عظمیٰ نیوزسروس
جموں//چناب ریل برج، جموں اور کشمیر کے ریاسی ضلع میں واقع دنیا کا سب سے اونچا ریلوے آرچ پل، اس وقت امرناتھ یاتریوں کے لیے ایک بڑا کشش ہے۔ ملک بھر سے ہزاروں یاتری اپنے مذہبی سفر کے دوران انجینئرنگ کے اس تاریخی کارنامے کو دیکھنے کے لیے رکے ہوئے ہیں اور اپنے کیمروں سے اس کی تصاویر اور ویڈیوز کھینچ رہے ہیں۔ یاتریوں کا کہنا ہے کہ ہمالیہ کے دشوار گزار خطوں اور مشکل موسمی حالات کے باوجود انجینئروں اور کارکنوں نے جس تندہی سے اس پل کو تعمیر کیا، وہ ملک کی انجینئرنگ کی صلاحیت کی روشن مثال ہے۔عقیدت مندوں کا کہنا ہے کہ چناب ریل پل نے ان کی امرناتھ یاترا کے تجربے کو اور بھی یادگار بنا دیا ہے۔ یہ پل اب روحانی سیاحت، جدید انفراسٹرکچر اور جموں و کشمیر کے قدرتی حسن کے ایک منفرد سنگم کے طور پر ابھر رہا ہے۔امرناتھ یاترا کے آغاز کے بعد سے چناب ریل پل پر سیاحوں اور یاتریوں کی مسلسل آمد و رفت دیکھی جا رہی ہے۔ اس تاریخی پل نے ریاسی ضلع کی سیاحت کی اپیل کو بھی بڑھایا ہے۔وی او آئی کے مطابق جموں و کشمیر میں امرناتھ یاترا ہمیشہ سے مذہبی عقیدت، قومی یکجہتی اور انتظامی صلاحیت کا مظہر رہی ہے، لیکن اس سال ایک نئی بات نے یاتریوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کرائی ہے۔ ریاسی ضلع میں دریائے چناب پر تعمیر ہونے والا دنیا کا بلند ترین ریلوے آرچ پل اب صرف ایک بنیادی ڈھانچے کا منصوبہ نہیں رہا بلکہ امرناتھ یاترا کا ایک اہم مرکزِ توجہ بھی بن چکا ہے۔ ملک کے مختلف حصوں سے آنے والے ہزاروں عقیدت مند اس تاریخی پل کو قریب سے دیکھنے، اس کی تصاویر محفوظ کرنے اور اس عظیم انجینئرنگ کارنامے کو سراہنے کے لیے رک رہے ہیں۔ یہ منظر اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ جدید ترقیاتی منصوبے نہ صرف عوامی سہولت میں اضافہ کرتے ہیں بلکہ سیاحت اور علاقائی معیشت کو بھی نئی توانائی بخشتے ہیں۔چناب ریل پل کی تعمیر انتہائی دشوار گزار جغرافیائی حالات، سخت موسمی چیلنجوں اور پیچیدہ تکنیکی تقاضوں کے باوجود مکمل کی گئی۔ یہ منصوبہ اس بات کا ثبوت ہے کہ مضبوط منصوبہ بندی، جدید ٹیکنالوجی اور ماہر افرادی قوت کے ذریعے مشکل ترین اہداف بھی حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج یہ پل صرف ریل رابطے کا ذریعہ نہیں بلکہ ملک کی انجینئرنگ مہارت، عزم اور ترقی پسند سوچ کی علامت بن گیا ہے۔امرناتھ یاترا کے دوران اس پل کی بڑھتی ہوئی مقبولیت سے ایک اور اہم پہلو بھی سامنے آیا ہے۔ مذہبی سیاحت کے ساتھ انفراسٹرکچر سیاحت کا تصور اب جموں و کشمیر میں بھی فروغ پا رہا ہے۔ یاتری جب مقدس غار کے سفر کے ساتھ اس عظیم پل کا مشاہدہ کرتے ہیں تو ان کی یاترا ایک نئے تجربے میں بدل جاتی ہے۔ اس سے نہ صرف ریاسی ضلع کی شناخت مضبوط ہو رہی ہے بلکہ مقامی کاروبار، ٹرانسپورٹ، ہوٹلوں اور دیگر خدمات کو بھی فائدہ پہنچنے کی امید ہے۔ اگر اس موقع سے دانشمندی کے ساتھ فائدہ اٹھایا جائے تو مستقبل میں یہ علاقہ ملکی اور بین الاقوامی سیاحوں کے لیے مزید پرکشش بن سکتا ہے۔اس کے ساتھ ساتھ امرناتھ یاترا کے دوران حفاظتی اور طبی انتظامات بھی قابلِ توجہ ہیں۔ قومی شاہراہ پر حفاظتی دستوں کی مسلسل نگرانی، طبی کیمپوں کا قیام، ایمبولینس خدمات اور ہنگامی طبی سہولیات اس امر کی نشاندہی کرتی ہیں کہ لاکھوں یاتریوں کی جان و مال کے تحفظ کو اولین ترجیح دی جا رہی ہے۔ ایسے اقدامات کسی بھی بڑے مذہبی اجتماع کی کامیابی کے لیے ناگزیر ہوتے ہیں اور ان کا تسلسل برقرار رہنا چاہیے۔تاہم ترقی کا حقیقی مفہوم صرف بڑے منصوبوں کی تکمیل تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ ضروری ہے کہ ایسے بنیادی ڈھانچے سے مقامی آبادی کو بھی براہِ راست فائدہ پہنچے۔ بہتر سڑکیں، روزگار کے نئے مواقع، سیاحتی سہولیات، ماحولیات کا تحفظ اور مقامی نوجوانوں کی تربیت جیسے شعبوں پر بھی یکساں توجہ دی جائے تاکہ ترقی کے ثمرات ہر طبقے تک پہنچ سکیں۔چناب ریل پل اس حقیقت کی روشن مثال ہے کہ جب ویژن، منصوبہ بندی اور مسلسل محنت یکجا ہو جائیں تو ناممکن دکھائی دینے والے خواب بھی حقیقت کا روپ دھار لیتے ہیں۔ آج یہ پل صرف فولاد اور کنکریٹ کا ڈھانچہ نہیں بلکہ ایک نئے، مربوط اور ترقی یافتہ جموں و کشمیر کی امید، اعتماد اور امکانات کی علامت بن چکا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس کامیابی کو مزید ترقیاتی منصوبوں، پائیدار سیاحت اور عوامی فلاح کے ساتھ جوڑ کر خطے کی مجموعی ترقی کا ذریعہ بنایا جائے، تاکہ آنے والے برسوں میں جموں و کشمیر مذہبی، سیاحتی اور اقتصادی اعتبار سے مزید مضبوط اور خوشحال بن سکے۔