عظمیٰ ویب ڈیسک
سری نگر/سی پی آئی (ایم) کے سینئر رہنما اور رکن اسمبلی محمد یوسف تاریگامی نے جمعہ کو ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ لال چوک اننت ناگ میں پولیس اہلکار کے قتل کا واقعہ انتہائی افسوسناک اور قابلِ مذمت ہے۔ انہوں نے سوگوار خاندان سے دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر پولیس نہایت مشکل حالات میں اپنے فرائض انجام دے رہی ہے، لہٰذا ایسے پرتشدد واقعات کی دوٹوک مذمت کی جانی چاہیے۔
تاریگامی نے کہا کہ اس واقعے میں ملوث اصل مجرموں کی غیرجانبدارانہ اور پیشہ ورانہ تحقیقات کے ذریعے نشاندہی کی جائے اور قانون کے مطابق انہیں سزا دی جائے، تاہم اندھا دھند اور بلا امتیاز گرفتاریاں نہ صرف غیر ضروری ہیں بلکہ ماضی میں یہ طریقہ کار ہمیشہ الٹا نقصان دہ ثابت ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ جنوبی کشمیر کے مختلف علاقوں سے اطلاعات موصول ہو رہی ہیں کہ اننت ناگ واقعے کے بعد بڑے پیمانے پر گرفتاریاں کی گئی ہیں۔ اگرچہ ہر ذی شعور شہری اس قسم کے تشدد کی مذمت کرتا ہے، لیکن قانون نافذ کرنے والے اداروں کا ردعمل بھی آئین اور قانون کی حکمرانی کے دائرے میں ہونا چاہیے۔ شواہد پر مبنی شفاف تحقیقات ہی اصل مجرموں تک پہنچنے کا مؤثر ذریعہ ہیں۔
تاریگامی نے کہا کہ ماضی کا تجربہ گواہ ہے کہ بلا امتیاز گرفتاریاں نہ تو امن و امان کو مضبوط کرتی ہیں اور نہ ہی پائیدار امن کے قیام میں مددگار ثابت ہوتی ہیں، بلکہ اس سے عوام میں بے چینی اور ناراضگی پیدا ہوتی ہے، جس کا فائدہ ملک دشمن عناصر کو پہنچتا ہے۔انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کے عوام گزشتہ تین دہائیوں سے تشدد کے نتائج بھگت رہے ہیں، اس لیے ایسے حساس حالات میں تحمل، ذمہ داری اور قانون کی مکمل پاسداری ناگزیر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بے گناہ افراد کے حقوق پامال کرکے تشدد کا خاتمہ ممکن نہیں، بلکہ اس سے غصہ، مایوسی اور دوریاں بڑھتی ہیں، جس سے سماج دشمن عناصر کو تقویت ملتی ہے۔
سی پی آئی (ایم) رہنما نے کہا کہ آج جموں و کشمیر کے عوام میں اس بات پر وسیع اتفاقِ رائے موجود ہے کہ تشدد عام لوگوں کے مفادات کے خلاف ہے کیونکہ اس سے روزگار، تعلیم اور معمولاتِ زندگی سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ ایسے اقدامات میں ملوث ہیں وہ کشمیر کے عوام کے خیر خواہ نہیں ہو سکتے۔
تاریگامی نے کہا کہ امن و استحکام کے لیے ضروری ہے کہ عوام کا اعتماد حاصل کیا جائے، اور اس کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو منصفانہ، شفاف اور پیشہ ورانہ انداز میں کام کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے یہ ایک معمول بنتا جا رہا ہے کہ جن افراد کو برسوں پہلے گرفتار کرکے رہا کیا جا چکا تھا، ایسے کسی بھی واقعے کے بعد انہیں دوبارہ حراست میں لے لیا جاتا ہے، جو ایک من مانی اور نامناسب طرزِ عمل ہے۔
انہوں نے بلڈوزر کارروائیوں پر شدید تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ رہائشی مکانات کو منہدم کرنا ایک خطرناک روایت بنتی جا رہی ہے۔ کسی ملزم سے دور کا تعلق رکھنے والے خاندانوں کے گھروں کو مسمار کرنا اجتماعی سزا کے مترادف ہے، جس سے بے گناہ خاندان تباہ ہو جاتے ہیں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ سپریم کورٹ آف انڈیا واضح ہدایات دے چکی ہے کہ کسی بھی رہائشی مکان کو قانونی کارروائی، مناسب نوٹس اور صفائی کا موقع دیے بغیر منہدم نہیں کیا جا سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی ذمہ داری شہریوں کو چھت فراہم کرنا ہے، نہ کہ قانونی تقاضے پورے کیے بغیر انہیں بے گھر کرنا۔
