زندگی کے ماہ و سال کا حساب و کتاب رکھنے کیلئے مقررہ کیلنڈر کا ایک اور برس بیت گیا۔اس کلینڈر کے مطابق، جسے عیسوی کلینڈر کہا جاتا ہے،دنیا کے 2020سال بیت گئے ہیں۔حالانکہ دنیا نا معلوم برس سے چلتی آرہی ہے اور اس میں اور بھی کلینڈر رائج ہیں جو اپنے اپنے حساب سے ماہ و سال کا شمار رکھتے ہیں، لیکن عیسوی کلینڈر پر ساری انسانی دنیا کاروبار حیات چلا رہی ہے ، اس لئے یہی رائج العمل ہے اور اس میں کوئی قباحت نہیں۔
سال نو گذشتہ کا ماہ مارچ تھا جب وادی کشمیر میں کورونا وائرس کا پہلا کیس سامنے آیا۔چین کے شہر اُوہان میں ظاہر ہوئے اس مہلک وائرس نے پوری دنیا کی طرح اہل وادی کو بھی دہشت میں مبتلاء کیا اور خوف و ڈر کے مارے لوگ گھروں کے اندر قید ہوکر رہ گئے۔وبا ء کے ڈر سے ایک ہی گھر کے افراد الگ الگ رہنے لگے اور اگر کوئی شہری وائرس میں مبتلاء قرار پایا تو وہ کئی کئی ایام تک اس بھر پور دنیا کے اندر تنہا ہی پڑا رہا۔ پیدا صورتحال کے نتیجے میں کہیں کہیں مہلک وائرس سے موت کا شکار ہونے والی ماں کے جنازے کو بیٹے کا کاندھا نہیں ملا اور جواں سال فرزند کے جنازے میں باپ شامل نہیں ہوسکا۔
پابندیوں کے عادی کشمیری عوام نے اگر چہ اولین ایام میں سرکاری لاک ڈائون کا احترام کیا لیکن بعد میں وائرس سے متعلق’سازشی تھیوریوں‘ سے متاثر ہوکر آہستہ آہستہ لوگ گھروں سے باہر آنے لگے ،یہاں تک کہ عام لوگوں نے ماہرین کے احتیاطی مشوروں کو بھی خاطر میں نہیں لایا۔نتیجہ یہ کہ ایک لاکھ بیس ہزار کے آس پاس لوگ مہلک وائرس سے متاثر ہوگئے اور1890 افراداس وائرس کا شکار ہوکر لقمہ اجل بن گئے۔
کورونا لاک ڈائون کی وجہ سے جہاں کشمیر کے پہلے سے ہی کمزور اقتصادی سیکٹر کو بے پناہ نقصان کا سامنا کرنا پڑا وہیں تعلیمی نظام بھی درہم برہم ہوکر رہ گیا۔باقی ماندہ دنیا میں اگرچہ تیز رفتار انٹر نیٹ سروس کے طفیل طالبان علم آن لائن کلاسز سے کسی حد تک استفادہ کرتے رہے لیکن تنازع اور شورش میں نش و نما پانے والے کشمیری طالب علموں کو اس جدیدسروس سے بھی محروم ہی رہنا پڑا۔ یہاں کے طالبان علم کی تشویشناک تعلیمی حالت کا اندازہ اس حقیقت سے لگایا جاسکتا ہے کہ اُنہوں نے اگست2019سے تا ایں دم محض پندرہ دنوں تک کلاس روم دیکھے ہیں ۔دہائیوں سے کریک ڈائون، فورسز آپریشن، انکاونٹر جیسی اصطلاحات سے مانوس اہل وادی کو اب ماسک،قارنطین،سینی ٹائزر،سوشل ڈسٹنس جیسی اصطلاحات سے واسطہ پڑا، اور یوں سماجی زندگیاں اس قدر متاثر ہوئیں کہ تیمار داری، تعزیت پرسی اور خوشی کے اظہار کا سلسلہ بھی قابل ذکر حد تک منقطع ہوگیا۔
