عاصف بٹ+اشتیاق ملک+محمد تسکین
جموں//ہفتہ کی رات مسلسل دوسری رات ہونے والی شدید برفباری کے باعث جموں صوبے کے مشہور سیاحتی مقامات پتنی ٹاپ، نتھاٹاپ، سناسر اور بٹوت کے علاوہ بانہال، گول اور دیگر بالائی علاقوں میں معمولاتِ زندگی مفلوج ہو کر رہ گئے ہیں۔جموں خطے کے بیشتر بالائی علاقوں، بشمول بھدرواہ میں جمعہ کے روز درمیانی سے شدید برفباری ریکارڈ کی گئی، جبکہ جموں شہر سمیت میدانی علاقوں میں بارشوں نے دو ماہ سے زائد عرصے پر محیط خشک موسم کا خاتمہ کر دیا۔جموں کے بعض علاقوں جیسے راجوری شہر اور ڈوڈہ و ادھم پور کے کچھ حصوں میں ایک دہائی سے زائد عرصے کے بعد برفباری دیکھنے کو ملی، جس سے عوام میں ملا جلا ردعمل سامنے آیا۔
کشتواڑ
ضلع بھر میں 20گھنٹے تک جاری رہنے والی شدید برفباری کے بعد موسم میں واضح بہتری آ گئی اور سنیچر کو آسمان صاف ہونا شروع ہو گیا۔ضلع کےمیدانی علاقوں میں ایک سے ڈیڑھ فٹ جبکہ بالائی اور پہاڑی علاقوں میں تین سے چار فٹ تک برف ریکارڈ کی گئی۔ سب ڈویژن مڑواہ کے مڑواہ ،واڑون و دچھن میں تین سے پانچ فٹ تک برفباری ہوئی ۔انتظامیہ نے اندرونی سڑکوں پر برف ہٹانےکیلئے مشینری کو لگادیاہے تاہم بیشتر سڑکیں ہنوز بند ہیں۔ چھاترو سب ڈویژن میں بھی بھاری برفباری کے سبب عام زندگی مفلوج ہوچکی ہے۔چند سڑکوں کو چھوڑ دیگر سبھی سڑک رابطے بند پڑے ہوئےہیں جبکہ دوسرے روز بھی علاقوں میں بجلی سپلائی بحال نہ ہوسکی۔ وٹسر ،دیچھر،چنگام، ڈانگرنالہ، آلوفارم میں تین فٹ سے زائدبرفباری ہوئی۔سب ڈویژن پاڈر میں بھی بجلی پانی و سڑک کا نظام بدستور متاثر رہاہے جسے بحال کرنے کا کام جاری ہے۔درابشالہ، سروڈ ،بونجواہ کا حال بھی یکساں ہے جہاں بھاری برفباری کی اطلاع ملی ہے۔یہ سبھی علاقےگھپ اندھیرے میں ڈوبے ہوئے ہیں۔میدانی علاقوں میں ا یک سے ڈیڑھ فٹ تک برفبای ریکارڈ کی گئی ہے۔اگرچہ شہر میں بجلی کا نظام سنیچر کی بعد دوپہر بڑی حد تک بحال کر دیا گیا تاہم شہر سے باہر تقریباً تمام دیہات میں بجلی سپلائی ہنوز مفلوج ہے۔حکام نے بتایا کہ بحالی کاکام مسلسل جاری ہے۔اس دوران کشتواڑ بٹوت قومی شاہرہ دوسرے روز بھی آمدرفت کیلئے بند رہی۔متعدد مقامات پر پسیاں گرآئی تھیں جنھیں بعد میں ہٹاکر سڑک کو آمدرفت کیلئے بحال کردیاگیا۔ادھرمتعلقہ محکموں کی مسلسل کوششوں کے نتیجے میں کئی اہم اندرونی رابطہ سڑکیں بحال کر دی گئی ہیں جس سے عوام کو جزوی راحت ملی لیکن اس کے باوجود بعض دور افتادہ علاقوں میں تاحال سڑک رابطہ مکمل طور پر بحال نہیں ہو سکا جسکے سبب عوام گھروں میں ہی محصور ہوکررہ گئی ہے۔
ڈوڈہ
ضلع ڈوڈہ میں دوسرے روز بھی بارشوں کا سلسلہ جاری رہا جس کے نتیجے میں معمولات زندگی متاثر ہوئی اور درجہ حرارت میں نمایاں کمی آئی۔اس دوران بھدرواہ چمبہ و بھدرواہ بنی شاہراہوں سمیت اندرونی دیہات کی رابطہ سڑکوں پر بھاری برف و کورا لگنے کی وجہ سے ہفتہ کی دوپہر تک ٹریفک کی آمدورفت رفت معطل رہی تاہم مطلع صاف ہوتے ہی ضلع کی اہم شاہراہوں پر برف ہٹانے و پانی و بجلی نظام کی بحالی کا کام شروع کیا۔