بچوں کیلئے لازمی 6 وٹامن اور منرلز
فکرِ اطفال
لیاقت علی
چھوٹے بچوں اور ٹین ایجرز کی غذائی ضروریات بڑوں سے مختلف ہوتی ہیں۔ آپ اپنے بچوں کو جو غذائیں دے رہے ہیں، کیا وہ ان کی غذائی ضروریات پوری کررہی ہیں؟ آپ کے بچوں کے لیے سب سے اہم وٹامنز اور معدنیات (منرلز) کون سے ہیں، آئیے جانتے ہیں۔
کیلشیم
اکیڈمی آف نیوٹریشن اینڈ ڈائیٹیٹکس کی ترجمان ڈاکٹر اینڈریا جیانکولی کے مطابق، ’’ہڈیوں اور دانتوں کی نشوونما میں کیلشیم کو بنیادی جزو کی حیثیت حاصل ہے۔ بچپن میں آپ کے بچے کی ہڈیاں بشمول دانت جس قدر مضبوطی حاصل کریں گے، بڑھاپے میں ان کے ٹوٹنے کا عمل اتنا ہی سست ہوگا‘‘۔
کیلشیم کی ضروریات
٭ ایک سے تین سال کی عمر کے بچوں کو روزانہ 700ملی گرام کیلشیم کی ضرورت ہوتی ہے۔
٭ چار سے آٹھ سال کی عمر کے بچوں کو روزانہ 1,000ملی گرام کیلشیم کی ضرورت ہوتی ہے۔
٭ 9سے 18سال کی عمر کے نوعمر بچوں کو 1,300ملی گرام کیلشیم کی ضرورت ہوتی ہے۔
کیلشیم والی غذائیں
ڈیری مصنوعات، سامن مچھلی، گہرے ہرے رنگ کے پتوں والی سبزیوں جیسے کیل(Kale) اور فورٹیفائید (Fortified)غذائوں میں کیلشیم موجود ہوتا ہے۔ فورٹیفائیڈ غذائیں وہ ہوتی ہیں، جن میں مصنوعی طور پر مختلف وٹامنز یا منرلز کا اضافہ کیا جاتا ہے، جیسے کئی ’فروٹ جوسز‘ میں کیلشیم کا اضافہ کیا جاتا ہے یا ڈبے والے دودھ میں ’وٹامن ڈی‘ شامل کیا جاتا ہے۔
فائبر
فائبر، نہ تو کوئی وٹامن ہے اور نہ ہی معدنیات۔ لیکن، جن غذائوں میں فائبر موجود ہوتا ہے وہ کئی اہم غذائی اجزاء جیسے وٹامن ای، وٹامن سی، کیلشیم، میگنیشیم اور پوٹاشیم سے بھرپور ہوتی ہیں۔
فائبر کی کتنی ضرورت ہوتی ہے؟
فائبر کی تجویز کردہ مقدار کا دارومدار اس بات پر ہے کہ آپ کا بچہ روزانہ اپنی غذا کے ذریعے کتنی کیلوریز لیتا ہے۔ اس کا ایک عمومی اصول یہ ہے کہ آپ کے بچے کو ایک ہزار کیلوریز کے ساتھ تقریباً 14گرام فائبر لینا چاہیے۔ بچوں کے جسم کو بھی روزانہ فائبر کی اتنی ہی ضرورت ہوتی ہے، جتنی کہ بڑوں کو۔ ڈاکٹر جیانکولی کہتی ہیں، ’’چار سے آٹھ سال کی عمر کا بچہ، جو یومیہ 1,500کیلوریز لے رہا ہے، اسے 25گرام فائبر کی ضرورت ہوتی ہے اور میںخود بھی اسی مقدار میں یومیہ فائبر لیتی ہوں‘‘۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ وہ نوعمر بچے جو بڑوں سے کچھ ہی کم خوراک لیتے ہیں،انھیں یومیہ اوسطاً 18گرام فائبر کھانا چاہیے۔
بی 12اور دیگر بی وٹامنز
میٹابولزم، توانائی، صحت مند دل اور عصبی نظام (نروس سسٹم) میں بی وٹامنز کو انتہائی اہمیت حاصل ہے جبکہ بی 12کو اہم ترین بی وٹامنز میں شمار کیا جاتا ہے۔
وٹامن بی 12 کی کتنی ضرورت ہے؟
٭ شیرخوار بچے: تقریباً 0.5مائکروگرام یومیہ۔
٭ تین سال تک کے بچے:تقریباً 0.9مائکروگرام یومیہ۔
٭ چار سے آٹھ سال کے بچے: تقریباً 1.2مائکروگرام یومیہ۔
٭ نو سے تیرہ سال کے بچے:تقریباً 1.8مائکروگرام یومیہ۔
