اشتیاق ملک
ڈوڈہ //بھدرواہ میں گزشتہ رات مبینہ طور پر پولیس فائرنگ کے دوران ایک مقامی نوجوان کی ہلاکت کے بعد علاقے میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔انجمن اسلامیہ بھدرواہ نے واقعے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ پورے معاملے کی غیر جانبدار، شفاف اور فوری تحقیقات کرائی جائیں اور اگر کسی بھی سطح پر غفلت یا زیادتی ثابت ہو تو ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔انجمن اسلامیہ کے ترجمان نے اپنے بیان میں کہا کہ انسانی جان کا ضیاع انتہائی افسوسناک ہے اور ایسے واقعات عوام میں بے چینی اور عدم اعتماد پیدا کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ متاثرہ خاندان کو فوری انصاف فراہم کیا جانا چاہیے تاکہ عوام کا قانون اور انتظامیہ پر اعتماد بحال رہے۔
واقعے کے خلاف احتجاج کے طور پر انجمن اسلامیہ بھدرواہ نے آج مکمل بند کی کال دی، جس کے بعد بھدرواہ قصبے میں بیشتر تجارتی مراکز، دکانیں اور کاروباری ادارے بند ہیں۔مقامی لوگوں نے بھی متاثرہ خاندان سے یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے بند کی حمایت کی۔دوسری جانب، امن و قانون کی صورتحال برقرار رکھنے کے پیش نظر انتظامیہ نے بھدرواہ، گندوہ اور بھلیسہ کے علاقوں میں موبائل انٹرنیٹ خدمات عارضی طور پر معطل کر دی ہیں۔حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام احتیاطی طور پر کیا گیا ہے تاکہ کسی بھی قسم کی افواہوں اور ناخوشگوار صورتحال سے بچا جا سکے۔
علاقے میں پولیس اور سول انتظامیہ کی اضافی نفری تعینات کر دی گئی ہے، جبکہ حالات پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔آخری اطلاعات موصول ہونے تک مجموعی صورتحال قابو میں بتائی جا رہی ہے، تاہم علاقے میں کشیدگی برقرار ہے۔واضح رہے کہ مبینہ پولیس فائرنگ میں نوجوان کی ہلاکت کے واقعے نے پورے خطے میں تشویش پیدا کر دی ہے اور مختلف سماجی و عوامی حلقوں کی جانب سے بھی واقعے کی شفاف تحقیقات اور انصاف کی فراہمی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔انتظامیہ کی جانب سے تاحال واقعے کی تفصیلی سرکاری رپورٹ جاری نہیں کی گئی ہے۔
بھدرواہ میں نوجوان کی ہلاکت پر انجمن اسلامیہ کا شدید ردِعمل، غیر جانبدار تحقیقات اور قصورواروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ، بند کی کال