کورونا کی وبائی صورتحال نے تو پوری دنیا کو ہلاکے رکھ دیا، یہاں تک کہ اب بھی لوگ مخالف ٹیکے کی اُمید میں ہی حالات کا سامنا کررہے ہیں ۔وائرس سے پیدا وبائی صورتحال یا اس کی آڑ میں تاہم ہمارے یہاں کے مخصوص حالات میں لوگ بے حد یک و تنہا نظر آئے، اتنے تنہا کہ وہ ایک دوسرے کی ڈھارس بھی نہ بندھا سکے۔سال نو گذشتہ کے دوران یہاں کے میڈیا اداروں اور میڈیا سے وابستہ افراد کو جس انداز میں تنگ طلبی کا نشانہ بننا پڑا اُس میں مذکورہ ادارے اور افراد بھی تنہا ہی نظر آئے۔ کسی نے کسی کی مدد نہیں کی اور کسی نے کسی کے حق میں آواز بلند نہیں کی۔اس نفسا نفسی کے عالم میں کتنوں سے ’پوچھ تاچھ‘ہوئی اور کتنوں کیخلاف کیس درج ہوئے، وہ تو محض اعداد ہیں، حقیقت حال یہ ہے کہ سال2020میں کشمیری عوام کی روایتی یکجہتی کے حصے بخرے واضح طور پر سامنے آگئے اور اب حال یہ ہے کہ کسی کو کسی کی خبر نہیں۔اب یہاں کوئی کسی سے اظہار یکجہتی نہیں کرتا ہے اور نہ کسی کیلئے اپنے معمول کا کام چھوڑتا ہے۔ کون کیسے مرا اور کہاں دفن ہوا؟اب یہاں اس کی کسی کو فکرکوئی نہیں ۔کس کو کہاں سے اٹھاکر کہاں مقید رکھا گیا ہے اور کیوں؟یہ سوال بھی اب متعلقہ گھرانوں تک ہی محدود ہوکر رہ گیا ہے۔
گوکہ اس صورتحال کیلئے یہاں کے مخصوص حالات کار فرماہیں تاہم وباء کو بھی ہمارے یہاں اس طرح استعمال میں لایا گیا کہ ہم اپنے ہاں نفسا نفسی کے عالم کیلئے اسی کو ہی قصور وار قرار دے کر حالات کی بہتری کے منتظر ہیں ۔اس دوران راجوری کے مزدور شوپیان میں جاں بحق کئے گئے اور سینکڑوںمائوں کے جوان سال جگر پاروں اورخواتین سمیت سینکڑوں دیگر شہریوں کو دور دراز علاقو ںمیںپابند سلاسل بنایا گیا! اس میں بے شک وبائی صورتحال کا ہاتھ نہیں ہے ۔اصل میں کشمیر کو اپنے جس ’وبا‘ کا سامنا ہے وہ طبی نہیں بلکہ سیاسی نوعیت کا ہے اورجس نے گذشتہ سال بھی سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 225 ایسے افراد کو اپنا نوالہ بنالیا جنہیں عسکریت پسند، ملی ٹنٹ یا جنگجو کہا جاتا ہے۔اسی عرصہ کے دوران44فورسز اہلکاروں اور38عام شہریوں ،بشمول سیاسی کارکنان کی بھی جانیں چلی گئیں ۔سرکاری اعداد و شمار میں دعویٰ کیا جارہا ہے کہ سال نو گذشتہ کے دوران امن و امان کی صورتحال میںنمایاں بہتری آئی اور لا اینڈ آرڈر کے واقعات میں75فیصد تک کی کمی ریکارڈ کی گئی۔اس سال ایسے محض143واقعات ہی پیش آئے جبکہ سال2019میں ایسے واقعات کی تعداد584تھی۔
کورونا سے پیدا صورتحال کے نتیجے میں چونکہ 2020کی امرناتھ یاترا نہیں ہوسکی اس لئے کشمیر میں ’امن کا ٹھیک ٹھیک اندازہ‘ نہیں لگایا جاسکا ،تاہم سرکاری سطح پر ’امن کے اس پیمانے‘ کے متبادل کے طور بتایا جارہا ہے کہ کورونا لاک ڈاؤن کے پیش نظر پانچ ماہ تک ملتوی رہنے کے باوجود قریب 17 لاکھ یاتریوں نے 2020 کے دوران ضلع ریاسی کے قصبہ کٹرہ کی ترکوٹہ پہاڑیوں میں واقع ماتا ویشنو دیوی مندر کی یاترا کی۔
