سرینگر//بانڈی پورہ،شوپیاںاور بڈگام کے ضلع ترقیاتی کمشنروں نے ذرائع ابلاغ کو موجودہ کووڈ منظرنامے اور تخفیف کی کوششوں سے آگاہ کیا۔ ڈپٹی کمشنر بانڈی پورہ ڈاکٹر اویس احمد نے تفصیلات دیتے ہوئے بتایا کہ اس مہینے میں ہر گزرتے۱ دن کے ساتھ ضلع میں فعال معاملات میں کمی ہوتی جا رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پچھلے دو ہفتوں سے مثبت شرح اب ضلع میں 2.3 فیصد سے کم ہے ۔ ڈاکٹر اویس نے بتایا کہ روزانہ کی بنیاد پر 1500 سے 2000 ٹیسٹ کئے جاتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ مجموعی طور پر مثبت واقعات کی تعداد بھی کم ہو کر 337 ہو گئی ہے جس میں سے صرف 39 مریض ہسپتال آئسو لیشن میں ہیں اور ان میں سے 19 آکسیجن امدادی نظام پر ہیں ۔ ڈاکٹر اویس نے کہا کہ صحت یابی کی شرح 95 فیصد سے زیادہ ہو گئی ہے جبکہ اب تک 8640 مریض صحتیاب ہوئے ہیں اور پچھلے سال سے 98 اموات ہوئیں۔ ویکسی نیشن کے بارے میں تفصیلات دیتے ہوئے ڈی سی نے بتایا کہ 45 سے زیادہ عمر والے گروپ میں سے 90 فیصد اب تک کوور کیا جا چکا ہے جبکہ 18 سے 44 سال تک کی عمر کے گروپ کو بھی ویکسی نیشن دی جا رہی ہے ۔ادھر ضلع ترقیاتی کمشنر شوپیان سچن کمار واشیا نے کہا کہ ضلع اِنتظامیہ نے محکمہ صحت اور متعلقہ محکموں کے ساتھ مل کر ضلع میں 18 برس عمر سے 44برس عمر تک والے اَفراد کوٹیکہ کاری مہم کی شروعات کی ۔ضلع ترقیاتی کمشنر نے عوام الناس بالعموم اور مذکورہ عمر کے گروپ کے اَفراد سے بالخصوص اپیل کی کہ وہ کووِڈ وائرس کے پھیلائو کو روکنے کے لئے ترجیحی بنیادوں پر کووِڈ حفاظتی ٹیکے لگائیں۔اُنہوں نے ضلع کے لوگوں سے کہا کہ وہ کووِڈ رہنما اصولوں اور ایس او پیز کو ملحوظ نظر رکھ کراَپنے قریبی کووِڈ ویکسی نیشن مراکز پر جاکرکووِڈ مخالف ٹیکے لگائیں۔ضلع ترقیاتی کمشنر نے جانکاری دیتے ہوئے کہا کہ آج تک ضلع میں 5,526 مثبت معاملات سامنے آئے ہیں جن سے 5,352 صحتیاب ہوچکے ہیں اوراَب صرف 115 معاملات سرگرم ہیں۔اُنہوں نے کہا کہ شفایاب مریضوں کی شرح اَ ب تک 96.85 فیصد اور 59مریضوں کی موت واقع ہوئی ہے ۔اس دوران ضلع ترقیاتی کمشنر بڈگام شہباز احمد مرزا نے کہا کہ اَب تک ضلع میں تقریباً 15,379مثبت معاملات سامنے آئے ہیں جن میں سے 13,067 مریض شفایاب ہوچکے ہیں۔اُنہوں نے کہا کہ اس وقت ضلع میں 843 سرگرم معاملات ہیں۔اُنہوں نے کہا کہ زیادہ تر معاملات اَپنے گھرو ں میںہی قرنطین ہیںاور کووِڈ کیئر ہسپتال لیول ۔II میںصرف 20 مریض داخل ہیں۔اُنہوں نے جانکاری دی کہ شفایابی کی شرح میں 95فیصد تک پہنچ گئی ہے اور مثبت معاملات کی شرح بتدریج کم ہو رہی ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ ہفتے کے بعد سے مثبت معاملات کی شرح 4 سے 4.3 ہو گئی ہے اور گزشتہ دو دِن سے یہ مزید کم ہو کر اِس وقت یہ شرح 2.44 فیصد ہے ۔اُنہوں نے مزید کہا کہ ضلع میں 120 کنٹین منٹ زون ہیں اور ان کنٹین منٹ زون سے مثبت معاملات کی تعداد بھی کم ہو گئی ہے ۔