توی کنارے واقع ڈوگرہ راجاؤں کی شان، مون سون میں قدرتی نظارے نے سیاحوں کو کیا مسحور
کیف حسن زیدی
جموں//جموں شہر میں منگل کے روز ہونے والی مسلسل اور وقفے وقفے سے بارش نے جہاں شدید گرمی سے عوام کو راحت پہنچائی، وہیں شہر کی تاریخی شناخت مبارک منڈی محل نے بھی ایک منفرد اور دل موہ لینے والاروپ اختیار کر لیا۔ گھنے بادلوں، سرسبز پہاڑیوں اور بارش سے دھلی فضا کے درمیان توی دریا کے کنارے بلند و بالاپہاڑی پر ایستادہ یہ تاریخی محل کسی شاہکار منظر سے کم دکھائی نہیں دے رہا تھا۔صبح سے جاری ہلکی اور تیز بارش کے بعد جب بادل محل کے گرد منڈلانے لگے تو سرخ اینٹوں اور قدیم طرز تعمیر پر مشتمل مبارک منڈی کمپلیکس کا حسن مزید دوبالاہو گیا۔ محل کے اطراف موجود سرسبز درخت، بارش سے نکھری ہوئی پہاڑیاں اور پس منظر میں چھائے سیاہ بادلوں نے ایک ایسا دلکش منظر پیش کیا جس نے ہر دیکھنے والے کو اپنی جانب متوجہ کر لیا۔مقامی شہریوں اور فوٹوگرافی کے شوقین افراد کی بڑی تعداد نے اس خوبصورت منظر کو اپنے کیمروں میں محفوظ کیا۔ کئی نوجوانوں نے بتایا کہ بارش کے موسم میں مبارک منڈی محل کی خوبصورتی کئی گنا بڑھ جاتی ہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے تاریخ اور قدرت ایک ہی تصویر میں سمٹ آئی ہوں۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ مون سون کے موسم میں مبارک منڈی محل کی دلکشی اپنے عروج پر ہوتی ہے۔ بادلوں میں لپٹا ہوا محل، بارش سے دھلی ہوئی دیواریں، اردگرد کی سرسبز و شاداب پہاڑیاں اور نیچے بہتا دریائے توی ایسا منظر پیش کرتے ہیں جو نہ صرف مقامی باشندوں بلکہ بیرونِ ریاست سے آنے والے سیاحوں کے لیے بھی انتہائی پرکشش ثابت ہوتا ہے۔