جموں //گورنر کے صلاحکار کے وجے کمار جن کے پاس محکمہ صحت کا قلمدان بھی ہے نے یہاںجموں میں ایک میٹنگ میں ریاست میں قایم کئے جا رہے پانچ نئے میڈیکل کالجوں کی پیش رفت کا جائیزہ لیا ۔ یہ پانچ کالج راجوری ، ڈوڈہ، کٹھوعہ ، اننت ناگ اور بارہمولہ میں قایم کئے جا رہے ہیں ۔ میٹنگ میں محکمہ کے پرنسپل سیکرٹری ، کمشنر سیکرٹری تعمیراتِ عامہ اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی ۔ میٹنگ میں بتایا گیا کہ ان کالجوں پر کام کی پیش رفت کا جائیزہ لینے کیلئے مرکزی وزارت صحت کی ایک ٹیم ریاست کے دورے پر ہے ۔ صلاحکار کو کالج کی عمارتوں ، ہوسٹلوں ، اقامتی کوارٹروں اور دیگر ڈھانچوں پر جاری تعمیراتی کام کے علاوہ ہر ایک کالج میں جاری مختلف کاموں کی پیش رفت اور ان کی تکمیل کی ڈیڈ لائین کو پورا کرنے کے بارے میں جانکاری دی گئی ۔ صلاحکار نے کام کی رفتار میں سرعت لانے اور ضرورت پڑنے پر ڈبل شفٹ میں کام کرنے کی ہدایت دی ۔ انہیں بتایا گیا کہ ان کالجوں کی مرکزی عمارات جون 2020 تک مکمل کی جائیں گی ۔ اگلے سال پہلے بیچ کی شروعات کے حوالے سے تیاریوں کے بارے میں صلاحکار کو جانکاری دی گئی کہ ہر ایک کالج میں اس سلسلے میں ضروری کام عملائے جا رہے ہیں ۔ میٹنگ میں میڈیکل کونسل آف انڈیا کے ضوابط کے تحت ضلع ہسپتالوں کو 300 بستروں والے ہسپتالوں کے طور اپ گریڈ کرنے سے متعلق امور پر بھی تبادلہ خیال ہوا ساتھ ہی متعلقہ پرنسپلوں کو ایسے اداروں میں ضروری ساز و سامان پر مبنی ایک لسٹ تیار کرنے کی ہدایت دی گئی ۔ اس کے علاوہ ڈائریکٹر کوارڈینیشن کو جاری کاموں کی نگرانی کرنے کی بھی ہدایت دی گئی ۔ میٹنگ میں نئے کالجوں کے قیام ، 300 بستروں والے ہسپتالوں کو 500 بستروں والے ہسپتال بنانے سے متعلق منصوبے پر بھی تبادلہ خیال ہوا ۔ میٹنگ میں بتایا گیا کہ راجوری کیلئے ٹینڈر طلب کئے گئے ہیں اور دیگر مقامات کیلئے ٹیکنیکل رپورٹ تیار کی جا رہی ہیں ۔ چیف انجینئر پی ڈبلیو ڈی کو میڈیکل کالجوں کے پرنسپلوں کے ساتھ رابطے میں رہنے کیلئے کہا گیا تا کہ ٹینڈرنگ کے عمل کو جلد سے جلد مکمل کیا جا سکے ۔ میٹنگ میں ان میڈیکل کالجوں تک سڑک رابطوں کی تعمیر اور طبی و نیم طبی عملے کی تعیناتی جیسے امور پر بھی تبادلہ خیال ہوا ۔ محکمہ کے پرنسپل سیکرٹری نے بتایا کہ ان کالجو ں کو اگلے سال قابلِ کار بنانے کیلئے تعیناتی بے حد ضروری ہے ۔ صلاحکار نے یہ معاملہ متعلقہ تعیناتی ایجنسیوں کے ساتھ اٹھانے کی تلقین کی ۔ انہوں نے کاموں کی نگرانی کر نے ، کاموں میں سرعت لانے اور انہیں مقررہ وقت کے اندر ہی مکمل کرنے پر زور دیا تا کہ انہیں جلد سے جلد قابلِ کار بنایا جا سکے۔