شمع فروزاں
مقصوداحمدضیائی
خطہِ پیر پنچال کے افقِ تعلیمی و فکری پر جلوہ افروز، مردم خیز دھرتی کے مایہ ناز رجال ساز عبقری اور محسنِ قوم و ملت حضرت الاستاذ مولانا غلام قادر مدظلہ العالی کی جلیل القدر اور سحر انگیز شخصیت کسی روایتی تعارف کی محتاج نہیں ہے، جن کا مطلعِ حیات سنہ 1944ء میں ضلع پونچھ کے سرحدی گاؤں گوتریاں (موضع مندھار) میں خواجہ حبیب جو بانڈےکے گھر طلوع ہوا اور آگے چل کر آپ کا شمار ازہرِ ہند دارالعلوم دیوبند کے مایہ نازاور لائقِ صد ناز فضلاء میں ہوا۔ فراغتِ تعلیم کے بعد آپ نے کارزارِ حیات اور میدانِ عمل میں قدم رکھا تو مسلسل پانچ برس تک میوات کی معروف دانش گاہ جامعہ محمدیہ میل کھڑیلا میں بحیثیت صدر المدرسین اپنی تدریسی صلاحیتوں کے وہ جوہر بکھیرے جن پر علمی حلقے آج بھی تشنۂ ستائش ہیں۔
قدرتِ کاملہ نے آپ کی ذاتِ والا صفات کو حسنِ تقریر، شکوہِ تحریر، ندرتِ تدریس اور کمالِ انتظام و انصرام کی چاروں مقتدر خوبیوں سے یکساں طور پر مالامال فرمایا ہے اور آپ ہی اس وادی کے قدیم، عظیم اور تاریخی علمی مرکز ’’جامعہ ضیاء العلوم پونچھ‘‘ کے بانی و مبانی ہیں، جو کسی تعارف کا محتاج نہیں اور جہاں تعلیمی نظام کے تحت دینیات، ناظرہ ، حفظِ کلامِ ربانی، فارسی اور عربی اول سے لے کر دورۂ حدیث شریف تک کا استوار نظم قائم ہے جہاں اس وقت بھی صدہا طالبانِ علم اپنی پیاس بجھا رہے ہیں۔
جامعہ کا دوسرا بڑا شاہکار شعبۂ تعلیمِ نسواں کا مرکزی ادارہ ’’جامعۃ الطیبات‘‘ ہے جہاں سینکڑوں طالبات زیورِ علم سے آراستہ ہو رہی ہیں، جبکہ تیسرا مقتدر شعبہ علومِ عصریہ (جدید تعلیم) کا ہے جہاں ہزاروں کی تعداد میں نونہالانِ ملت بیک وقت دینی اور عصری علوم کے حسین انتزاع سے اپنے مستبقل کو تابناک بنا رہے ہیں۔ ان تعلیمی گلستانوں کے علاوہ تنظیم المکاتب، تنظیم المساجد اور فلاحی و رفاہی ادارہ ’’تنظیم امداد المستحقین‘‘ بھی آپ ہی کے زیرِ سایہ اور زیرِ اثر پسماندہ مخلوقِ خدا کی خدمت میں مصروفِ عمل ہیں۔ بانیِ جامعہ حضرت مولانا غلام قادر پیرانہ سالی اور جسمانی اضمحلال کے باوجود آج بھی عزمِ صمیم اور ہمتِ جواں کے ساتھ مسندِ اہتمام پر جلوہ فرما ہیں اور بلاشبہ آپ اپنے عہد کے کامیاب ترین اور مثالی منتظم اور ذی استعداد استاذ قرار پائے ہیں۔
جن کی مخلصانہ خدمات شش جہت پھیلی ہوئی ہیں۔ خطہ کے مسلمانوں کو ملتِ واحدہ بنانے اور باہمی شیرازہ بندی کے لیے ’’تنظیم علماء اہل السنہ والجماعة پونچھ‘‘ جیسا اہم ترین اور باوقار متحدہ پلیٹ فارم بھی آپ ہی کا قائم کردہ ہے، جس کے اس وقت آپ خود سرپرستِ اعلیٰ ہیں جبکہ اس کے مسندِ صدارت پر آپ کے نقشِ جمیل، ہونہار اور فخرِ خلف صاحبزادے مولانا سعید احمد حبیب صاحب فائز ہیں، جو اپنے عظیم والدِ گرامی کے ادھورے خوابوں کی سچی اور مجسم تعبیر ثابت ہو رہے ہیں۔ حکیم الامت کے فلسفۂ حرکت و عمل کے مطابق ’’گرم دمِ جستجو‘‘ آپ کی شخصیت کا طُرّۂ امتیاز ہے اور یہی وجہ ہے کہ جامعہ ضیاء العلوم کا فیضِ عام آج دور دور تک محیط ہے اور یہاں کے فارغ التحصیل فضلاء کرام دنیا بھر کے مختلف میدانوں میں باوقار اور ممتاز طور پر دین و ملت کی باگ ڈور سنبھالے ہوئے ہیں۔
مولانا غلام قادر صاحب سچے معنوں میں ایک رجال ساز عبقری (شخصیت ساز انسان) ہیں اور کاتبِ حروف کی یہ بہت بڑی خوش نصیبی اور ابدی سرمایۂ افتخار ہے کہ مجھے حضرت والا کے زیرِ سایہ تحصیلِ علم اور تدریسی خدمات کا نادر شرف حاصل رہا ہے اور میں نے آپ کی صحبتِ فیض اثر اور آغوشِ شفقت میں علم و حکمت کے بے بہا موتی پائے ہیں۔ آپ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ اور جمیعت علماء ہندوستان جیسے ملک کے موقر اور مقتدر ترین اداروں کے معزز رکن بھی ہیں اور قدرت نے اس خطے میں آپ کی ذات سے تاریخ ساز کام لیا ہے۔ بلاشبہ آپ جماعت کے ستونِ اعظم اور ملت کے پاسبان ہیں اور اگرچہ میدانِ عمل میں آپ کو متعدد بار مصائب، آزمائشوں، مشکلات اور شدید آلام سے بھی سابقہ پڑا، مگر آپ کے حوصلے ہمیشہ ہمالیہ کی طرح سربلند اور چٹان کی طرح مضبوط رہے اور آج آپ کی وہ تمام دیرینہ مخلصانہ قربانیاں اور خونِ جگر رنگ لا رہا ہے، جس کے لیے آپ اور آپ کے تمام مخلص و جانثار رفقائے کار مبارکبادی اور لائقِ صد تحسین ہیں۔الحاصل سچ یہ ہے کہ شیخِ مکرم دامت برکاتہم العالیہ کا یہ طویل سفرِ عزیمت معنویت کے اعتبار سے اس قدر ہمہ جہت اور پُرشکوہ ہے کہ اس کا کماحقہ احاطہ کرنا الفاظ کے بس میں نہیں؛ پس باری تعالیٰ سے یہی التجا ہے کہ وہ آپ کے سایہ عاطفت کو تادیر صحت و عافیت کے ساتھ قائم و دائم رکھے، ان مخلصانہ اور پرسوز دعائیہ کلمات کے بعد راقم کا خامۂ حق نگار حکیم الامت علامہ اقبال کے اس تاریخی اور لافانی شعر پر رخصت ہوا چاہتا ہے:
ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا