جموں//چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز جموں کی کال پر جموں اور ادھم پوراضلاع کے علاوہ ریاسی قصبہ میں مکمل بند رہا تاہم پیر پنچال اور چناب خطوں کے علاوہ سانبہ اور کٹھوعہ اضلاع میں بند کال کا کوئی اثر دیکھنے کو نہیں ملا۔چیمبر نے جموں میں ریلائنس پرچون سٹور کھولنے کے خلاف احتجاج کے لیے ایک دن کی بند کال دی تھی۔ اس کال کی حمایت سیاسی جماعتوں ، جموں ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن جموں اور مختلف تجارتی اداروں نے کی تھی۔جموں شہر میںکاروباری ادارے بند رہے ، اور پبلک ٹرانسپورٹ سڑکوں سے تقریباً غائب تھی تاہم نجی گاڑیوں کو آواجاہی جاری رہی۔جموں بھر میں تاجر تنظیموں کی جانب سے کئی پرامن احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔ بند کی کال پر بار ایسو سی ایشن کی حمایت کی وجہ سے عدالتوں میں کام بھی متاثر رہا۔جموں میں سی سی آئی کی جانب سے جموں بند کی کال کی وجہ سے وکلاء کو کہا گیا کہ وہ 22 ستمبر 2021 کو جموں کی تمام عدالتوں اور ٹربیونل میں کام سے دور رہیں۔مختلف تاجر انجمنوں نے مختلف مقامات پر جمع ہو کر احتجاج درج کئے اور ریلائنس اسٹور کھولنے کے خلاف نعرہ بازی کی۔احتجاجیوں کا کہنا تھا کہ دفعہ 370کی تنسیخ کے بعد وہ گوناگوں مشکلات سے دوچار ہیں اور شہر میں ریلائنس سٹور کھولنے کی خبریں ان مشکلات میں ایک اور اضافہ ہیں۔چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز جموں کے صدر ارن گپتا نے نامہ نگاروں کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ بند کا مقصد یونین ٹریٹری انتظامیہ پر دباؤ ڈالنا ہے تاکہ وہ تاجروں کو ستانے سے باز رہے ۔انہوں نے کہا کہ ہم نے تمام لوگوں سے اپیل کی تھی کہ وہ اس بند کال کو کامیاب بنائیں۔ان کا کہنا تھا کہ ہم مشکور ہیں کہ صوبے بھر میں بند کال کو کامیاب بنایا گیا اور ان علاقوں میں بھی بازار بند رہے جن کی ہمیں امید بھی نہیں تھی۔جموں و کشمیر نیشنل پینتھرس پارٹی اور کئی تجارتی انجمنوں نے سٹی میں جیو اسٹور کھولنے کے خلاف احتجاج بھی درج کیا ۔احتجاجی لوگوں نے بتایا اس اقدام سے لوگوں کی روزی روٹی متاثر ہو رہی ہے ۔انہوں نے کہا جموں کے لوگوں کو غیر ضروری طور تنگ طلب کیا جا رہا ہے ۔ پینتھرس پارٹی کے کارکنوں نے پارٹی لیڈر ہرش دیو سنگھ کی سربراہی میں احتجاج درج کرتے ہوئے سرکار کا پتلہ نذر آرتش کر دیا اور سرکار کے خلاف جم کر نعرہ بازی بھی کی۔اس موقع پر ہرش دیو سنگھ نے میڈیا کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی سرکار لگاتار جموں کے لوگوں کو نظر اندز کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت میں لوگوں کے جذبات کی کوئی قدر نہیں کی جا رہی ہے۔موصوف لیڈر نے کہا کہ جموں و کشمیر کے ریاستی درجے کو گھٹا کر ڈوگروں کی توہین کی گئی۔انہوں نے کہا کہ بے روز گار نوجوانوں کے ساتھ زیادتی کی جا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمارا کوئی سننے والا ہی نہیں ہے۔ان کا کہنا تھا کہ مہاراجہ ہری سنگھ کے جنم دن پر سرکاری چھٹی رکھنے کے صرف وعدے کئے جا رہے ہیں جبکہ اس کو عمل میں نہیں لایا جا رہا ہے۔جہاں جموں ضلع میں مکمل بند رہا وہیں ضلع سانبہ اور بڑی برہمنہ میں بازار کھلے رہے کیونکہ ضلع میں بند کا کوئی اثر نہیں ہوا۔اسی طرح ، ادھم پور قصبہ اور چوپڑا شاپ کے علاقے میں مکمل بند رہا ، حالانکہ شام کو بازار کھلنا شروع ہوگئے۔ رام نگر اور چنانی میں بند کا کوئی اثر نہیں ہوا ۔ دونوں اودھمپور ضلع میں پڑتے ہیں ۔ اس کے علاوہ ضلع کٹھوعہ میں بند کی کال کا کوئی اثر نہیں ہوا۔ اطلاعات کے مطابق ، ضلع ریاسی میں بند جزوی تھا کیونکہ پہاڑی علاقوں میں دکانیں کھلی رہیں جبکہ بند کی کال کی حمایت میں شہر میںدکانیں بند رہیں۔ادھر پیر پنچال کے جڑواں اضلاع راجوری اور پونچھ میںبند کا کوئی اثر نہیں رہا جبکہ چناب کے تین اضلاع رام بن ،ڈوڈہ اور کشتواڑ میں بھی بند کال بے اثر رہی ۔ڈوڈہ سے نامہ نگار اشتیاق ملک کے مطابق بند کی کال کا ڈوڈہ ضلع میں کوئی اثر دیکھنے کو نہیں ملا۔ جہاں ضلع بھر میں معمول کے مطابق تجارتی سرگرمیاں بحال رہیں وہیں سڑکوں پر بھی ٹریفک بدستور جاری رہا۔ اس معاملہ پر سیاسی جماعتوں نہ ہی تاجربرادری نے اپنے تاثرات کا اظہار کیا تاہم سوشل میڈیا پر کئی صارفین نے 'جموں بند' کو غیر مناسب قدم قرار دیتے ہوئے 'ریلائنس پرچون سٹورز' قائم کرنے کی حمائت کی۔ رام بن ڈوڈہ اور کشتواڑ کے تمام اہم قصبوں میں کاروبار جاری رہا ۔تمام کمرشل ادارے بشمول بنک کھلے نظر آئے جبکہ ٹریفک بھی معمول کے مطابق چلتا رہا۔