عظمیٰ ویب ڈیسک
نئی دہلی/مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کے مطالبے پر اپوزیشن ارکان نے جمعہ کو لوک سبھا میں شدید ہنگامہ کیا، جس کے باعث ایوان کی کارروائی پورے دن کے لیے ملتوی کر دی گئی۔
دوپہر 12 بجے، ایک بار ملتوی ہونے کے بعد جیسے ہی لوک سبھا کی کارروائی دوبارہ شروع ہوئی، اپوزیشن ارکان نے پھر ہنگامہ آرائی شروع کر دی۔ شور شرابے کے دوران پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو نے ایوان سے خطاب کرنے کی کوشش کی، جس پر صدارت کر رہے جگدمبیکا پال نے انہیں بولنے کی اجازت دی۔ رجیجو نے کہاکہ”قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی بھی آج ایوان میں موجود ہیں۔ میں ان سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ سب سے بڑی اپوزیشن جماعت کے رہنما ہونے کے ناطے اور وزیر اعظم کی جانب سے پرچہ لیک کے خلاف سخت کارروائی کے اعلان کے بعد، اس معاملے پر پارلیمنٹ میں بحث کرانے میں تعاون کریں۔”
انہوں نے کہا کہ جب حکومت سخت قانون بنانے جا رہی ہے، پرچہ لیک روکنے کے لیے مؤثر اقدامات کر رہی ہے اور اس کی نیت مضبوط قانون سازی کی ہے، تو اپوزیشن کو بھی بحث میں تعاون کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق راہل گاندھی کو اپوزیشن کے قائد کی حیثیت سے اس سمت میں پہل کرنی چاہیے، کیونکہ اگر اس معاملے پر بحث نہیں ہوتی تو اس کا غلط پیغام جائے گا۔ رجیجو کی اپیل کے باوجود اپوزیشن جماعتوں نے ہنگامہ جاری رکھا۔ اس پر صدارت کر رہے جگدمبیکا پال نے بھی کہا کہ جب حکومت بحث کے لیے تیار ہے تو اپوزیشن کو بھی اس کے لیے آمادہ ہونا چاہیے اور ارکان کو اپنی نشستوں پر واپس جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ راہل گاندھی کو اس بحث میں حصہ لینا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ آج اہم بل پیش کیے جانے ہیں، اس لیے ارکان کو اپنی نشستوں پر جا کر ایوان کی کارروائی چلانے میں تعاون کرنا چاہیے۔ تاہم ہنگامہ جاری رہنے پر انہوں نے لوک سبھا کی کارروائی پورے دن کے لیے ملتوی کر دی۔
اس سے قبل صبح 11 بجے لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا نے سوالیہ وقفہ شروع ہوتے ہی ایوان کو کارگل وجے دیوس کی سالگرہ کے بارے میں آگاہ کیا اور ایوان کی جانب سے کارگل کے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔اس کے بعد جیسے ہی اسپیکر نے سوالیہ وقفہ شروع کرنے کا اعلان کیا، اپوزیشن ارکان اپنی نشستوں پر کھڑے ہو کر نعرے بازی اور ہنگامہ کرنے لگے۔ مسٹر برلا نے ارکان سے شور شرابہ نہ کرنے اور ایوان کی کارروائی میں تعاون کرنے کی اپیل کی، لیکن ارکان نے ان کی بات پر توجہ نہ دی۔
اسپیکر نے کہا کہ سوالیہ وقفہ ایوان کی سب سے اہم کارروائی ہوتی ہے، جس کے ذریعے ارکان سوالات پوچھتے ہیں اور حکومت کو جوابدہ بناتے ہیں۔ انہوں نے یقین دلایا کہ جس موضوع پر اپوزیشن بحث چاہتی ہے، اس پر قواعد کے مطابق بحث کی اجازت دی جائے گی اور ارکان سے ایوان چلانے میں تعاون کی درخواست کی۔تاہم، اسپیکر کی بار بار اپیل کے باوجود ہنگامہ ختم نہ ہوا، جس کے باعث پہلے کارروائی دوپہر 12 بجے تک ملتوی کی گئی، اور بعد ازاں دوبارہ ہنگامہ ہونے پر پورے دن کے لیے ملتوی کر دی گئی۔
ہنگامے کے باعث لوک سبھا کی کارروائی پورے دن کے لیے ملتوی