اسی ’امن ‘کی دین ہے کہ سال نو گذشتہ کے آخری ماہ کے اندر ضلعی ترقیاتی کونسل کے انتخابات مکمل کرکے جمو ںکشمیر میں جمہوریت کو بقول حکام گراس روٹ سطح تک پہنچایا گیا۔ شاید ’قیام امن کیلئے‘ ہی تقریباً سال بھرچھاپوں اور گرفتاریوں کا عمل چلتا رہا جن میں نہ صرف ’ملک وقوم دشمنوں‘ بلکہ حکومت کے سابق شراکت داروں کو بھی نہیں بخشا گیا۔اب ان سابق حکمرانوں پر اُسی طرح کے الزامات عائد کئے جارہے ہیں جو وہ اپنے اپنے ادوارِ حکمرانی کے دوران اپنے سیاسی مخالفین پر عائد کیا کرتے تھے۔سال بھر پولیس بھی کافی سرگرم رہی اور شاید ہی ایسا کوئی دن رہا جب پولیس دعوئوں کے مطابق ’اعانت کاروں‘کی گرفتاریاں عمل میں نہ لائی گئیں۔’اعانت کار‘ کی اصطلاح بھی اب ہمارے یہاں کھل کر استعمال کی جارہی ہے۔کسی کو سرکاری طور’اعانت کار ‘قرار دیا جارہا ہے اور کسی کو سرکار کا ’اعانت کار‘، یعنی ایک کشاکش کا ماحول ہے جس میں ’اعانت کاری‘ ایک جرم ہے، اب اس کے کسی مجرم کو عملی سزا مل رہی ہے اور کوئی چھوٹ رہا ہے۔
وادی کشمیر میں سرکاری سطح پراگر چہ سال بھر ’امن کی دیوی‘ کی پوجا ہوتی رہی لیکن ہند۔پاک اور بھارت چین کشیدگی کا وائرس کنٹرول لائن اورحقیقی کنٹرول لائن پر سال بھر سرگرم رہا۔ اتنا سرگرم کہ لداخ میں بھارت کے کم سے کم بیس فورسز اہلکار اس کی بھینٹ چڑھ گئے اور گلوان وادی کے بعد بچی کھچی فنگرس کا دفاع کرنے کیلئے بھارت کو 50ہزار فوجی اہلکاروں کو جنگی حالت میں تعینات کرنا پڑا۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق سال نو گذشتہ میںکنٹرول لائن پر جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزیوں کے واقعات کی تعداد میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی۔ان واقعات کے نتیجے میں شہریوں کے جان و مال سے محروم ہونے کا سلسلہ بھی جاری رہاتاہم سرکاری طور پر بتایا گیا کہ اس عرصہ کے دوران در اندازی کے واقعات میں نمایاں کمی وقع ہوئی، البتہ سرکاری ذرائع کے مطابق کنٹرول لائن کے اس پار ڈرونز کے ذریعے ہتھیار پہنچانے کے کچھ واقعات نے ایک نئی دفاعی صورتحال پیدا کی۔
