سید شکیل قلندر
کربلا کو عموماً ایک ایسے المناک واقعے کے طور پر یاد کیا جاتا ہے جو61 ہجری میں عراق کے میدانوں میں پیش آیا، جہاں 72 نفوس پر مشتمل ایک چھوٹا سا گروپ ایک بہت بڑی سلطنت کی عسکری قوت کے مقابل کھڑا ہوا۔ مگر کربلا کبھی کسی خاص مقام، زمانے یا سیاسی کشمکش تک محدود نہیں رہی۔ اس نے تاریخ کی قید سے نکل کر دائمی علامتوں کی دنیا میں قدم رکھا۔
انسانی فطرت بہت کم بدلتی ہے۔ سلطنتیں ابھرتی اور مٹ جاتی ہیں، تہذیبیں ارتقا پذیر ہوتی ہیں اور زبانیں تبدیل ہو جاتی ہیں، لیکن انسانی دل آج بھی انہی سوالات سے نبرد آزما ہے:
کیا حق کی خاطر مصیبت گوارا کی جا سکتی ہے؟
کیا جھوٹ کی وقتی فتح کے بعد بھی یادداشت معنویت کو محفوظ رکھ سکتی ہے؟
کیا گمراہی سے واپسی ممکن ہے؟
اقتدار کی خاطر ضمیر کا سودا کرنے والی روح کا انجام کیا ہوتا ہے؟
اور جب نفرت، رحم و شفقت کو بجھا دے تو پھر کیا باقی رہ جاتا ہے؟
کربلا نے انسانیت کو ان سوالات کے پانچ جواب عطا کیے۔
ایک کردار نے موت کو ذلت پر فوقیت دی؛
ایک نے قربانی کے مفہوم کو محفوظ رکھا؛
ایک نے واپس لوٹ آنے کا حوصلہ پایا؛
ایک نے دنیاوی حرص و لالچ کے آگے خود کو سپرد کر دیا؛
اور ایک نے نفرت و سنگ دلی کے نیچے رحم و مروّت کو دفن کر دیا۔
یہ پانچ کردار امام حسینؑ، حضرت زینبؑ، حر بن یزید ریاحیؓ، عمر بن سعد اور شمر کے وجود میں جلوہ گر ہوئے۔
تاریخ نے ان کرداروں کو بار بار دہرایا ہے۔ ہر دور میں ایسے حُسین پیدا ہوئے جنہوں نے اطاعت پر عزت کو ترجیح دی، ایسی زینبیں اٹھیں جنہوں نے حق کو فراموشی سے بچایا، ایسے حر پیدا ہوئے جنہوں نے بھٹکنے کے بعد راہِ راست پالیا، اور ایسے عمر و شمر بھی موجود رہے جنہوں نے ضمیر اور رحمت کے بجائے آسائش اور عداوت کا انتخاب کیا۔
شاید یہی وجہ ہے کہ کربلا قونیہ کے کسی صوفی، غزہ کی کسی ماں، کشمیر کے کسی متلاشیِ حق، یا حتیٰ کہ مسلم دنیا سے ناواقف کسی انسان سے بھی یکساں قربت کے ساتھ ہم کلام ہوتی ہے۔ یہ صرف اسلامی تاریخ کا ایک باب نہیں بلکہ انسانی حالت و کیفیت کا ایک نقشہ ہے۔
مشہور عربی مقولہ:
«كُلُّ أَرْضٍ كَرْبَلَاءُ وَكُلُّ يَوْمٍ عَاشُورَاءُ»
یعنی:
“ہر سرزمین کربلا ہے اور ہر دن عاشورا ہے”
اسی ہمہ گیر معنویت کی ترجمانی کرتا ہے۔
پہلا کردار امام حسینؑ: وہ چہرہ جو ذلت قبول نہیں کرتا
کربلا کی تربیت گاہ میں امام حسین بن علیؑ ایک مرکزی کردار کے طور پر جلوہ افروز ہیں۔ باقی چار کردار اپنی معنویت کا بڑا حصہ انہی کے ساتھ نسبت سے حاصل کرتے ہیں۔
