عاصف بٹ
بھدرواہ//بھدرواہ میں پیش آئے افسوسناک سانحہ کے خلاف کشتواڑ ضلع میں ہفتہ کے روز مکمل بند دیکھا گیا، جس کے باعث پورے ضلع میں معمولاتِ زندگی بری طرح متاثر رہے۔ مرکزی مجلس شورئ کی جانب سے بند کی کال پر تاجروں، ٹرانسپورٹروں اور عام عوام نے بھرپور ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کاروباری سرگرمیاں مکمل طور پر معطل رکھیں۔ تفصیلات کے مطابق، صبح سویرے ہی کشتواڑ کے مرکزی بازار، چھاترو، ٹھکرائی، ڈیڈھ پیٹھ ، درابشالہ اور دیگر علاقوں میں دکانیں بند رہیں جبکہ سڑکوں پر ٹرانسپورٹ کی نقل و حرکت بھی نہ ہونے کے برابر رہی۔ نجی و سرکاری گاڑیاں بھی کم ہی سڑکوں پر نظر آئیں، جس سے پورا ضلع سنسان دکھائی دیا۔ مقامی تنظیموں اور سماجی حلقوں نے بھدرواہ واقعہ کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے انتہائی افسوسناک اور قابلِ تشویش قرار دیا۔ مقررین کا کہنا تھا کہ ایسے واقعات نہ صرف انسانی جانوں کے ضیاع کا باعث بنتے ہیں بلکہ سماج میں خوف و ہراس کی فضا بھی پیدا کرتے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ واقعہ کی غیر جانبدارانہ اور اعلیٰ سطحی تحقیقات کرائی جائے اور ملوث افراد کو جلد از جلد گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔ بند کے دوران کسی بھی ناخوشگوار واقعہ سے نمٹنے کے لیے سیکورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے اور اہم مقامات پر پولیس و نیم فوجی دستے تعینات رہے۔ حکام کے مطابق صورتحال مکمل طور پر پُرامن رہی اور کسی قسم کی بدنظمی کی اطلاع نہیں ملی۔ عوامی حلقوں نے انتظامیہ سے اپیل کی ہے کہ ایسے حساس معاملات میں فوری اور موثر کارروائی کو یقینی بنایا جائے تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام ممکن بنائی جا سکے۔ شوری نے تقریباً تین ماہ قبل رام بن میں پیش آئے ایک جان لیوا واقعہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس معاملے میں بھی جوابدہی سے متعلق خدشات اب تک برقرار ہیں۔ مجلسِ شوریٰ نے انتظامیہ پر زور دیا کہ ایسے تمام واقعات کی شفاف اور منصفانہ تحقیقات کو یقینی بنایا جائے تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو سکے۔