شعبان المعظم کی پندرویں شب ویعنی شب برات ، عظمت وفضیلت اور بڑی اہمیت کی حامل ہے ، شب کے معنی رات اور برات کے معنی بری ہونے کے اور قلع تعلق کرنے کے ہے ، چونکہ اس رات مسلمان توبہ استغفار کرکے گناہوں سے قلع تعلق کرتے رہیں اور اللہ کی رحمت سے بے شمار تائب دوزخ سے نجات پاتے ہیں اسلئے اس سے شب برات کہتے ہیں،اسکے چار مشہور نام واردہوئے ہیں(۱) لیلتہ البرات یعنی نجات پانی والی رات (۲۲) لیلتہ الرحمہ ، یعنی رحمتوں والی رات، (۳) لیلتہ المبارکتہ یعنی برکتوں والی رات، (۴) لیلتہ الصک یعنی نجات کاپرحانہ ملنے والی رات۔مفسرین کرام کے مطابق یہ انتہائی بابرکت ، رحمت ومغفرت اور دعائوں کی قبولیت کی رات ہے، یہ گناہ گاروں کی معافی کی شب ہے ، یہ توباران رحمت یزدانی ، غایات ربانی ،انعامات سبحانی، تسبیح وتلاوت ذکروفکر ، درودسلام ، توبہ وعاجزی ، مرقبہ واحتساب عمل کی شب ہے۔ اس شب میں اللہ تعالیٰ غروب آفتاب سے لیکر طلوع فجر تک آسمان دنیا پر نزول فرماتا ہے، رحمت کے سودرواے کھول دیتا ہے اور تمام شب فرماتا رہتا ہے کہ کیاکوئی بخشش مانگے والا ہے اسکی بخشش کروں ، کیا کوئی روزی طلب کرنے والا ہے تو اسے عطا کروں ، کیا کوئی مصیبت زدہ ، عافیت طلب کرنے والا ہے تو اس سے عافیت دیدوں۔ اس طرح خالق کائنات مختلف جات کانام لے لے کر صبح صادق تک ندائے عام کرتا رہتا ہے۔ اس شب میں ہر ایک کی بخشش ہوتی ہے مگر شرک ، جادوگر، کاہن ، سودخوار، زانی ، شرابی ، والدین کے نافرمان ، کینہ پرور، بخیل اور رشتہ منقطع کرنے والوں کی بخشش نہیں ہوتی ، جب تک نہ ایسے لوگ مذامت ، صدق دلی کیساتھ توبہ نہ کریں اور آئندہ کیلئے اپنی اصلاح احوال کرکے نیک اعمال شروع نہ کریں۔ اس مقدس رات میں رب کائنات ہر ایک کیلئے آئندہ سال تک ہونے والے تمام امور کے فیصلے فرشتوں کے حوالے کرتے ہیں ، نیز رزق ، شادی ، اولاد، حج، موت، خوشی وغمی اور تمام معاملات کے فیصلے فرشتوں کے حوالے کردئے جاتے ہی۔ قرآن حکیم میں ارشاد باری تعالیٰ ہے’’حق کوکرنیو الی کتاب (قرآن) کی قسم ہے ہم نے اسے بابرکت رات میں نازل فرمایا ہے ، ہم ہر وقت خبردار کردیاکرتے ہیں، اس رات میں تمام حکمت والے فیصلے صادر ہوتے ہیں ہے بیشک ہم ہی (کتاب رسول بھیجتے ہیں) تمارے رب کی طرف سے سراپا حمت ہے ، بے شک وہی سب کچھ سننے والا ہے اور جاننے والا ہے ‘‘۔
ایک حدیث کے مطابق اللہ شعبان کی پندرہویںشب اپنی شان کے مطابق آسمان دنیا پر نزول فرمایا ہے اور ’’قبیلہ بنو کلب ‘‘ کی بکریوں کے بالوں کی تعداد سے بھی زیادہ لوگوں کو بخش دیتا ہے۔ (ترمذی)
َٓٓاُم المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ ایک شب حضور ؐ تہجد کیلئے کھڑے ہوئے اورنماز شروع فرمائی، جب سجدے میں چلے گئے تو آپؐ نے اتنا طویل سجدہ فرمایا کہ میںنے سمجھا کہ شاید آپ ؐ کی روح قبض ہوچکی ہے یہاں تک کہ میں پریشان ہو کر اُٹھی اور پاس جاکر آپ ؐ کے انگوٹھے مبارک کو حرکت دی تو آپ ؐ نے حرکت فرمائی جس سے مجھے اطمینان ہوگیا اور میں اپنی جگہ لوٹ آئی ۔جب آپ ؐ نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا کہ اے عائشہ ؓ کیا تم جانتی ہو کہ یہ کونسی رات ہے ؟میں نے عرض کیا کہ اللہ تبارک وتعالیٰ اور اس کا رسول ؐ ہی بہتر جانتے ہیں۔آپ ؐ نے فرمایا یہ نصف شعبان کی شب ہے اور اللہ عزوجل اس رات میں اہل عالم پر توجہ فرماتا ہے اور رحمت و مغفر کی دُعا کرنے والوں پر رحم و کرم فرماتا ہے (غنیتہ الطالبین)۔