امام حسینؑ دنیاوی اقتدار کے طلبگار نہ تھے۔ ان کے پاس نہ کوئی لشکر تھا اور نہ ایسا خزانہ جو ظاہری فتح کی ضمانت دے سکتا۔ وہ کسی کو جاگیریں، مناصب یا مراعات پیش نہیں کر سکتے تھے۔
انہوں نے جو چیز پیش کی وہ کہیں زیادہ دشوار تھی:
بے لاگ حق، بے حساب عزت، اور بے توقع قربانی۔
ان کے معاصرین کے سامنے انتخاب بظاہر سادہ مگر حقیقت میں نہایت گہرا تھا:
ذلت کے ساتھ دراز کی گئی زندگی، یا عزت کی حفاظت میں قبول کی گئی موت۔
امام حسینؑ کے نزدیک عزت سے محروم زندگی دراصل موت کی ایک صورت تھی، جبکہ حق کی خاطر اختیار کی گئی موت ابدیت کا دروازہ بن جاتی ہے۔
انہوں نے محض ایک حکمران کی مخالفت نہیں کی بلکہ اس پورے فلسفۂ حیات کو چیلنج کیا جو اصولوں پر سلامتی، اور ضمیر پر آسائش کو ترجیح دیتا ہے۔ انہوں نے ثابت کیا کہ کچھ اقدار ایسی ہیں جن کے سامنے خود زندگی بھی قربان کی جا سکتی ہے۔
عاشورا کی دسویں تاریخ کے ساتھ حسینی مزاج ختم نہیں ہوا۔ تاریخ میں یہ بارہا مختلف شکلوں میں ظاہر ہوا؛ ان اولیاء، علماء اور اہلِ تصوف کی صورت میں جنہوں نے بادشاہوں کو للکارا، خوشامد کے بجائے قید و بند کو قبول کیا، اور ظلم کی تقدیس کے بجائے گمنامی کو پسند کیا۔
امام حسینؑ صرف ایک تاریخی شخصیت نہیں جن پر سال میں ایک بار گریہ کیا جائے، بلکہ وہ ایک ابدی اصول ہیں، جو ہر اس لمحے زندہ ہو اٹھتے ہیں جب انسان ذلت پر عزت کو ترجیح دیتا ہے۔
اقبال نے اسی حقیقت کو یوں بیان کیا ہے:
موسیٰ و فرعون و شبیر و یزید
ایں دو قوت از حیات آید پدید
زندہ حق از قوتِ شبیر است
باطل آخر داغِ حسرت میرَد است
(موسیٰ و فرعون اور شبیر و یزید، یہ متضاد قوتیں زندگی کے اندر سے ہمیشہ ابھرتی رہتی ہیں۔ حق شبیر کی قوت سے زندہ رہتا ہے، جبکہ باطل آخرکار حسرت کا داغ لے کر مر جاتا ہے۔)
دوسرا کردار حضرت زینبؑ: وہ چہرہ جو فراموشی قبول نہیں کرتا
اگر امام حسینؑ نے خون پیش کیا تو حضرت زینبؑ نے یادداشت عطا کی۔
امام حسینؑ کی شہادت روزِ عاشورا کے عصر پر اختتام پذیر ہوئی، لیکن حضرت زینبؑ کا مشن اسی شام سے شروع ہوا۔ انہوں نے خوف زدہ بچوں کو سمیٹا، سوگوار خاندانوں کو دلاسا دیا اور اپنے دل میں اس دنیا کی یاد محفوظ رکھی جو ایک ہی دن میں بکھر گئی تھی۔ غم اور اسیری کی زنجیروں کا بوجھ اٹھائے وہ اقتدار کے ایوانوں میں داخل ہوئیں اور فراموشی کو شکست دی۔