اطلاعات کے مطابق جمعرات و جمعہ کی درمیانی شب کو ڈوڈہ، بھدرواہ ،ٹھاٹھری ،گندوہ بھلیسہ ،بونجواہ، عسر مرمت کے مضافات میں برفباری و بارشوں کا سلسلہ شروع ہوا جو وقفے وقفے سے ہفتہ کی صبح تک جاری رہا۔اعداد شمار کے مطابق بھلیسہ، بونجواہ، بھدرواہ کے بالائی علاقوں میں دو سے تین فٹ و میدانی علاقوں میں ایک فٹ کے قریب برف ریکارڈ کی گئی۔اس دوران جہاں پانی، بجلی و سڑک نظام درہم برہم ہوا وہیں تیز آندھی و ہواؤں سے درجنوں رہائشی و غیر رہائشی مکانات کو نقصان پہنچا ہے۔ڈپٹی کمشنر ڈوڈہ ہرویندر سنگھ نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ ضلع کی سبھی اہم شاہراہوں کو آمدورفت رفت کے لیے بحال کیا گیا ہے اور اندرونی دیہات کی رابطہ سڑکوں پر پہلے مرحلے میں برف ہٹائی گئی ہے۔انہوں نے کہا تیز آندھی و برفباری سے 40کے قریب رہائشی و غیر رہائشی مکانات کو نقصان پہنچا ہے۔ڈی سی نے مزید بتایا کہ ستر فیصد علاقوں میں بجلی بحال کی گئی ہے۔
رام بن
جمعہ کی صبح سے شام تک جاری رہنے والی برفباری کے باعث جہاں معمولاتِ زندگی بری طرح متاثر ہوگئی ہے وہیں ہفتہ کی صبح سے موسم صاف ہو گیا اور دھوپ نکل آئی۔طوفانی ہواؤں اور بھاری سے درمیانہ درجے کی برفباری کیوجہ سے بانہال اور رامبن کے بیشتر علاقوں میں بجلی کی سپلائی جمعرات کی شام سے معطل ہے، تاہم اس کی بحالی کے لیے کوششیں جاری ہیں اور کئی علاقوں میں ہفتہ کی شام تک بجلی بحال کر دی گئی ہے اور کئی اہم سڑکوں کو بھی بحال کیا گیا ہے۔ برفباری سے متاثرہ سب ڈویژن بانہال، رامسو، رام بن اور گول میں بند سڑکوں کو بحال کرنے کا کام جاری ہے تاہم ہفتہ کی شام تک درجنوں رابطہ سڑکوں سے برف صاف نہیں کی جا سکی تھی جس کے باعث عام لوگوں اور ڈگری کالجوں میں جاری امتحانات میں شریک طلبہ کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ایس ڈی ایم بانہال محمد نصیب نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ بجلی اور سڑکوں کی بحالی کے لیے تمام محکمے اور مشینری متحرک ہے۔ انہوں نے کہا کہ تیز آندھی اور برفباری کے باعث بجلی کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا ہے، تاہم ہفتہ کی شام تک کئی علاقوں میں بجلی بحال کر دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بنکوٹ، چاپناڑی، ڈگری کالج، نوگام اور جواہر ٹنل کو جوڑنے والی سابقہ شاہراہ کو بحال کر دیا گیا ہے، جبکہ پی ڈبلیو ڈی اور پی ایم جی ایس وائی کی مشینری تمام متاثرہ سڑکوں کو قابلِ آمد و رفت بنانے میں مصروف ہے۔اس دوران سابق سرپنچ امکوٹ۔چاپناڑی محمد رمضان بہورو نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ بانہال ۔ بنکوٹ سے بیچنگ پلانٹ امکوٹ روڈ ہفتہ کو دوسرے روز بھی بند رہا اور شام تک کوئی مشینری وہاں نہیں پہنچی تھی ۔ انہوں نے کہا کہ سڑکوں سے برف صاف نہ ہونے کی وجہ سے چاپناڑی، ٹھاچی، امکوٹ، ژانگلدار، مجدلہ، شیر بی بی اور چملواس کے درجنوں طلبہ و طالبات کو بھاری برف میں پیدل چل کر ڈگری کالج بنکوٹ بانہال امتحان دینے جانا پڑا اور واپسی بھی پیدل ہی سفر کرنا پڑا۔