معراج وانی
چارلی چیپلن کا ایک گہرا اور فکر انگیز قول ہے:’’کسی کو نقصان پہنچانے یا کوئی غلط کام کرنے کے لیے طاقت کی ضرورت ہوتی ہے، ورنہ محبت کافی ہے سب مسائل حل کرنے کے لیے ۔‘‘یہ مختصر سا جملہ دراصل پوری انسانیت کے لیے ایک عظیم پیغام ہے۔ دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ طاقت نے سلطنتیں تو قائم کیں، مگر دلوں پر ہمیشہ محبت نے حکومت کی ہے۔ تلواریں جسموں کو جھکا سکتی ہیں، مگر محبت روحوں کو اپنا اسیر بنا لیتی ہے۔محبت ایک ایسا جذبہ ہے جو انسان کو انسان سے جوڑتا ہے، نفرتوں کو مٹاتا ہے، زخموں پر مرہم رکھتا ہے اور ٹوٹے ہوئے دلوں کو پھر سے جینے کا حوصلہ دیتا ہے۔ سچی محبت میں نہ خود غرضی ہوتی ہے، نہ انا کی دیواریں، نہ مفاد کی تجارت۔ وہاں صرف خلوص، قربانی اور وفا کا چراغ روشن رہتا ہے جس وفا کی روشنی سے انسان سکون کے ساتھ منزل کی راه پر گامزن رہتا ہے۔
سچی محبت دو اجنبی جسموں کو کبھی دیکھے دیکھے اور کبھی بن دیکھے صرف آواز اور باہمی و مشترکہ خیالات کے ذریعے ایک روح بنا دیتی ہے۔ وہ ایک دوسرے کے ساتھ ہوں یا میلوں دور، ان کے دل ایک ہی دھڑکن میں دھڑکتے ہیں ۔ ان کے درمیان فاصلے معنی نہیں رکھتے چاہے وہ وقت کے ہو یا حالات کے۔ ان کی خوشیاں مشترک ہوتی ہیں، ان کے دکھ ایک دوسرے کے سینے میں اتر جاتے ہیں۔ فاصلے جسموں کو جدا کر سکتے ہیں، مگر محبت روحوں کے درمیان کبھی دیوار نہیں بننے دیتی۔ اور یوں بنا لب ہلائے ایک دل کی آوازدوسرے دل کو سُنائی دیتی ہے وہ بھی کچھ اس طرح کہ میلوں کے فاصلے ہوتے ہوئے بھی جیسے دو انسان آمنے سامنے ہمکلام ہو رہے ہو۔
یہی تو محبت کا سب سے بڑا معجزہ ہے کہ انسان تنہا ہو کر بھی تنہا نہیں رہتا۔ محبوب کی یاد، اس کی دعائیں، اس کی مسکراہٹ اور اس کی خاموش موجودگی زندگی کے ہر موڑ پر سایہ بن کر ساتھ چلتی ہے۔ محبت میں جسموں کا ساتھ ضروری نہیں ہوتا، روحوں کا تعلق کافی ہوتا ہے جو کہ دنیاوی فاصلوں سے نہ تو کٹ جاتے ہیں اور نہ بچھڑنے سے کم ۔ سچے عاشق وقت، فاصلے اور حالات سے نہیں ہارتے، کیونکہ ان کا رشتہ زمین پر جسموں کا نہیں بلکہ دلوں کی گہرائیوں اور روح کی وسعتوں میں قائم ہوتا ہے۔ جہاں ایک انسان اپنے جانم کی خوشی عزت سكون اور صدا مسکراہٹ کے لیے اپنا سب کچھ خوشی خوشی قربان کردیتا ہے۔محبت انسان کو نرم دل بناتی ہے، وہ دوسروں کے درد کو اپنا درد سمجھنے لگتا ہے، معاف کرنا سیکھ لیتا ہے، ایثار کو اپنا زیور بنا لیتا ہے۔ جہاں محبت ہوتی ہے وہاں انتقام کی آگ بجھ جاتی ہے اور نفرت کے اندھیرے روشنی میں بدل جاتے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ دنیا کو ہتھیاروں سے زیادہ محبت کی ضرورت ہے۔ اگر انسان ایک دوسرے کو سمجھنے، معاف کرنے اور محبت دینے کا ہنر سیکھ لے تو بہت سے جھگڑے، جنگیں اور نفرتیں خود بخود ختم ہو جائیں۔ محبت وہ طاقت ہے جو بغیر شور کے انقلاب برپا کرتی ہے، بغیر حکم کے دلوں کو اپنا بنا لیتی ہے اور بغیر کسی جبر کے زندگیوں کا رخ بدل دیتی ہے۔ یہ تو محبت کی ہی طاقت ہے جو کسی انسان کو آپ دل کا روشن ستاره اور روح کا سکون یا جانم بنا دیتا ہے جو اس دل میں روح کے جسم سے جدا ہونے تک بمیشہ اپنے عہد وفا پر قائم و دائم رہتا ہے ۔آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ محبت کمزوری نہیں بلکہ کائنات کی سب سے عظیم طاقت ہے۔ نفرت وقتی فتح دلا سکتی ہے، مگر محبت ہمیشہ کے لیے دل جیت لیتی ہے۔ سچی محبت وہ نعمت ہے جو دو جسموں کو ایک روح، دو دلوں کو ایک دھڑکن اور دو زندگیاں ایک ابدی سفر میں تبدیل کر دیتی ہے۔ ایسے لوگ چاہے ایک دوسرے سے دور ہوں، مگر ان کی روحیں ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ رہتی ہیں، بالکل اس سایے کی طرح جو روشنی کے ساتھ کبھی جدا نہیں ہوتا۔ مگر اس میں وفا کا معیار کبھی نہ کم اور نہ گرنا چاہئے ۔
محبت ہی وہ زبان ہے جسے ہر دل سمجھتا ہے، اور محبت ہی وہ طاقت ہے جس کے سامنے دنیا کی ہر طاقت ایک دن سر جھکا دیتی ہے۔
آخر پر یہ پیغام پوری انسانیت کے نام ہے کہ چرند پرند حیوان و نباتات جب محبت کے حقدار ہیں تو انسان کو اس عظیم نعمت سے محروم کیوں رکھیں جبکہ وہ اشرف المخلوقات ہے۔