اگر وہ خاموش رہ جاتیں تو کربلا شاید چند تاریخی کتابوں میں درج ایک دردناک واقعہ بن کر رہ جاتی، لیکن ان کی گواہی نے اسے ایک لازوال پیغام میں تبدیل کر دیا۔ ظاہری فاتحین کے پاس محلات، پرچم اور لشکر تھے، مگر زینبؑ کے پاس یادداشت تھی، اور حق کے ساتھ وابستہ یادداشت اکثر سلطنتوں سے زیادہ طاقتور ثابت ہوئی ہے۔
حق کے لیے جان دینا یقیناً ایک بلند مقام ہے، لیکن اس کی ظاہری شکست کے بعد زندہ رہنا، برسوں کی تنہائی، رسوائی اور دکھ کو سہتے ہوئے اس کی گواہی دیتے رہنا شاید اس سے بھی بڑی روحانی ریاضت کا تقاضا کرتا ہے۔ امام حسینؑ نے ایک دوپہر میں اپنی جان قربان کی، جبکہ حضرت زینبؑ نے اپنی بقیہ زندگی اس قربانی کے معنی اور مقصد کو محفوظ رکھنے کے لیے وقف کر دی۔
ظلم صرف جسموں کو زیر کرنے کی کوشش نہیں کرتا بلکہ وہ یادوں کو مٹانا، بیانیوں کو مسخ کرنا اور آنے والی نسلوں کو یہ باور کرانا چاہتا ہے کہ ناانصافی ناگزیر تھی۔ فراموشی کی اس سازش کے مقابل تاریخ کی زینبیں کھڑی ہوتی ہیں؛ وہ مائیں جو استبدادی یادوں کو محفوظ رکھتی ہیں، وہ اساتذہ جو ناپید ہوتے علم کو منتقل کرتے ہیں، وہ شاعر جو غم کو ادب میں ڈھالتے ہیں، اور وہ امین جو مقدس ورثوں کی حفاظت کرتے ہیں۔
تہذیبیں اس وقت نہیں مرتیں جب ان کے حسین قتل کر دیے جائیں؛ وہ اس وقت فنا ہوتی ہیں جب ان کی زینبیں خاموش ہو جائیں۔
جیسا کہ سید نذیر حسین شاہ نے نہایت خوبصورتی سے کہا ہے:
حدیثِ عشق دو باب است، کربلا و دمشق
یکے حسین رقم کرد، دیگرے زینب
(یعنی عشقِ الٰہی کی داستان کے صرف دو عظیم ابواب ہیں: کربلا اور دمشق۔ پہلا باب حسینؑ نے اپنے خون سے لکھا اور دوسرا زینبؑ نے اپنے صبر، استقامت اور خطابت سے۔)
تیسرا کردار حُرؓ نامدار : وہ چہرہ جو واپسی کی راہ پا لیتا ہے
کربلا کے کرداروں میں سب سے زیادہ امید افزا شخصیت حُر بن یزید ریاحیؓ کی ہے۔
انہوں نے تاریخ کے غلط راستے سے اپنی داستان کا آغاز کیا۔ انہی نے امام حسینؑ کے قافلے کا راستہ روکا اور المیے کے وقوع پذیر ہونے میں کردار ادا کیا۔ لیکن حرؓ کے پاس ایک انمول سرمایہ باقی تھا: ان کا ضمیر ابھی زندہ تھا۔
جب انہیں احساس ہوا کہ کیا ہونے والا ہے تو انہوں نے بہانوں کی پناہ نہیں لی۔ نہ حکمران کی اطاعت کا عذر پیش کیا، نہ قبائلی وابستگیوں کا اور نہ سیاسی مصلحتوں کا۔ انہوں نے صرف اتنا تسلیم کیا کہ وہ غلط تھے۔
پھر وہ میدان کے ایک کنارے سے دوسرے کنارے کی طرف چل پڑے۔ جسمانی اعتبار سے یہ فاصلہ مختصر تھا، مگر روحانی اعتبار سے یہ مایوسی سے نجات، اور بیگانگی سے قربت تک کا سفر تھا۔
