محمد امین میر
ہر برس برسات کے موسم میں کشمیر کی نظریں موسمی پیش گوئیوں پر مرکوز ہو جاتی ہیں۔ جیسے ہی شدید بارشوں کی پیش گوئی کی جاتی ہے، سرکاری ادارے الرٹ جاری کرتے ہیں، تعلیمی ادارے احتیاطی طور پر بند کر دیے جاتے ہیں، ہنگامی خدمات کو فعال کر دیا جاتا ہے اور آفات سے نمٹنے والی ٹیمیں تیار رکھی جاتی ہیں۔ بلاشبہ ان اقدامات سے تیاری میں بہتری آئی ہے اور کئی قیمتی جانیں بچانے میں مدد ملی ہے۔ لیکن اس کے باوجود ایک اہم سوال آج بھی ہمارے سامنے موجود ہے۔جب موسمی پیش گوئی، مواصلاتی نظام اور آفات سے نمٹنے کی صلاحیتیں پہلے سے کہیں زیادہ ترقی یافتہ ہو چکی ہیں تو پھر سیلاب اور شہری زیرِ آب آنے کے واقعات زیادہ بار اور زیادہ تباہ کن کیوں ہو رہے ہیں؟
اس سوال کا جواب صرف موسمیاتی تبدیلی کو قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اگرچہ موسمیاتی تبدیلی نے ہمالیائی خطے میں شدید بارشوں کے واقعات میں اضافہ کیا ہے، لیکن کشمیر کے قدرتی نکاسی آب کے نظام میں انسانی مداخلت نے سیلابی تباہ کاریوں کی شدت کو کئی گنا بڑھا دیا ہے۔ دریاؤں، ندی نالوں، سیلابی گزرگاہوں، دلدلی علاقوں اور جھیلوں پر تجاوزات نے قدرت کے اس نظام کو کمزور کر دیا ہے جو اضافی پانی کو جذب کرنے اور محفوظ طریقے سے منتقل کرنے کی صلاحیت رکھتا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ آج کے سیلاب محض قدرتی آفات نہیں رہے بلکہ یہ دہائیوں پر محیط ماحولیاتی غفلت اور غیر منصوبہ بند تعمیرات کا نتیجہ بھی ہیں۔
کشمیر ہمیشہ سے آبی وسائل سے مالا مال خطہ رہا ہے۔ دریائے جہلم، اس کی معاون ندیاں، چشمے، نالے، جھیلیں اور آبی ذخائر صدیوں سے وادی کی جغرافیائی ساخت، معیشت اور ثقافت کی بنیاد رہے ہیں۔ ان آبی نظاموں نے کھیتی باڑی کو سہارا دیا، ماہی گیری کو فروغ دیا، تجارت کو ممکن بنایا، پینے کے پانی کی ضرورت پوری کی، حیاتیاتی تنوع کو تحفظ دیا اور سیلاب سے بچاؤ میں قدرتی ڈھال کا کردار ادا کیا۔ کشمیر کے دلدلی علاقے اور ویٹ لینڈز بارش کے اضافی پانی کو ذخیرہ کرنے والے قدرتی ذخائر تھے، جو شدید بارش کے دوران پانی جذب کرتے اور بعد میں بتدریج خارج کرتے تھے۔ دریاؤں کے کنارے واقع سیلابی میدان انہیں بلند پانی کے بہاؤ کے دوران پھیلنے کے لیے ضروری جگہ فراہم کرتے تھے۔
تقریباً ایک صدی قبل جب جموں و کشمیر میں زمینوں کے ریکارڈ مرتب کیے گئے تھے، یہ قدرتی نظام بڑی حد تک محفوظ تھے۔ دریا اپنے قدرتی راستوں میں بہتے تھے، ویٹ لینڈز برقرار تھے، چھوٹے نالے بڑے دریاؤں سے مربوط تھے اور سیلابی گزرگاہیں اپنا کام مؤثر انداز میں انجام دیتی تھیں۔ اس زمانے میں بھی شدید بارشیں ہوتی تھیں، لیکن بڑے پیمانے پر شہری سیلاب نسبتاً کم دیکھنے کو ملتے تھے، کیونکہ قدرتی منظرنامہ اضافی پانی کو سنبھالنے کی صلاحیت رکھتا تھا۔روایتی طور پر لوگوں کو دریاؤں کے احترام اور ان کی ضرورت کا احساس تھا۔ سیلابی علاقوں میں مستقل تعمیرات سے گریز کیا جاتا تھا، زرعی زمینیں پانی کو جذب کرتی تھیں اور دریا کے کنارے کھلے رہتے تھے۔ زمین اور پانی کے درمیان تعلق صرف ضرورت کا نہیں بلکہ ایک فطری شعور کا حصہ تھا کہ دریاؤں کو زندہ رہنے کے لیے جگہ درکار ہوتی ہے۔لیکن وقت کے ساتھ یہ توازن بگڑتا گیا۔آبادی میں اضافہ، تیز رفتار شہری پھیلاؤ، بڑھتی ہوئی تجارتی سرگرمیوں اور ماحولیاتی قوانین کے کمزور نفاذ نے کشمیر کے منظرنامے کو تبدیل کر دیا ہے۔ دریاؤں، نالوں، سیلابی راستوں اور ویٹ لینڈز پر تجاوزات عام ہو گئی ہیں۔ سابقہ دلدلی علاقوں میں رہائشی کالونیاں قائم ہو گئیں۔ سیلاب زدہ علاقوں میں تجارتی عمارتیں تعمیر کی گئیں۔ ویٹ لینڈز کو بھر کر ان کا رقبہ کم کیا گیا، جبکہ تعمیراتی ملبے اور گھریلو فضلے نے قدرتی نکاسی آب کے راستوں کو محدود کر دیا۔بہت سے آبی راستے جو کبھی بارش کے پانی کو آسانی سے منتقل کرتے تھے، اب محض تنگ نالیاں بن کر رہ گئے ہیں۔ کئی راستے سڑکوں، عمارتوں اور غیر قانونی تعمیرات کے نیچے دب گئے ہیں۔ سیلابی پانی کے اخراج کے لیے بنائے گئے قدرتی راستے بند یا محدود کر دیے گئے ہیں۔ نتیجتاً وہ پانی جو پہلے قدرتی طور پر پھیل جاتا تھا، اب رہائشی علاقوں، تجارتی مراکز، اسپتالوں، اسکولوں اور ٹرانسپورٹ کے راستوں میں جمع ہو جاتا ہے۔
دریائے جہلم، جو کشمیر کی تہذیب کا بنیادی ستون ہے، اس تبدیلی کی سب سے واضح مثال پیش کرتا ہے۔ صدیوں تک جہلم نے وادی کی زراعت، تجارت، نقل و حمل اور آبادیوں کو زندگی فراہم کی۔ ماضی میں دریا کے پاس اتنی وسعت اور سیلابی میدان موجود تھے کہ وہ پانی کے موسمی اتار چڑھاؤ کو برداشت کر سکتا تھا۔لیکن آج جہلم کے کئی حصے مسلسل تجاوزات کا شکار ہیں۔ غیر قانونی تعمیرات، ملبہ ڈالنا، دریا کے کناروں کے قریب بے ہنگم ترقیاتی سرگرمیاں اور ٹھوس فضلے کا جمع ہونا، سب نے مل کر دریا کی پانی برداشت کرنے کی صلاحیت کو کم کر دیا ہے۔ جب دریا کا راستہ تنگ ہوتا ہے تو اس کی پانی خارج کرنے کی صلاحیت بھی متاثر ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایسی بارشیں جو ماضی میں معمول کا حصہ تھیں، آج شدید سیلاب کا باعث بن سکتی ہیں۔تاہم صرف جہلم پر توجہ مرکوز کرنا کافی نہیں۔ وادی کے بے شمار چھوٹے نالے اور معاون دریا کشمیر کے نکاسی آب کے نظام کی رگوں کی حیثیت رکھتے ہیں۔ یہ نالے پہاڑی علاقوں سے آنے والے پانی کو جمع کرتے ہوئے جہلم تک پہنچاتے ہیں۔ جب یہ راستے بند، تنگ یا تجاوزات کا شکار ہو جاتے ہیں تو پانی اوپر ہی جمع ہونے لگتا ہے اور مقامی سطح پر شدید سیلاب پیدا ہوتا ہے۔بدقسمتی سے ان چھوٹے آبی راستوں پر بہت کم توجہ دی گئی ہے۔ کچھ نالے گھریلو فضلے اور تعمیراتی ملبے کے ڈھیر بن چکے ہیں، جبکہ کچھ کو تعمیرات یا سڑکوں کی توسیع کے لیے جزوی طور پر بھر دیا گیا ہے۔ قدرت اپنا کام اسی وقت انجام دے سکتی ہے جب اس کے قدرتی نظام میں رکاوٹ نہ ڈالی جائے۔
کشمیر کے ویٹ لینڈز کی مسلسل تباہی بھی انتہائی تشویش ناک ہے۔ ویٹ لینڈز کو اکثر قدرت کے گردے کہا جاتا ہے کیونکہ یہ پانی کو صاف کرنے، حیاتیاتی تنوع کو برقرار رکھنے اور سیلابی پانی کو جذب کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ہر ایکڑ ویٹ لینڈ کا خاتمہ وادی کی قدرتی سیلابی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت میں کمی کا باعث بنتا ہے۔