تاریگامی نے مطالبہ کیا کہ برسوں سے جموں و کشمیر سے باہر مختلف جیلوں میں قید سیاسی قیدیوں کو رہا کیا جائے، اور اگر فوری رہائی ممکن نہ ہو تو کم از کم انہیں جموں و کشمیر کی جیلوں میں منتقل کیا جائے تاکہ ان کے اہلِ خانہ آسانی سے ملاقات کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ قصورواروں کو یقیناً سزا ملنی چاہیے، مگر صرف قانون کے مطابق، جبکہ بے گناہ افراد کو ہراساں نہیں کیا جانا چاہیے۔
دہلی میں جاری نوجوانوں کی تحریک پر تبصرہ کرتے ہوئے محمد یوسف تاریگامی نے ملک کے نوجوانوں کے حوصلے اور عزم کو سلام پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ نوجوان صرف نیٹ (NEET) امتحان میں مبینہ بے ضابطگیوں کی مکمل تحقیقات، ذمہ داروں کے احتساب اور مرکزی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں، جو طلبہ کے مستقبل کے تحفظ میں بار بار ہونے والی ناکامیوں پر عوامی تشویش کی عکاسی کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مبینہ نیٹ بے ضابطگیوں کے بعد کئی طلبہ کی خودکشیوں کی اطلاعات نہایت افسوسناک ہیں، جنہوں نے متاثرہ خاندانوں اور پورے معاشرے کو غمزدہ کر دیا ہے۔ ان کے مطابق ملک گیر طلبہ تحریک امید کی ایک نئی کرن ہے، جو ظاہر کرتی ہے کہ بھارت کا نوجوان طبقہ شفافیت، انصاف اور جوابدہی کے لیے آواز بلند کرنے کو تیار ہے۔
تاریگامی نے لداخ کے معروف ماحولیاتی کارکن اور انسانی حقوق کے علمبردار سونم وانگچک کی بھوک ہڑتال کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کا پُرامن احتجاج اس بات کا ثبوت ہے کہ آج بھی ایسے لوگ موجود ہیں جو انصاف، جمہوری حقوق اور قانون کی حکمرانی کے لیے قربانی دینے کو تیار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سائنسی سوچ کو کمزور کرنا یا نصاب سے تاریخ کے اہم ابواب حذف کرنا کسی بھی لحاظ سے تعمیری اقدام نہیں، بلکہ اس سے آنے والی نسلیں اس اہم علمی سرمایہ سے محروم ہو جائیں گی جو ایک باشعور اور ترقی پسند معاشرے کی تشکیل کے لیے ضروری ہے۔
تاریگامی نے کہا کہ نوجوانوں کی موجودہ تحریک یہ واضح پیغام دے رہی ہے کہ عوام کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ حکومتوں کو چاہیے کہ وہ عوامی آواز، جمہوری اختلافِ رائے اور حقیقی مطالبات کو دبانے کے بجائے مذاکرات اور بات چیت کے ذریعے حل تلاش کریں۔
انہوں نے دہلی پولیس کی جانب سے طلبہ مظاہرین کے خلاف مبینہ طاقت کے استعمال پر شدید تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ مرکزی دہلی میں ہونے والے حالیہ احتجاج کے دوران لاٹھی چارج اور آنسو گیس کے استعمال سے متعدد طلبہ شدید زخمی ہوئے، جس پر ملک بھر میں غم و غصہ پایا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مظاہرین نے مرکزی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے فوری استعفے، نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (NTA) میں بنیادی اصلاحات، امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے واقعات کی فوری سماعت کے لیے خصوصی عدالتوں کے قیام اور مبینہ نیٹ بے ضابطگیوں کے باعث خودکشی کرنے والے طلبہ کے اہلِ خانہ کو ایک کروڑ روپے معاوضہ دینے کا مطالبہ کیا ہے۔
تاریگامی نے کہا کہ صورتحال اس وقت مزید کشیدہ ہو گئی جب یہ الزامات سامنے آئے کہ مظاہرین پر قابو پانے کے لیے “کشمیر ماڈل” اختیار کرتے ہوئے پیلٹ گنوں کے استعمال کی بات سامنے آئی، حالانکہ جموں و کشمیر کے عوام 2016 میں اس قسم کے اقدامات کے جسمانی اور ذہنی اثرات خود بھگت چکے ہیں۔آخر میں محمد یوسف تاریگامی نے کہا کہ نوجوانوں میں بیداری کی یہ نئی لہر ملک میں جمہوریت، جوابدہی اور قانون کی حکمرانی کو مزید مضبوط بنانے کی امید پیدا کرتی ہے۔