ڈاکٹر جتیندر سنگھ کا 10تا 19ستمبر خصوصی مہم چلانے کا اعلان
عظمیٰ نیوز سروس
نئی دہلی//مرکزی وزیر مملکت (آزادانہ چارج) برائے سائنس و ٹیکنالوجی، ارضیاتی سائنسز اور وزیر مملکت برائے وزیراعظم کا دفتر، عملہ، عوامی شکایات، پنشن، ایٹمی توانائی و خلائی امور ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے 10 سے 19 ستمبر 2026 تک ملک بھر کے ساحلی علاقوں میں “سوچھ ساگر، سرکشت ساگر” کے عنوان سے قومی سطح کی ساحلی صفائی مہم چلانے کا اعلان کیا۔نئی دہلی میں سی ایس آئی آر سائنس سینٹر میں سائنس سے متعلق مختلف مرکزی وزارتوں اور محکموں کے سیکریٹریوں اور سینئر افسران کے اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ قومی ترجیحات کو تیزی سے پورا کرنے کے لیے تمام سائنسی اداروں کے درمیان مؤثر ہم آہنگی ناگزیر ہے۔انہوں نے کہا کہ “سوچھ ساگر، سرکشت ساگر” مہم کے دوران سائنسی ادارے، سرکاری ایجنسیاں، رضاکار، تعلیمی ادارے اور مقامی کمیونٹیز مشترکہ طور پر ملک کی سب سے بڑی ساحلی صفائی مہمات میں سے ایک کو کامیاب بنانے میں اپنا کردار ادا کریں گے۔ ان کے مطابق اس مہم کا مقصد ساحلی ماحول کا تحفظ، عوامی بیداری میں اضافہ اور عوامی شمولیت کو فروغ دینا ہے۔اجلاس میں حکومت ہند کے پرنسپل سائنٹیفک ایڈوائزر پروفیسر اجے کمار سود، محکمہ سائنس و ٹیکنالوجی کے سیکریٹری پروفیسر اُمیش وی واگھمارے، محکمہ بایوٹیکنالوجی کے سیکریٹری ڈاکٹر راجیش ایس گوکھلے، محکمہ سائنسی و صنعتی تحقیق اور وزارت ارضیاتی سائنسز کی سیکریٹری ڈاکٹر این کلاسیلوی سمیت مختلف سائنسی اداروں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے گزشتہ اجلاس میں لیے گئے فیصلوں پر عمل درآمد کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ سائنسی محکموں کو الگ الگ اداروں کے بجائے ایک مربوط نظام کے طور پر کام کرنا چاہیے تاکہ تحقیق، اختراع، اچھی حکمرانی اور عوامی فلاح کے اہداف زیادہ مؤثر انداز میں حاصل کیے جا سکیں۔اجلاس میں گزشتہ بارہ برسوں کے دوران سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبے میں حاصل کی گئی کامیابیوں کو عوام تک پہنچانے کے لیے مختلف وزارتوں کی ابلاغی حکمت عملی کا بھی جائزہ لیا گیا۔ اس سلسلے میں ویڈیوز، ڈاکومنٹریز، انفوگرافکس، کامیابیوں کی کہانیاں اور ڈیجیٹل مہمات کے ذریعے سائنسی ترقی کو عام لوگوں تک پہنچانے پر زور دیا گیا۔محکمہ سائنس و ٹیکنالوجی نے انوسندھان نیشنل ریسرچ فاؤنڈیشن (ANRF)، نیشنل کوانٹم مشن، نیشنل مشن آن انٹرڈسپلنری سائبر فزیکل سسٹمز اور دیگر قومی پروگراموں سے متعلق عوامی بیداری منصوبہ پیش کیا، جبکہ سی ایس آئی آر نے اپنی بارہ سالہ کامیابیوں پر مشتمل خصوصی اشاعت جاری کرنے کے منصوبے سے آگاہ کیا۔محکمہ بایوٹیکنالوجی نے بتایا کہ عوام میں سائنسی شعور بیدار کرنے کے لیے #DBTQuest مہم شروع کی گئی ہے، جس کے ذریعے صحت عامہ، بایو اکانومی، جینومکس، زرعی بایوٹیکنالوجی، تحقیق اور پائیدار ترقی سے متعلق معلومات عام کی جا رہی ہیں۔اجلاس میں سی ایس آئی آر، اسرو، ڈی ایس ٹی، ڈی بی ٹی، بارک اور دیگر سائنسی اداروں کے درمیان مشترکہ تحقیقی منصوبوں، نئی ٹیکنالوجی کی ترقی، طبی تحقیق، اختراعی پروگراموں اور شمال مشرقی خطے کے لیے مشترکہ اقدامات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ بھارت کا سائنسی نظام ایک نئے دور میں داخل ہو چکا ہے، جہاں تحقیقی معیار، تکنیکی اختراع، ادارہ جاتی تعاون اور عوامی شمولیت کو یکجا کر کے ملک کی ترقیاتی ضروریات کے مطابق آگے بڑھایا جا رہا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سائنس کو عوام کے مزید قریب لانا اور اس کے فوائد کو ہر شہری تک پہنچانا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