زمین کی بھرائی، شہری پھیلاؤ، آلودگی اور غیر قانونی قبضوں کے باعث کشمیر کے کئی ویٹ لینڈز سکڑ گئے ہیں۔ جو علاقے کبھی سیلابی خطرات کو کم کرتے تھے، وہ اب رہائشی اور تجارتی مقامات میں تبدیل ہو رہے ہیں۔ اس تبدیلی نے خاص طور پر سری نگر اور دیگر نشیبی علاقوں میں سیلابی خطرات کو بڑھا دیا ہے۔موسمیاتی تبدیلی یقیناً ان مسائل کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہے۔ سائنسی شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ عالمی درجہ حرارت میں اضافہ شدید بارشوں کے واقعات، گلیشیئرز کے پگھلنے اور ہمالیائی خطے میں بارشوں کے انداز میں تبدیلی کا سبب بن رہا ہے۔ جموں و کشمیر میں بادل پھٹنے، طویل بارشوں اور اچانک سیلاب کے واقعات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔لیکن موسمیاتی تبدیلی مسئلے کا صرف ایک حصہ ہے۔ بارش ایک قدرتی عمل ہے، تباہی اس وقت پیدا ہوتی ہے جب انسانی سرگرمیاں اس کے اثرات کو بڑھا دیتی ہیں۔ اگر دریا اپنی قدرتی وسعت برقرار رکھیں، ویٹ لینڈز محفوظ رہیں اور نکاسی آب کے راستے فعال ہوں تو یہ بڑی مقدار میں پانی کو سنبھال سکتے ہیں۔ تباہی اس وقت جنم لیتی ہے جب ہم ان قدرتی حفاظتی نظاموں کو کمزور کر دیتے ہیں۔
جدید موسمیاتی ٹیکنالوجی نے بلاشبہ تیاری کے عمل کو بہتر بنایا ہے۔ سیٹلائٹ مشاہدات، ڈوپلر ویدر ریڈار، جدید موسمی ماڈلز، بارش کی نگرانی اور ہائیڈرولوجیکل پیش گوئیوں نے حکام کو بروقت فیصلے کرنے میں مدد دی ہے۔ لیکن پیش گوئی صرف خبردار کر سکتی ہے، وہ دریا بحال نہیں کر سکتی، ویٹ لینڈز واپس نہیں لا سکتی اور تجاوزات ختم نہیں کر سکتی۔ سیلاب سے بچاؤ کے لیے ہنگامی تیاری ضروری ہے، مگر مستقل حل کے لیے ماحولیاتی بحالی ناگزیر ہے۔
جموں و کشمیر اور لداخ کی معزز ہائی کورٹ نے متعدد مواقع پر آبی ذخائر کے تحفظ اور حساس علاقوں سے تجاوزات ہٹانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ عدالتی ہدایات اس حقیقت کی عکاسی کرتی ہیں کہ ماحولیاتی تباہی براہ راست عوامی تحفظ، معیشت اور پائیدار ترقی کو متاثر کرتی ہے۔ ان اقدامات کا مقصد شہریوں کو مشکلات میں ڈالنا نہیں بلکہ زندگیوں، عوامی اثاثوں اور آنے والی نسلوں کا تحفظ ہے۔اس مقصد کے لیے ریونیو حکام، میونسپل اداروں، محکمہ آبپاشی و فلڈ کنٹرول، شہری ترقیاتی اداروں، آلودگی کنٹرول کمیٹی، ڈیزاسٹر مینجمنٹ اداروں، مقامی تنظیموں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مشترکہ طور پر کام کرنا ہوگا۔ ساتھ ہی ضروری ہے کہ کارروائی شفاف، قانونی اور انسانی بنیادوں پر ہو۔ جہاں حقیقی مشکلات موجود ہوں وہاں قانون کے مطابق بحالی کے اقدامات بھی کیے جانے چاہئیں۔