اسی لیے صوفیاء کرام اور اولیاءکرام ہمیشہ حرؓ کو محبت کی نگاہ سے دیکھتے رہے ہیں۔ وہ جانتے تھے کہ خدا کی رحمت انسان کی خطاؤں سے کہیں وسیع تر ہے اور حق کی جانب اٹھایا گیا ایک مخلص قدم برسوں کی گمراہی کو مٹا سکتا ہے۔
پورے معاشرے اپنے حُرّوں کے محتاج ہوتے ہیں؛ ایسے افراد جو بدلنے کا حوصلہ رکھتے ہوں، ایسے علماء جو اپنی غلط آراء پر نظر ثانی کر سکیں، ایسے اہلِ اقتدار جو ظلم کا آلہ کار بننے سے انکار کر دیں، اور ایسی برادریاں جو موروثی تعصبات سے اوپر اٹھ سکیں۔
ہمارے زمانے کا ایک بڑا المیہ صرف ناانصافی نہیں بلکہ توبہ اور اعترافِ خطا کا ناپید ہو جانا بھی ہے۔ ادارے شاذ و نادر ہی اپنی غلطیوں کا اعتراف کرتے ہیں، حکومتیں اپنی زیادتیوں کو تسلیم نہیں کرتیں، اور افراد اکثر معذرت خواہی کو کمزوری سمجھتے ہیں۔
حُرؓ اس کے برعکس سبق دیتے ہیں۔ وہ سکھاتے ہیں کہ حق کی طرف لوٹ آنے میں کوئی شرمندگی نہیں، خواہ انسان زندگی کے آخری لمحوں میں ہی اس کی دہلیز تک کیوں نہ پہنچے۔
حضرت بابا داؤد خاکیؒ فرماتے ہیں:
از گناہ گشتہ پشیماں ہر کہ استغفار کرد
پیش پیران آں گناہِ اکبرش اصغر شدہ است
از معاصی پاک شد با توبۂ پاکِ نصوح
ہر کہ بعد از توبہ ہَمچوں میّتِ مقبر شدہ است
(یعنی جو شخص اپنے گناہوں پر نادم ہو کر استغفار کرتا ہے، اہلِ بصیرت کے نزدیک اس کے بڑے سے بڑے گناہ بھی معمولی ہو جاتے ہیں۔ اور جو خالص و سچی توبہ کرتا ہے، وہ اپنے سابقہ گناہوں سے ایسے منقطع ہو جاتا ہے جیسے قبر میں لیٹا ہوا مردہ۔)
چوتھا کردار عمر بن سعد: وہ چہرہ جو خود کو بیچ دیتا ہے
اگر حُرؓ ضمیر کی فتح کی علامت ہیں تو عمر بن سعد اس کی شکست کا استعارہ ہیں۔
وہ جاہل نہیں تھے۔ وہ جانتے تھے کہ امام حسینؑ کون ہیں۔ روایت ہے کہ انہوں نے تردد کیا، سوچا، اور یہاں تک کہ گریہ بھی کیا، لیکن حق کو پہچان لینے کے باوجود اس کا ساتھ دینے کی جرأت نہ کر سکے۔
انہوں نے رَے کو چن لیا۔
رَے کو اختیار کرتے ہوئے انہوں نے بقا کو فنا کے بدلے، دیانت کو حرص و لالچ کے بدلے، اور معنی کو آسائش کے بدلے فروخت کر دیا۔ دولت اور اقتدار اپنی ذات میں مذموم نہیں، لیکن جب وہ ہاتھوں سے نکل کر دلوں میں جا بسیں تو خطرناک بن جاتے ہیں۔
عمر بن سعد انسانی وجود کے ایک المناک امکان کی نمائندگی کرتے ہیں۔ انہوں نے حق کو اس لیے ترک نہیں کیا کہ وہ اس سے نفرت کرتے تھے، بلکہ اس لیے کہ وہ اس چیز کے کھو جانے سے خوفزدہ تھے جسے وہ حق سے زیادہ عزیز سمجھتے تھے۔