٭ ٹین ایج: تقریباً 2.4مائکروگرام یومیہ۔
فائبر والی غذائیں
وہ غذائیں جن میں بھرپور مقدار میں فائبر پایا جاتا ہے ان میں بیری پھل (اسٹرابیری، بلیو بیری، جامن، انگور، فالسہ اور دیگر چھوٹے نرم پھل)، شاخ گوبھی (Broccoli)، ایواکاڈو، اور جوئوکا دلیہ شامل ہے۔ اس کے علاوہ، چنیاور ہر قسم کی لوبیا میں بھی فائبر موجود ہوتا ہے۔ لوبیا میں پروٹین، وٹامن اے اور پوٹاشیم بھی پایا جاتا ہے۔
وٹامن بی 12والی غذائیں
وٹامن بی 12زیادہ تر گوشت، پولٹری، مچھلی اور انڈوں میں موجود ہوتا ہے۔ اکثر بچوں کو روزمرہ غذا سے مناسب مقدار میں بی 12حاصل ہوجاتا ہے، تاہم سبزیاں زیادہ کھانے والے بچوں کو اس کی کمی کا سامنا ہوسکتا ہے۔ ایسے میں ماہرین ایسی فورٹیفائیڈ غذائیں کھانے کا مشورہ دیتے ہیں، جن میں بی 12خصوصی طور پر شامل کیا جاتا ہے۔ لیبل پر cyanocobalaminکو تلاش کریں، جو کہ وٹامن بی 12کا متحرک جزو ہوتا ہے۔
وٹامن ڈی کی کتنی ضرورت ہوتی ہے؟
امریکن اکیڈمی آف پیڈیاٹریشن کے مطابق، چھوٹے اور کم عمر بچوں کو کم از کم 400آئی یو(انٹرنیشنل یونٹس) وٹامن ڈی لینا چاہیے۔ ماں کا دودھ لینے والے بچوں کو وٹامن ڈی سپلیمنٹ ڈراپس کی ضرورت ہوتی ہے، جب تک کہ وہ دیگر غذائوں پر آجائیں۔ وہ بچے جو فارمولا دودھ پر ہیں، انھیں روزانہ کم از کم 32اونس وٹامن ڈی فورٹیفائیڈ فارمولا دودھ پلایا جانا چاہیے۔
وٹامن ڈی
وٹامن ڈی، کیلشیم کے اشتراک میں ہڈیوں کو مضبوط بناتا ہے۔ وٹامن ڈی بزرگی میں دائمی امراض سے بھی محفوظ رکھتا ہے۔
وٹامن ڈی والی غذائیں
مچھلی کی کئی اقسام میں وٹامن ڈی بھرپور مقدار میں پایا جاتا ہے۔ انڈے کی زردی اور فورٹیفائیڈ دودھ میں بھی وٹامن ڈی موجود ہوتا ہے۔ سبزی زیادہ مقدار میں کھانے والے افرادکو وٹامن ڈی کے حصول کے لیے فورٹیفائید اناج (سیریل) والی غذائیں اپنی روز مرہ میں شامل کرنی چاہئیں۔ امریکن اکیڈمی آف پیڈیاٹرکس تمام والدین کو مشورہ دیتی ہے کہ اگر کسی کا بچہ وٹامن ڈی کے درکار 400انٹرنیشنل یونٹس یومیہ حاصل نہیں کررہا تو انھیں بچوں کو وٹامن ڈی سپلیمنٹ دینا چاہیے۔
وٹامن ای
وٹامن ای، جسم کے مدافعتی نظام کو مضبوط بناتا ہے۔ یہ خون کی نالیوں کو صاف کرتا اور خون کی گردش کو بہتر بناتا ہے۔
کسے کتنی ضرورت ہوتی ہے؟
٭ ایک سے تین سال تک کے بچوں کو 9انٹرنیشنل یونٹس یومیہ وٹامن ای کی ضرورت ہوتی ہے۔
٭ چار سے آٹھ سال تک کے بچوں کو 10.4آئی یو روزانہ۔
٭ نو سے تیرہ سال تک کے بچوں کو 16.4آئی یو روزانہ۔
٭ ٹین ایج میں بالغ افراد کے مساوی یعنی 22آئی یو روزانہ۔
وٹامن ای والی غذائیں
ویجیٹل آئلز جیسے سورج مکھی اور زعفران کے تیل، گری دار میووں اور بیجوں بشمول بادام، اخروٹ، اورسورج مکھی کے بیج میں وٹامن ای بھرپور مقدار میں پایا جاتا ہے۔
بلی رانی
کہانی
رئیس صدیقی
