جموں //ریاستی سرکار نے کہا ہے کہ پچھلے تین برسوں کے دوران833226یاتریوں نے امرناتھ گھپا کے درشن کئے ہیں اور اس دوران محکمہ ہیلتھ کشمیر نے 495000یاتریوں کا علاج ومعالجہ کیا ہے ۔قانون ساز اسمبلی میں نیشنل کانفرنس کے سینئر لیڈراور ممبر اسمبلی کنگن کے ایک سوال کے تحریری جواب میں محکمہ صحت کے وزیر بالی بھگت نے کہا کہ سب سے زیادہ یاتری سال2015میں اس گھپا کے درشن کیلئے آئے ہیں جن کی تعداد 3,52,771تھی جبکہ سال2016میں 2,20,490یاتریوں نے گھپا کے درشن کئے اور اس سال میں یاتریوں کی تعداد میں کمی آئی تاہم سال2017میں2,60003یاتری گھپا کے درشن کیلئے امرناتھ پہنچے ۔وزیر نے بتایا کہ یاتریوں کیلئے طبی سہولیات کا بھی بندوبست رکھا گیا تھا۔اعدادوشمار پیش کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سال2017میں کشمیر وادی میں 1,97,000 یاتریوں کا علاج ومعالجہ اوپی ڈی میں کیا گیا جبکہ سال2016میں 1,24,000اور سال2015میں 1,74000یاتریوں کا علاج ومعالجہ کیا گیا ہے ۔اسی طرح جموں میں مالی سال2016.17میں 89311اور مالی سال2017.18میں 89823یاتریوں کا علاج ومعالجہ محکمہ صحت کے تحت آنے والے مختلف ہسپتالوں میں کیا گیا ہے ۔ وزیر نے بتایا کہ گھپا کے درشن کے دوران سال2017میں 8,125 یاتری گھپا کے درشن کے دوران زخمی ہوئے ہیں جبکہ سال2016میں6,348اور سال 2015میں 12,528 یاتری زخمی ہوئے ہیں جن کا علاج ومعالجہ کیا گیا ہے ۔وزیر نے مزید بتایا کہ یاتریوں کی ایک بڑی تعداد نے سرکار کی جانب سے قائم کئے گے AYUSHکیمپوں میں بھی پنا ہ لی ۔انہوں نے اعداد وشمار پیش کرتے ہوئے کہا کہ سال2017میں 23,161،اور2016میں 49640یاتریوں نے اس سہولیات کا فائدہ اٹھایا ۔بالی بھگت نے کہا کہ امرناتھ گھپا کے درشن کو جانے والے یاتریوں کیلئے معقول طبی بندبست کیا گیا ہے اور راستے میں انہیں طبی سہولیات کے حوالے سے کوئی بھی مشکلات درپیش نہیں ہوتی ۔