تاریخ بار بار ایسے افراد پیدا کرتی ہے؛ وہ لوگ جو منصب کے لیے عزت بیچ دیتے ہیں، وہ علماء جو سیاسی مصلحتوں کے مطابق اخلاقی فتوے مرتب کرتے ہیں، اور وہ دانشور جو نجی محفلوں میں ظلم پر ماتم تو کرتے ہیں لیکن جب حق ان کی آسائش کو خطرے میں ڈالے تو خاموش ہو جاتے ہیں۔
ستم ظریفی یہ ہے کہ ایسی سودے بازی کے انعامات بھی شاذ ہی پائیدار ثابت ہوتے ہیں۔ رَے کی حکومت بھی چند روزہ نکلی۔
شاعر نے سچ کہا ہے:
نہ خدا ہی ملا، نہ وصالِ صنم
نہ اِدھر کے رہے، نہ اُدھر کے رہے
پانچواں کردار شمرِ لعین : وہ چہرہ جو نفرت میں لذت پاتا ہے
اگر عمر بن سعد کمزوری کی علامت ہیں تو شمرِ لعین زوال اور انحطاط کی علامت ہے۔
تاریخی روایات بتاتی ہیں کہ شمر نے کبھی حضرت علیؑ کے ساتھ جنگ بھی لڑی تھی، لیکن اولیاء کی قربت لازماً ولایت عطا نہیں کرتی۔ کربلا پہنچتے پہنچتے نفرت اس کی فطرت بن چکی تھی۔ اس کا ضمیر کینہ، حرص اور تکبر کے نیچے دفن ہو چکا تھا۔
صوفیاء کرام نے اس کیفیت کو قساوتِ قلب کا نام دیا ہے۔ جب دل سے شفقت رخصت ہو جاتی ہے تو ظلم خود کو فضیلت کے روپ میں پیش کرنے لگتا ہے۔
ہر دور میں ایسے لوگ موجود ہوتے ہیں۔ وہ تفرقے سے قوت حاصل کرتے ہیں، پرانی دشمنیوں کو بھڑکاتے ہیں اور عام انسانوں کو یہ باور کراتے ہیں کہ انتقام، معافی سے زیادہ باعزت ہے۔
شمر صرف اس لیے خطرناک نہیں کہ وہ قتل کرتا ہے، بلکہ اس لیے بھی کہ وہ دوسروں کو قتل پر فخر کرنا سکھاتا ہے۔ تلوار جسموں کو زخمی کرتی ہے، مگر نفرت نسلوں کو زخمی کر دیتی ہے۔
پانچوں کردار آج بھی ہمارے درمیان موجود ہیں:
اولیائے کرام نے بارہا فرمایا ہے کہ سب سے بڑا میدانِ جنگ انسان کے اپنے دل کا اندرون ہے، جہاں ہر روز پانچ آوازیں برسرِ پیکار رہتی ہیں:
امام حُسینؑ ہمیں عزت کی طرف بلاتے ہیں۔
حضرت زینبؑ ہمیں یادداشت اور وفاداری کی طرف بلاتی ہیں۔
حرؓ نامدار ہمیں توبہ اور رجوع کی دعوت دیتے ہیں۔
عمر بن سعد ہمیں آسائش کی سرگوشی سناتا ہے۔
اور شمر ہمارے کان میں نفرت پھونکتا ہے۔
لہٰذا کربلا صرف یہ سوال نہیں کہ حسینؑ کو کس نے قتل کیا، بلکہ اس کا اصل مقصد یہ آشکار کرنا ہے کہ ہمارے اندر کون سا کردار زندہ ہے۔
جب حق ہمارے سامنے آئے گا تو کیا ہم میں امام حُسینؑ کی جرأت، بی بی زینبؑ کی استقامت اور حرؓ نامدار کی انکساری ہوگی؟ یا ہم عمر بن سعد کی مصلحتوں اور شمرِ لعین کی سنگ دلیوں میں پناہ تلاش کریں گے؟
ہر نسل اس سوال کا جواب اپنے انداز میں دیتی ہے، اور تاریخ دراصل انہی جوابات کا نام ہے۔