آزادی کی پہلی صبح سے ہی ترقی کے بے جان راستوں سے دبے پاؤں گزرتا ہوا مسلم معاشرہ بڑی خاموشی سے اس اندھے غار کی جانب چل پڑا جہاں آنے والی نسلوں کے لیے مستقل تاریکی مقدر بن گئی ۔ ملک کی آزادی کے بعد گزرنے والا ہر دن ہر لمحہ مسلمانوں کی تنزلی اور زبوں حالی کی جانب بڑھنے والا ایک مضبوط قدم ثابت ہوتا رہا جو یقینی طور پر ہمیں نئی چنوتی اور نئی پریشانی سے آشنا کراتا ہے ۔ ملک کی آزادی کے 73 سال کا مشاہدہ بلند آہنگ میں ہمیں یہی صدا دیتا ہے ۔ جب جب یوم اطفال کی بات ہوتی ہے اور میں قوم کے بچوں کو دیکھتا ہوں تو حیران رہتا ہوں کہ ملک کی ترقی میں مسلم بچوں کا کیا کردار ہوگا ۔ ان بچوں کا مستقبل کیا ہوگا ۔ یہ بچے کس طرح دیش کا بھلا کر سکیں گے ۔ اپنے معاشرے میں جب نظر جاتی ہے تو قوم کے معصوم اور نو نہالوں کو دیکھ کر دل کے نہاں خانوں میں کہیں یہ احساس دستک دیتا ہے کہ آج بھی مسلم معاشرے کے بچے مستقبل کی اسی تاریک غار کے راہی ہیں ۔ Right to education کے نفاذ کے باوجود ہمارے معاشرے کے بچوں کی ایک بڑی تعداد بنیادی تعلیم سے محروم ہے۔ Child labour act کے باوجود ہمارے بچوں کی ایک بڑی آبادی مزدوری کرکے نہ صرف اپنا بلکہ اہل خانہ کا پیٹ بھرنے کی ناکام کوشش کرتا نظر آتا ہے۔ Right to food کے باوجود یہ ہمارے معاشرے کی بد نصیبی ہے کہ ہمارے بچے بھوکے اور ننگے دیکھنے کو ملتے ہیں ۔ ہماری سرکار کی جانب سے نفاذ کئے گئے چند حقوق سے بالاتر ہو کر سوچیں کہ قوم کے ذمہ داروں نے معاشرے کے نو نہالوں کو کیا عطا کیا ہے ۔ کیا ہمارے معاشرے کی ٹھیکے داروں کا یہ اہم فریضہ نہیں تھا کہ مستقبل کی روشنی کو یوں تارکیوں کے حوالے نہ کریں ۔ افلاس، غریبی، مجبوری اور مزدوری کی کوئی ایسی شکلیں نہیں جہاں مسلم معاشرے کے بچوں کا عکس نظر نہ آتا ہو۔ وبا کی زد میں دو سال کی بے بسی نے فقط ملک ہی نہیں بلکہ دنیا کا نظام بدل دیا اور ہمارا معاشرہ تمام پیمانوں پر اور خاص طور پر اقتصادی اور تعلیمی اعتبار سے اس قدر نیچے چلا گیا ہے کہ اسے گزشتہ مقام پر پہنچنے میں بھی کڑی محنت اور وقت درکار ہے ۔ وبا کے دوران ایک عالمی سروے رپورٹ کے مطابق تقریبا ڈھائی کروڑ ایسے بچے ہیں جو اب دوبارہ اسکول نہ جا سکیں گے ۔ آپ یقین مانیں اس نے بیشتر تعداد ہمارے ملک اور معاشرے کے بچوں کی ہے۔ یعنی مسلم معاشرے کے سامنے پہلے سے کہیں زیادہ اور گہرے مسائل ہیں ۔ وقت اور حالات کبھی سازگار نہیں ہوتا ،اپنے حوصلوں اور کوششوں سے اسے موافق بنانا پڑتا ہے ۔ آج اپنے آنے والی نسلوں کے مستقبل کے لئے یہ لازمی ہے کہ ہم حالات کا مقابلہ کریں اور ایسی فضا قائم کریں جہاں ہماری بچے صرف اپنا ہی نہیں بلکہ ملک کا مستقبل سنوارنے میں اہم کردار ادا کر سکیں ۔ یقینی طور پر یہی مسلم معاشرہ کے لئے یوم اطفال کا پیغام ہے۔
رابطہ۔8340349807