مون سون نے جموں کو بھگو دیا، توی اور چناب پانی سے لبالب
کیف حسن زیدی
جموں//جموں شہر اور اس کے گرد و نواح میں ہونے والی مسلسل اور وقفے وقفے سے موسلا دھار بارش نے جہاں شدید گرمی اور حبس سے عوام کو راحت پہنچائی، وہیں دریائے توی،چناب اور دیگر برساتی ندی نالوں میں پانی کی سطح میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ شہر کے مختلف علاقوں میں دن بھر بادل چھائے رہے، ہلکی اور تیز بارش کا سلسلہ جاری رہا، جبکہ پہاڑی علاقوں میں ہونے والی بارش کا اثر دریائے توی کے تیز بہاؤ کی صورت میں واضح طور پر دیکھنے کو ملا۔دریائے توی کا پانی معمول کے مقابلے میں کافی بلند سطح پر بہتا نظر آیا۔ دریا کا پانی مٹی سے بھرپور ہونے کی وجہ سے گدلادکھائی دیا، جو بالائی علاقوں میں شدید بارش کی نشاندہی کرتا ہے۔دریا توی کی رفتار معمول سے کہیں زیادہ رہی، جس کے باعث دریا کے کناروں پر جانے والوں کو خصوصی احتیاط برتنے کی ضرورت ہے۔ادھر اکھنور میں چناب دریا خطرے کا نشان عبور کرچکا تھا۔شہر کے اہم پلوں، جن میں بھگوتی نگر،وکرم چوک، گجرنگر، نگروٹا اور دیگر رابطہ پل شامل ہیں، پر ٹریفک معمول کے مطابق جاری رہی۔ بارش کے باعث سڑکیں گیلی رہیں اور متعدد مقامات پر پانی جمع ہونے سے گاڑیوں کی رفتار سست دیکھی گئی، تاہم ٹریفک پولیس کی نگرانی کے باعث کسی بڑے خلل کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔بارش کے بعد جموں کی فضاء انتہائی خوشگوار ہو گئی۔ بادلوں سے ڈھکے آسمان، ٹھنڈی ہواؤں اور درجہ حرارت میں نمایاں کمی نے شہریوں کو شدید گرمی سے نجات دلائی۔ شام کے وقت لوگ گھروں سے باہر نکل کر خوشگوار موسم سے لطف اندوز ہوتے دکھائی دیے، جبکہ شہر کے اطراف کے پہاڑی مناظر اور دریائے توی کا منظر خاص طور پر دلکش نظر آیا۔دوسری جانب مسلسل بارش کے باعث انتظامیہ نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ غیر ضروری طور پر دریاؤں، ندی نالوں اور نشیبی علاقوں کا رخ نہ کریں،خاص طور پر بچوں کو برساتی نالوں اور دریا کے کناروں پر جانے سے روکیں، کیونکہ پانی کی سطح کسی بھی وقت مزید بڑھ سکتی ہے۔محکمہ موسمیات کے مطابق جموں و کشمیر میں مون سون پوری طرح سرگرم ہے اور آئندہ 24سے 48گھنٹوں کے دوران بھی جموں خطے میں متعدد مقامات پر ہلکی سے درمیانی جبکہ بعض علاقوں میں موسلا دھار بارش، گرج چمک اور تیز ہواؤں کا امکان ہے۔ متعلقہ محکموں کو الرٹ رہنے اور عوام کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔انتظامیہ نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ خراب موسم کے دوران غیر ضروری سفر سے گریز کریں، بجلی کے کھمبوں اور درختوں سے دور رہیں، جبکہ پہاڑی اور حساس علاقوں میں رہنے والے افراد مقامی انتظامیہ کی ہدایات پر عمل کریں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