حکومتیں عوامی تعاون کے بغیر کامیاب نہیں ہو سکتیں۔ بہت سی تجاوزات انفرادی فیصلوں کا نتیجہ ہوتی ہیں۔ کسی نالے میں پھینکا گیا ملبہ، دریا کی حدود میں بڑھائی گئی دیوار یا ویٹ لینڈ کو بھر کر بنایا گیا پلاٹ بظاہر معمولی عمل محسوس ہو سکتا ہے، لیکن ہزاروں ایسے اقدامات مل کر وادی کے قدرتی نظام کو بدل دیتے ہیں اور سیلابی خطرات بڑھا دیتے ہیں۔
ماحولیاتی ذمہ داری ہر فرد کے رویے سے شروع ہوتی ہے۔ شہریوں کو سمجھنا ہوگا کہ آبی ذخائر پر غیر قانونی قبضہ صرف زمین کا مسئلہ نہیں بلکہ پوری آبادی کے تحفظ کا معاملہ ہے۔ ہر رکاوٹ جو پانی کے قدرتی راستے میں کھڑی کی جاتی ہے، نیچے آباد لوگوں کے خطرات میں اضافہ کرتی ہے۔
ترقی کا مطلب صرف عمارتیں تعمیر کرنا نہیں۔ حقیقی ترقی وہ ہے جو معیار زندگی بہتر بنائے لیکن ان قدرتی نظاموں کو تباہ نہ کرے جن پر معاشرہ انحصار کرتا ہے۔ ویٹ لینڈز اور دریا کناروں کو ختم کر کے تعمیرات کرنا دراصل ماحولیاتی اور معاشی بوجھ آنے والی نسلوں پر منتقل کرنا ہے۔بار بار آنے والے سیلابوں کی معاشی قیمت بھی بہت زیادہ ہے۔ سڑکوں، پلوں اور عوامی ڈھانچے کی دوبارہ تعمیر پر بھاری اخراجات آتے ہیں۔ کاروبار متاثر ہوتے ہیں، زرعی زمینیں اور باغات نقصان اٹھاتے ہیں، سیاحت متاثر ہوتی ہے اور حکومت کو امداد و بحالی پر بڑی رقم خرچ کرنا پڑتی ہے۔ اس کے مقابلے میں دریاؤں اور ویٹ لینڈز کی بحالی میں سرمایہ کاری کہیں زیادہ دانشمندانہ قدم ہے۔
کشمیر کے مستقبل کا تحفظ اسی وقت ممکن ہے جب ہم اپنے دریاؤں کو ان کی قدرتی جگہ واپس دیں۔ ہر دریا کنارہ جو قبضے کی زد میں آتا ہے، قدرت کے حفاظتی نظام کو کمزور کرتا ہے۔ ہر ویٹ لینڈ جو تعمیرات کی نذر ہوتا ہے، سیلابی خطرات میں اضافہ کرتا ہے۔ ہر بند کیا گیا نالہ مستقبل کی تباہی کا امکان بڑھاتا ہے۔وقت آ گیا ہے کہ کشمیر اپنے آبی نظام کی بحالی کو اولین ترجیح بنائے۔ جامع نقشہ بندی، تجاوزات کی نشاندہی، عدالتی احکامات پر عمل درآمد، قدرتی نکاسی آب کے نظام کی بحالی، ویٹ لینڈز کا قانونی تحفظ، ماحولیاتی قوانین کا مؤثر نفاذ اور عوامی شعور میں اضافہ ناگزیر ہیں۔موسمیاتی تبدیلی اور بڑھتے ہوئے سیلاب ہمیں ایک واضح پیغام دے رہے ہیں: قدرتی نظاموں کو نظر انداز کرنے کی قیمت بہت بھاری ہو سکتی ہے۔ جدید ٹیکنالوجی اور بہتر انتظامی صلاحیتیں مددگار ضرور ہیں، لیکن یہ صحت مند دریاؤں، محفوظ ویٹ لینڈز اور کھلے آبی راستوں کا متبادل نہیں ہوسکتیں۔دریائے جہلم اور اس کی معاون ندیاں نسلوں سے کشمیر کی حفاظت اور پرورش کرتی آئی ہیں۔ اب ان کی حفاظت کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔ انہیں صرف ماحولیاتی اثاثے سمجھ کر نہیں بلکہ وادی کی سلامتی، معیشت اور شناخت کے بنیادی ستون کے طور پر دیکھنا ہوگا۔ہمارے سامنے انتخاب واضح ہے،یا تو ہم اپنے قدرتی آبی راستوں کو مسلسل سکڑنے دیں اور مستقبل کے سیلابوں کو مزید تباہ کن بننے دیں یا پھر بروقت اقدام کرتے ہوئے کشمیر کے دریاؤں، ویٹ لینڈز اور سیلابی میدانوں کو بحال کریں۔دریاؤں کو صرف ایک چیز درکار ہے،وہ جگہ جہاں وہ قدرت کے مطابق بہہ سکیں۔ انہیں یہ جگہ فراہم کرنا شاید کشمیر کے روشن مستقبل کے لیے ہماری سب سے اہم سرمایہ کاری ثابت ہو۔