عظمیٰ نیوزسروس
جموں//انسدادِ بدعنوانی بیورو (اے سی بی) جموں نے محکمہ محنت میں رشوت ستانی کے ایک معاملے میں سینئراسسٹنٹ کو رنگے ہاتھوں رشوت وصول کرتے ہوئے گرفتار کر لیا ہے۔ حکام کے مطابق کارروائی ایک شکایت موصول ہونے کے بعد انجام دی گئی جس میں بوائلر انسپکشن کیس کی منظوری کے عوض چالیس ہزار روپے رشوت طلب کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔اے سی بی کے ترجمان کے مطابق پولیس اسٹیشن اے سی بی جموں میں ایف آئی آر نمبر 04/2026، دفعہ 7انسدادِ بدعنوانی ایکٹ 1988اور بی این ایس کی دفعہ 61(2) کے تحت محکمہ محنت میں انسپکٹر آف فیکٹریز اینڈ بوائلرز کے طور پر تعینات اسسٹنٹ ایگزیکٹو انجینئر انجینئر رویندر کرنڈو اور سینئراسسٹنٹ گرداس کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا۔ترجمان نے بتایا کہ انجینئر رویندر کرنڈو نے شکایت کنندہ سے ابتدائی طور پر ساٹھ ہزار روپے رشوت طلب کی تھی، تاہم بعد میں معاملہ چالیس ہزار روپے میں طے پایا۔ یہ رقم ان کے دفتری کلرک گرداس کے ذریعے بوائلر انسپکشن کیس کی منظوری اور کارروائی مکمل کرنے کے لیے طلب کی گئی تھی۔چونکہ شکایت کنندہ رشوت ادا نہیں کرنا چاہتا تھا، اس لیے اس نے قانونی کارروائی کے لیے اے سی بی سے رابطہ کیا۔ شکایت موصول ہونے کے بعد خفیہ جانچ کی گئی جس میں رشوت طلب کیے جانے کے الزامات کی تصدیق ہوئی۔تحقیقات کے دوران اے سی بی نے ایک ٹریپ ٹیم تشکیل دی جس نے کامیاب کارروائی کرتے ہوئے سینئراسسٹنٹ گرداس کو شکایت کنندہ سے چالیس ہزار روپے رشوت وصول کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں گرفتار کر لیا۔ یہ رقم وہ انجینئر رویندر کرنڈو کی جانب سے وصول کر رہا تھا۔ کارروائی کے وقت انجینئر رویندر کرنڈو اپنے دفتر میں موجود نہیں تھے۔اے سی بی نے قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے گرداس کو موقع پر ہی گرفتار کر لیا جبکہ رشوت کی رقم بھی آزاد گواہوں کی موجودگی میں برآمد کر لی گئی۔ حکام کے مطابق دونوں ملزمان کی رہائش گاہوں پر بھی قانون کے مطابق تلاشی کارروائی جاری ہے۔اے سی بی کا کہنا ہے کہ اس معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہے اور تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