چونکہ آج سعید کی بلّی کا بچہ پورے ایک مہینہ کا ہوچکا تھا،اِس لئے دونوں بھائی بہن، سعید اور نفیسہ بہت خوش تھے۔ دونوں نے اپنے والد صاحب ، امّی اور بھابھی اور بھائی صاحب سے کچھ پیسے اکھٹا کئے اور وہ اس بچے کے لئے ایک پھولوں کا ہار اور اپنے دوستوں میں تقسیم کرنے کے لیے مٹھائی لائے۔بلی کے بچے کو ہار پہنایا اور دونوں نے اس بچے کا نام بلی رانی رکھنے کے بعد اپنے دوستوں میں مٹھائیاں تقسیم کیں۔ جب سارے دوست چلے گئے توسعید کو نفیسہ نے رائے دی کہ رانی کو آج شہر کے مشہور گارڈن، پھول باغ کی سیر کرادی جائے۔سعید کو یہ آئیڈیا پسند آیا۔ چنانچہ دونوں پھول باغ پہنچے۔
دونوں نے بلّی رانی کو ہرے بھرے درخت دکھائے اور نیلے پیلے و گلابی سرخ پھولوں کی خوشبو سونگھائی۔ اس کے بعد دونوں کھیلنے میں مصروف ہو گئے۔ وہ کھیلتے کھیلتے دور نکل گئے۔اچانک نفیسہ کو بلّی رانی کی یاد آئی تو اس نے اپنے پیچھے مڑ کر دیکھا۔
’’ ایں! بلّی رانی کہاں ہے ،بھیا ؟‘‘ نفیسہ نے لگ بھک چلاتے ہوئے پوچھا۔ سعید بلّی رانی کو اِدھر اُدھر دیکھنے لگا۔ اچانک اس کی نظر سامنے والے راستہ پر پڑی۔ وہ وہیں اُچک پھاند رہی تھی۔سامنے سے بلّی رانی کی طرف ایک کتّا دوڑتا ہوا چلا آرہا تھا۔سعید بھی تیزی سے بلّی رانی کی طرف بھاگا۔کتا بلی رانی کے کافی نزدیک آچکا تھا۔
’اے اللہ!سعید کی فکر اور پریشانی بڑھ گئی۔ اچانک سعید بلّی رانی کے پاس ٹھوکر لگنے سے گرپڑا۔ سعید نے ہاتھ بڑھایا اور بلّی رانی کو پکڑ کر اپنے سینے کے نیچے چھپالیا۔کتے نے سعید کی پیٹھ پر منہ مارا ۔ اس نے اس حملہ کو بڑے صبر سے برداشت کیا ۔اِتنے میں کسی نے کتے کے منہ پر چھڑی جمائی۔ وہ اس کتے کا مالک تھا۔
اس نے سعید کے سر پر بہت شفقت اور پیار سے ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا’بیٹا، تمہیں اپنی بلی سے کتنا لگائو ہے۔ تم کس قدر ، بہادر،رحم دل اور سمجھدار ہو! شاباش بیٹا، تم نے اپنی جان خطرے میں ڈال کر کتنی ہوشیاری سے اپنی بلی کی جان بچالی!!‘‘۔ اِس پر سعید بولا : شکریہ سر ۔ یہ میرے والد صاحب کی نصیحت ہے ۔ میرے ابو کہتے ہیں:ہر جاندارپر رحم کرنا چاہئے۔ پالتوجانوروں کوبالکل اپنی ہی طرح سمجھنا چاہئے۔انکی جان کو اپنی جان سمجھنا چاہئے ۔ انکی خو ب دیکھ بھال کرنا چاہئے۔ انکا ہر طرح سے بہت خیال رکھنا چاہئے ! !!
(کہانی نگار ساہتیہ اکادمی قومی ایوارڈ و دِلی اردو اکادمی ایوارڈ سے سرفراز ، ڈی ڈی اردوو آل انڈیا ریڈیو کے سابق آئی بی ایس افسر،پندرہ کتابوں کے مصنف، مولف، مترجم،افسانہ نگار و شاعر ، واٹس ایپ گروپ بچوں کا کیفے کے بانی ایڈمن ہیں)
ای میل۔ [email protected]
محاورے مکمل کریں…!!!
1- آسمان سے گرا——– میں اٹکا۔
2- آم کے آم۔۔۔۔۔۔۔۔کے دام۔
3- خیالی۔۔۔۔۔۔۔۔پکانا۔
4- غرور۔۔۔۔۔۔۔سر نیچا۔
5- جیسی۔۔۔۔۔۔ویسی بھرنی۔
6- کھودا۔۔۔۔۔۔۔ نکلا چوہا
جوابات
1۔کھجور 2۔گٹھلیوں کے دام 3۔پلائو 4۔کا 5۔کرنی6 پہاڑ
بوجھو تو جانیں…!!!