اُنہوں نے کہا کہ اِس وقت ضلع میں 45 برس عمر سے اوپر کی عمر کے 79 فیصد ہدف حاصل ہوچکا ہے اور توقع کی جارہی ہے کہ رواں ماہ کے آخر تک بقیہ عمر کے گروپ کا صد فیصد ہدف حاصل کیا جائے گا۔اُنہوں نے مزیدکہا ضلع میں اَب تک 18 برس عمر سے 44برس عمر تک کے 40,000اَفراد کو بھی کووِڈ حفاظتی ٹیکے لگائے گئے ہیں۔ڈی سی نے کہا کہ دیہی علاقوں کے عوام ضلع کی تمام 296 پنچایتوں میں حال ہی میں قائم کووِڈ کیئرنگ مراکز میں ٹیسٹ کے نمونے لینے کی سہولیت حاصل کر رہے ہیں۔
لوگ اپنی باری پر کووڈ ٹیکہ لگوائیں
متحدہ مجلس علما کی آن لائن مہم شروع
سرینگر//متحدہ مجلس علما نے شہر سرینگر سمیت وادی کشمیر میں COVID-19 کیخلاف عوام کی غالب اکثریت کا ٹیکہ نہ لگانے پر فکر و تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عوام پر پھر زورد یا ہے کہ وہ کورونا مخالف ٹیکہ کاری مہم میں بھر پور انداز سے حصہ لیکر اپنی اپنی باری پر ضرور ٹیکہ لگوائیں تاکہ جان لیوا اور مہلک کورونا وبا کو شکست دینے کے ساتھ ساتھ اپنے آپ ، اپنے خاندان اور سماج کو تحفظ فراہم کیا جاسکے۔بیان میں کہا گیا کہ مجلس علماء نے اپنے نظر بند رکھے گئے سرپرست اعلی میرواعظ عمر فاروق کی ہدایت پر اس حوالے سے عوام میں بیداری اور شعور پیدا کرنے میں آج سے باقاعدہ پوسٹرس اور سوشل میڈیا کے ذریعے تشہیری مہم کا آغاز کردیا ہے تاکہ عوام اس ضمن میں معاملے کی حساسیت اور سنگینی کا احساس اور ادراک کرتے ہوئے ہرگز غفلت اور کوتاہی نہ برتے۔بیان میں کہا گیا کہ مجلس کے فیصلے کے مطا بق کل18 جون 2021 جمعتہ المبارک کے موقعہ پر مساجد ، امام باڑوں ، خانقاہوں اور آستانوں کے ائمہ ، خطبا اور واعظین اپنے خطابات اور بیانات میں ٹیکہ لگانے کے تعلق سے عوام کو ترغیب دیں گے اور ان پر یہ واضح کریں گے کہ ٹیکہ کاری کا عمل نہ تو اسلامی تعلیمات کیخلاف ہے اور نہ ہی اس میں کوئی شرعی اور دینی قباحت ہے اور احتیاطی تدابیر اور دوا اور ویکسین لینا اور اختیار کرنا دین اسلام کی بنیادی تعلیمات کے عین مطابق ہے۔
چیونٹی مولہ میں محکمہ صحت کی ٹیم پر پتھرائو
کورونا مخالف ٹیکہ کاری مہم متاثر
بانڈی پورہ // عازم جان //چیونٹی مولہ گجر بستی بانڈی پورہ میںکورنا مخالف ٹیکہ لگانے والے محکمہ صحت کی ٹیم پرپتھرائو کرنے سے کئی ملازمین زخمی ہوئے ۔ ملرچونٹی مولہ کے دور دراز پسماندہ گجر بستیوں میں محکمہ صحت کے اہلکار پیدل پہنچ کر کئی روز سے ٹیکہ لگانے میں مصروف ہیں ۔چنانچہ جب جمعرات کو چونٹی مولہ گجر بستی کے بون محلہ میں محکمہ صحت کے اہلکار ٹیکہ لگا کے لئے پہنچے تواچانک ایک مکان میں رہ رہے کنبے کے سبھی افراد نے محکمہ صحت کے اہلکاروں کو برا بھلا کہہ کر بھاگنے کو کہا لیکن جب ٹیکہ لگانے والی ٹیم وہی ٹھہر کر ان کو سمجھانے کی کوشش کرنے لگی تو ان پرحملہ آور ہوکر پتھر برسائے جسکی وجہ سے اس بستی میں ٹیکہ کاری کی عمل نہیں ہوئی ہے اور محکمہ صحت کے کئی اہلکاروں کو چوٹیں آئی ہیں ۔بی ایم او بانڈی پورہ ڈاکٹر مسرت اقبال نے کہا کہ پتھر پھینک کر رخنہ ڈالنے والوں کے خلاف باضابطہ پولیس چوکی سملر میں ایف آئی آر درج کیا گیا ہے ۔