حضرت علی ؓ سے روایت ہے کہ حضور اقدس ؐ نے فرمایا جب نصف شعبان آجائے تو تم اس رات میں قیام کرو ۔نوافل پڑھا کرو۔اور اس کے دن کا روزہ رکھا کرو۔اسلئے کہ اللہ تعالیٰ اس شب سورج غروب ہونے سے طلوع فجر تک آسمان دنیا پر نزول فرماتا ہے اور ارشاد فرماتا ہے ہے کوئی بخشش کا طلبگار کہ میں اسے بخش دوں ہے، کوئی روزی طلب کرنے والا کہ میں اسے رزق عطا کروں ہے ،کوئی مصیبت زدہ کہ میں اسے مصیبت سے نجات دیدوں۔کیا کوئی ایسا ہے ؟کیا کوئی ا یسا ہے؟ (بیہقی شعب الا ایمان)
حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ میںنے ایک رات حضور اکرمؐ کو بستر مبارک پرنہ پایا ۔ میں آپ کی تلاش میں نکلی تو دیکھا کہ آپ ؐ مدینہ طیبہ قبرستان (جنت البقیع) میںہیں ۔آپ ؐنے ارشاد فرمایا کہ اللہ نصف شعبان کو آسمان دنیا پر تشریف فرماتا ہے اور بنوکلب کی بکریوں کے تعداد کی مثل انسانوں مغفرت فرماتا ہے۔ (ترمذی)
ہمیں ایسا رحمت والا مہینہ نصیب ہو اور ایسی رات ملی کہ ادھر ’’معافی نامہ‘‘ بارگاایزی میںپیش کیا تو اُدھر نہ صرف معافی ملی بلکہ رحمتوں کا بخششوں اور رزق دافر کا منزول شروع ہوگیا۔ اللہ رب کریم بہت ہی بڑا شفیق ،پالنہار رب ہے ۔گنہگار جب بھی صدق دلی سے معافی مانگتا ہے ،توبہ کرتا ہے تونہ صرف رب کریم اسکو معاف فرماتا ہے بلکہ اسکے سابقہ گناہوں کو بھی معاف فرما دیتا ہے۔اللہ اکبر! آج کی رات کتنی عظیم رات ہے کہ آج کی شب کومانگوعاجزی کے ساتھ اور آجائو رحمت الٰہی کے جلو میں ۔ذرا اپنے گنہگار ظاہر وباطن پر نظر ڈال کر یہ خیال کریں کہ رحمت ومغفرت کی یہ مقدس رت اگلے سال نصیب ہوتی ہے یا نہیں۔لہٰذا صدق دلی اور پورے خشوع خضو کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے معافی مانگو۔معافی مانگنے کا مطلب یہ ہے کہ اس سے پہلے دانستہ یا نا دانستہ جو گناہ سرزد ہوگئے ہیں آج کے بعد کبھی گناہ نہیں کرونگا ۔بہر حال یہ شب اپنے آپکو گناہوں سے پاک وصاف کرنے کی شب ہے۔اس شب کی فضلیت اپنے اعمال پر نظر ڈال لینا کہ کہیں پروردگار عالم کی برکت و رحمت سے محروم نہ ہو۔اسلئے آج کی شب نہ صرف اپنے لئے بلکہ تمام مسلمانوں کیلئے خیر کی دعائیں ضرور مانگیں اور یقین کامل رکھیں کہ غفور ورحیم اللہ آج کی شب کی بدولت ضرور ہمارے تمام گناہوں کو معاف فرجائینگے ۔انشاء اللہ
شب برات کی خاص دعا:۔اے ہمارے پروردگار!اگر تو نے ہمارے نیک اعمال دیکھ کر ہمارا نام نیک لوگوں کے دفتروں میںلکھا ہے،ہماری دُعا ہے کہ ہمارے نام الٰہی لوگوں کے دفتروں میںبرقرار رکھیں۔ اے ہمارے پروردگار!اگر تو نے ہمارے بداعمال کی وجہ سے ہمارے نام بدکاروں اورگنہگاروں کے دفتروں میںلکھا ہے تو ہماری دُعا ہے کہ اُن نافرمانوں کے دفتروں سے ہمارے نام مٹاکر ہمارے نام نیک لوگوں کے ساتھ لکھیں تاکہ ہماری بھی بخشش ہوجائے۔
ذراغور فرمائیں اور اللہ غفور وحیم ہیں اور نااُمیدی کفر ہے۔ لہٰذا پورے یقین کے ساتھ اس مقدس رات بخشش سے فیضاب ہوجائیں اور آئندہ کیلئے گناہوں سے توبہ نصوحاکریں۔ دعا ہے کہ اللہ اپنے گناہوں کے ساتھ ساتھ راقم الحروف کے گناہ بھی معاف فرمادیں۔آمین
(مضمون نگار سینئر سیاسی وسماجی کارکن اور صدر فلاح وبہبود کمیٹی خواجہ بازار نوہٹہ سرینگرہیں۔رابطہ۔2471176)