڑی کے کھمبوں اور درختوں کے ذریعے جاتی ہے جس سے بنی تحصیل میں بجلی کے نظام کی خستہ حالی کااندازہ ہوجاتاہے۔ مذکورہ علاقہ جات کے لوگوں نے کشمیر عظمی کو بتایا کہ پسماندہ علاقوں میں بجلی نظام کی پول اسوقت کھل جاتی ہے جب بارش کی ذراسی بوند کے باعث علاقوں میں سے بجلی گُل ہو جاتی ہے ۔بجلی نظام ایک ہلکی سی ہوا کا جھونکا اور ایک بارش کا قطر ہ تک برداشت نہیں کر پاتا ہے ۔بجلی کی آنکھ مچولی چند قطرے بارش کے برسنے سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے یا یوں کہیں کہ بارش کی بوندیں ابھی آسمان پر ہی ہوتی ہیں تو بجلی کا نظام پہلے ہی درہم برہم ہوجاتاہے ۔کٹھوعہ ضلع کے بلاور اور بنی کے مختلف پسماندہ علاقوں کے مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ بجلی کا ترسیلی نظام اتنا بوسیدہ ہو گیا ہے کہ یہاں کے علاقوں میں بجلی کی سپلائی سر سبز پیڑوں کے سہارے ہے تو وہیں اس ترقی یافتہ دور میں ابھی بھی لکڑی کے پول گاؤں میں لگے ہوئے ہیں اوران دیہات میں لوئی ملہار، رولکا، درمن، بھنڈار، بانجل لاٹھی، سندرون و دیگر علاقے شامل ہیں جسکے باعث لوگوں کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اکثر بارش کے اوقات میں جانی اور مالی نقصان کا بھی اندیشہ رہتا ہے اور اس دوران بجلی علاقوں سے غائب ہوتی ہے ۔درمن علاقے سے تعلق رکھنے والی انجو دیوی طالب علم نے بتایا کہ امتحانات کے دوران بجلی کے ناقص نظام کے سبب انہیں سخت پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ رات کے اوقات میں اندھیرے میں ہی انہیں رہنا پڑتا ہے جس کے باعث امتحانات کی تیاری نہیں ہو پاتی ہے اور اسکے باعث انکی پڑھائی بھی متاثر ہوتی ہے ۔انھوں نے وزیر اعلی محبوبہ مفتی سے بجلی نظام کو درست کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ جہاں ایک طرف مرکزی حکومت اور ریاستی حکومت بیٹی بچاؤ، بیٹی پڑھاؤ ابھیان کی بات کرتی ہے تو وہیں پسماندہ علاقوں میں بجلی جیسی بنیادی سہولیات کے فقدان کے باعث بیٹیوں کو کئی کئی دنوں تک اندھیرے میں رہنا پڑتا ہے جس سے بیٹیوں کی پڑھائی پر سخت اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ انھوں نے ریاستی اور مرکزی حکومت سے پر زور مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ان علاقوں میں بجلی نظام کو بہتر بنایا جائے کہ طالب علموں کے ساتھ ساتھ عام لوگوں کو بھی بجلی جیسی سہولیات سے محروم نہ ہوسکی-اس سلسلے میں ایکس ای این کٹھوعہ نے کہا کہ قبل برسوں کے دوران جب ان علاقوں میں بجلی کی سپلائی لگائی گئی تھی تو اسوقت کے دوران میں ان علاقوں کی بجلی نظام کو لکڑی کے پولوں پر کیا گیا تھا اْس وقت لوہے کے کھمبوں کی کافی کمی پائی جاتی تھی جس کے سبب آج بھی دوردراز کے کئی علاقہ جات میں آج بھی لکڑی کے کھمبوں پر بجلی کا نظام چل رہا ہے ۔انہوں نے مزید بتایا کہ حکومت کی جانب سے دین دیال کے سکیم کے تحت و بجلی کی دیگر اسکیموں کے تحت میں ہر علاقے کا بجلی نظام کو درست کیا جائے گا۔