سر تو اس کا پچھ پچا پنجے اس کے یوں امیر خسرو یوں کہیں کہ بیچ میں لکڑی کیوں
ڈبکی کھا کر آئی نکل دیکھ کے نیت جائے پھسل
دیکھنے میں تو پھول نہ پھل کہنے کو ایک پھول ایک پھل
در پہ لگے تو دکھائی پڑے منہ پہ لگے تو سجھائی نہ دے
دم سادھے کیوں بیٹھو یارو ہمت ہو تو کھول اتارو
سوچیں آپ لگا کر ٹیک
چوپایوں میں یہ بھی ایک
جتنے بھی دعوت میں آئے سب کے سب ہی پیٹ بھرے تھے
سبزی قیمہ آلو ٹھونسے تھے لو ایک نام آسان سا منہ سے
جوابات
:1۔ لہسن 2۔ گلاب جامن 3۔ تالا 4۔کرسی 5۔سموسے
مکڑا اور مکھی…!!!
آفاق احمد
ایک دن ایک مکڑے نے مکھی سے کہا،’’ بی مکھی! تم یہاں سے روز گزرتی ہو، مگر میرے گھر کبھی نہیں ا?تیں، اپنوں سے اس طرح دور رہنا اچھی بات نہیں ہے۔تم میرے گھر آئوتو یہ میرے لئے عزت کی بات ہوگی۔ ‘‘
مکڑے کی بات سن کر مکھی نے کہا،’’ میاں مکڑییہ دھوکا کسی اورکو دینا میں آپ کی باتوں میں آنے والی نہیں ہوں۔‘‘
مکڑا بولا ،’’آپ نے تو مجھے دھوکے باز سمجھ لیا ،میں تو بس تمہاری خاطر کرنا چاہتا ہوں۔میرے گھر میں تمہیں دکھانے کیلئے بہت سی چیزیں ہیں۔باہر سے تو یہ چھوٹا ہے لیکن اندر اس میں خوشنما پردے لگے ہوئے ہیں اور مہمانوں کو سلانے کیلئے نرم گرم بستر ہے۔‘‘
مکھی بولی ،’’جو بھی ہو میں تو آپ کے گھر نہیں آئوں گی۔ ‘‘
مکڑے نے سوچا، یہ کم بخت تو بہت چالاک ہے، اسے کس طرح اپنے جال میں پھنسائوں، پھر اس نے سوچاا ، ہاں اپنی تعریف سے تو سب خوش ہو جاتے ہیں چلو اس کی خوشامد کرتاہوں۔مکڑے نے کہا ،’’ مکھی باجی! آپ تو بہت حسین ہیں۔ آپ کی آنکھیں تو ہیروں کی طرح چمک دار ہیں اور آپ کے سر پر جو تاج ہے وہ بہت خوبصورت ہے۔سب سے بڑھ کر جو آپ گانا گاتی ہیں اتنا سریلا ہے کہ آپ کی بات ہی کچھ اور ہے۔‘‘
اپنی تعریف سے مکھی بہت خوش ہوئی اور بولی،’’ میاں مکڑیاب مجھے آپ سے کوئی ڈر نہیں۔ میں آپ کے گھر نہ آکر آپ کا دل توڑنا نہیں چاہتی یہ کہہ کر مکھی جیسے ہی اپنی جگہ سے اٹھی مکڑے نیاسے پکڑ لیا وہ کئی دن سے بھوکا تھا اب اس نے خوب مزے لے کر مکھی کو کھایا۔
گدگدیاں…!!!
مالک:(نوکرسے)جلدی سے بازار جائو اور اچھی کوالٹی کی ماچس لے کے آئو اور دیکھنا کہیں وہ جعلی نا ہوں۔
نوکر بازار سے واپس آ کر بولا:میں نے ماچس کی ایک ایک تیلی جلا کر دیکھی ہے سب کی سب اصلی ہیں۔
ایک دیہاتی جوتے کی دکان گیا اور دکاندار سے بولا
بڑی گارنٹیاں دیتے پھر رہے ہو۔ جوتے نے تو دو دن بھی نہیں نکالے۔
دکاندار: ہوا کیا ہے جناب؟؟
دیہاتی: اٹھالیے ہیں کسی نے مسجد سے۔
سیلز مین: " سر ! کاکروچ کے لیے پاوڈر لیں گے آپ؟"
گاہک: " نہیں ! ہم کاکروچ کے اتنے لاڈ نہیں اٹھاتے۔ آج پاوڈر دیں گے تو کل پرفیوم مانگے گا۔۔"