جموں کشمیر میں سال نو گذشتہ کواس اعتبار سے بھی یاد رکھا جائے گا کہ اس میں یہاں کی بڑی سیاسی جماعتوں نے پہلی بار نئی دلی کے اقدامات کیخلاف ایک اتحاد عمل میں لایا۔24اکتوبر کو عوامی اتحاد برائے گپکار اعلامیہ نامی اس اتحاد نے اپنے قیام کے وقت وعدہ کیا کہ ایک ماہ کے اندرایک وائٹ پیپر جاری کیا جائے گا جس میں بقول اتحاد جموں کشمیر کو خصوصی پوزیشن سے محروم کئے جانے کے فیصلے کو غلط ثابت کیا جائے گا ۔البتہ سال گذرنے کے باوجود عوامی اتحاد کا یہ پہلا وعدہ پورا نہیں ہوا۔ اس کے برعکس اتحاد کے لیڈران روایتی الیکشن سیاست میں مصروف ہوکرڈی ڈی سی انتخابات میں اُلجھ کر رہ گئے ۔ اس سے قبل اتحاد کے لیڈران بشمول فاروق عبد اللہ، محبوبہ مفتی اور عمر عبد اللہ سمیت اُن سبھی مین اسٹریم سیاست دانوں کی رہائی عمل میں لائی گئی جنہیں اگست2019فیصلہ کے تناظر میں گرفتار کیا گیا تھا۔دوسری طرف اتحاد کی سرگرمیوں سے متاثر ہوئے بغیر نئی دلی سرکار نے27اکتوبر کو جموں کشمیر میں زمین سے متعلق تیسرا قانون پاس کرکے ملک کے سبھی شہریوں کیلئے یہاں غیر منقولہ جائدادیں خریدنے کی راہ ہموار کرلی۔ مرکزی سرکار کے اس اقدام پر تبصرہ کرتے ہوئے معروف تجزیہ نگار اے جی نورانی نے لکھا’’ پیپلز الائنس فار گپکار ڈکلریشن کو مرکز کے جابرانہ قوانین کو لیکر ’بلیک بک‘ جاری کرنی چاہئے‘‘۔
بھارت میں اگر چہ کورونا وائرس کی موجودگی کے آثار ماہ جنوری میں ہی ملنے لگے تاہم اس کی طرف عالمی پولیس مین امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور اس کے اہل خانہ کے دورے کے پیش نظر دھیان نہیں دی گئی یہاں تک کہ ٹرمپ فروری کے آخری ہفتے میں ’اپنے دوست ‘ وزیر اعظم نریندر مودوی کے ساتھ احمد آباد کے موٹیرا سٹیڈیم میں نظر آئے۔یہاں عوام کی بھاری تعداد’ ٹرمپ۔مودی ٹی شرٹس‘ میںملبوس استقبال کیلئے جمع ہوئی تھی۔ ٹرمپ نے اپنی تقریر میں بھارتی شہریوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا’’تم کرکٹ کھیلتے ہو، دیوالی مناتے ہو اور بالی ووڈ فلمیں بناتے ہو‘‘۔بقول عالمی شہرت یافتہ مصنفہ اُرندھتی رائے’’ہم اپنے بارے میں سن کر خوش ہورہے تھے اور صدر ٹرمپ بین السطور ہمیں تین بلین امریکی ڈالر قیمت کے ہیلی کاپٹر بیچ رہے تھے‘‘۔مبصرین و تجزیہ نگارصدر ٹرمپ کے مذکورہ بھارتی دورے کو دور رس نتائج کا حامل قرار دیتے رہے اور بعد میں نئی دلی، تل ابیب اور واشنگٹن کے مابین اسٹریٹیجک سرگرمیوں کے عملی مظاہرے ساری دنیا نے دیکھ لئے۔ بھارت اورامریکہ بعد میں کورونا وائرس سے متاثرہ ممالک کی فہرست میں اول اور دوم مقام پر پہنچ گئے ۔ابھی جب نئے سال کے آغاز پردونوں ممالک کے ساتھ ساتھ ساری دنیا کورونا مخالف ٹیکہ کاری کا بڑی بے صبری سے انتظار کررہی ہے، جنوبی کشمیر میںمشتاق احمد نامی شہری ایک قبر کھودنے میں مصروف تھا۔اپنے جوان سال بیٹے اطہر کی لاش کے منتظرمشتاق کی دنیا اُس وقت لُٹ گئی جب اُسے حکام سے پتہ چلا کہ اطہر سرینگر میں اپنے دیگر دو ساتھیوں سمیت فورسز کے ساتھ ایک انکاونٹر کے دوران جاں بحق ہوگیا ہے!