سچیت گڑھ//سرحدوں پر جاریہ جنگ بندی کے نتیجہ میں جموں ضلع کے سچیت گڑھ میں واقع ہندوپاک بین الاقوامی سرحد(آئی بی) ایک سیاحتی مقام بن گیا ہے۔جموں وکشمیر اور باہر کے مختلف مقامات کے لوگ آر ایس پورہ میں واقع بین الاقوامی سرحد پر واقع سچیت گڑھ کا رخ کررہے ہیں ، جو جموں شہر سے تقریباً 35 کلو میٹر دور ہے۔ جب سیاح وہاں پہنچتے ہیں تو ان کا استقبال دراز قامت مستعد بی ایس ایف اہلکار مسکراتے ہوئے کرتا ہے۔ بی ایس ایف کے عہدیداروں نے بتایا کہ عام طور پر ہر اتوار کو 1500 سے2000 لوگ سرحد پر آتے ہیں۔بی ایس ایف کے ایک عہدیدار نے کہا "ہر اتوار کے روز بڑی تعداد میں سیاح یہاں آتے ہیں اور ہم ان کے لئے ایک خوشگوار ماحول کو بھی یقینی بناتے ہیں"۔بی ایس ایف کے ایک اہلکار نے بتایا’’چونکہ سرحد کی سخت حفاظت کی جا رہی ہے تو ایسے میںبی ایس ایف کے اہلکار داخلے پوائنٹ پر آنے والے سیاحوں کا مسکراتے ہوئے خیرمقدم کرتے ہیں۔ احاطے میں داخلے کے بعدسیاحوں کو مناسب جانچ پڑتال کرنی پڑتی ہے جبکہ جموں و کشمیر کے محکمہ سیاحت نے ایک کاؤنٹرسیاحوں کی سہولت کیلئے قائم کیا ہواہے‘‘۔ انہوں نے دعوی کیا کہ 131 فٹ اونچا ترنگانصب کرنے کے بعد سیاحوںکی تعداد میں اضافہ ہوا ہے کیونکہ یہ پاکستانی سرحد کے ساتھ جموں و کشمیر میں سب سے بلند ترین ترنگا ہے۔بی ایس ایف اہلکار نے مزید کہا’’بی ایس ایف نے سویلین دیہات اور وہاں تعینات نیم فوجی دستوں پر بھی پاکستان کی طرف سے فائر کیے گئے مارٹر گولوں کی باقیات نمائش کیلئے رکھ دی ہیں۔ اس کے علاوہ سرحد پار فائرنگ سے فوت ہونے والے چملیال کے فوجیوں اور بی ایس ایف کے دیگر اہلکاروں کی متعدد تصاویر بھی آویزاں کی گئیں ہیں‘‘۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ محکمہ سیاحت کے ساتھ مل کر بی ایس ایف نے متعدد کمروں کو بھی محفوظ کیا ہے جو کبھی جموں سیالکوٹ ریلوے سٹیشن کا حصہ تھے اور ان کمروں میں فوج اور بی ایس ایف افسران کی تصاویررکھی گئی ہیں جو ملک کا دفاع کرتے ہوئے انکی بہادری اور جرات کو اجاگر کررہی ہیں۔ سری نگر کے رہائشی محمد نذیر نے بتایا کہ وہ اپنے اہل خانہ کے ساتھ یہاں آئے تھے کیونکہ وہ بین الاقوامی سرحد دیکھنا چاہتے تھے۔نذیر نے کہا’’یہاں کی سرحدیں پرامن ہیں اور وہ سب کیلئے توجہ کا مرکز بن چکے ہیں۔ یہ ایک یادگار وقت تھا جو ہم نے ساتھ گزارا تھا۔ ہم اس دورے کے ساتھ تاریخ میں واپس چلے گئے۔ بی ایس ایف نے بڑے احترام کے ساتھ ہمارا استقبال کیا‘‘۔انہوں نے مزید کہا’’ہم دعا کرتے ہیں کہ سرحدیں ہمیشہ پرامن رہیں کیونکہ دشمنی دونوں اقوام میں سے کسی کے بھی حق میں نہیں ہے‘‘۔ادھر بی ایس ایف کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ بہت سے کشمیری خاندان خاص طور پر چھٹیوں کے موقع پرآتے ہیں جبکہ ملک کے دوسرے حصوں سے بھی لوگ سچیت گڑھ کی سرحد پرآتے ہیں۔سرحد پر سیاحوں کے لئے تیار کردہ ایک پارک دکھاتے ہوئے افسر نے کہا ’’ہم نے کچھ بینچ بھی سیاحوں کی سہولت کے لئے رکھے ہیں ۔ہم نے یہ پارک تیار کیا ہے اور محکمہ سیاحت بھی مددکر رہا ہے۔ ہم تال میل کے ساتھ کام کرتے ہیں‘‘۔تاہم لوگوں نے شکایت کی کہ سچیت گڑھ کی طرف جانے والی سڑک ناقص حالت میں ہے اور اس کی فوری مرمت اور چوڑاکرنے کی ضرورت ہے۔ جموں کی ضلعی ترقیاتی کونسل (ڈی ڈی سی) کے آزاد ممبر ترنجیت سنگھ ٹونی نے اس ضمن میں کہا’’سرحدی سیاحت کی حوصلہ افزائی کے لئے سچیت گڑھ روڈ کی تعمیر / مرمت کا کام جلد سے جلد ہونا چاہئے۔ ہم سرحدی سیاحت کو فروغ دینے کے لئے کام کریں گے ۔اسے پنجاب میں واہگہ بارڈر کی طرز پر فروغ دیاجانا چاہئے‘‘۔