ایک سال کے زائد عرصہ سے دنیا کورونا کی لپیٹ میں ہے لیکن اب بھی کورونا کی قہر سامانی سے انسانیت کو نجات نہیں ملی ہے۔ گزشتہ چند مہینوں سے لگاتار کورونا کے نئے کیسوں کے بڑھنے سے پھر ایک مرتبہ خوف اور دہشت کے سائے ہر طرف منڈلا رہے ہیں۔ اس ہولناک وباء سے انسان کب چھٹکارا پا سکے گا اب یہ کہنا کسی کے بس میںنہیں رہا۔ ہمارے اپنے ملک میں ہر دن کورونا سے مرنے والوں کی تعداد میں اضا فہ ہوتا جا رہا ہے۔ پھر سے تعلیمی اداروں کو بعد کرنے کی نوبت آ گئی۔ تلنگانہ ریاست میں 24؍مارچ سے تمام تعلیمی اداروں کو بند کرنے کا حکومت نے اعلان کر دیا۔ مہاراشٹرا کے بعض شہروں میں کرفیو نافذ کر دیا گیا۔ آنے والے دنوں میں پورے ملک میں اس بیماری کے پھیلنے کے آثار نمایاں ہو تے جا رہے ہیں۔ اس سے عوام کو جو نا قابل ِ بیان دشواریوں سے گذرنا پڑے گا اسے تصور میں لاتے ہی عوام میں ایک قسم کا نفسیاتی ڈر بڑھتا جا رہا ہے۔ گزشتہ سال ہم نے دیکھا کہ کئی لوگ محض اس بیماری کے ڈر سے موت کی آ غوش میں چلے گئے۔ ٹھیک ایک سال پہلے 25؍ مارچ 2020کو ہندوستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ملک گیر سطح پر لاک ڈاؤن لاگو کر دیا گیا تھا۔ دوماہ کے سخت لاک ڈاؤن کے نتیجہ میں ملک کی غریب عوام دانے دانے کی محتاج ہوگئی۔ لوگ گھروں میں بند ہوگئے۔ روزگار کے سارے ذرائع ٹھپ ہو گئے۔ 25؍ مارچ سے 31؍ مارچ2020کے دور کو اب بھی یاد کیا جائے تو دل و دماغ میں کپکپی پیدا ہوجاتی ہے۔ ایسا روح فرسا دور شاید ہی کسی نے اپنی زندگی میں دیکھا ہو۔ ایک طرف گھروں میں مقید رہنے کی مجبوری اور دوسری طرف کورونا کا نہ تھمنے والا سلسلہ اور تیسری طرف بھوک اور پیاس کی پرواہ نہ کرتے ہوئے مہاجر مزدوروں کا اپنے وطن واپسی کے لئے میلوں پیدل سفر کرنے پر مجبور ہوجانا، یہ وہ دلخراش واقعات ہیں جو کوویڈ۔ ۱۹ کے دوران دیکھنے کو ملے۔ کیا پھر ایک بار ایسی مصیبت سے گزرنا پڑے گا؟ اگر ایسی بھیانک صورت حال پیدا ہو جاتی ہے تو حکو مت کس طرح ملک کی عوام کو اس وائرس سے بچانے میں کا میاب ہو سکے گی۔ حکومتی حلقوں سے دعوے کئے جا رہے ہیں کوویڈ۔۱۹ پر قابو پالیا گیا ہے۔ ویکسین کی ایجاد سے اب یہ خطرہ ٹل گیا ہے۔ ٹیکہ اندازی مہم میں حکومت کی جانب سے شدت پیدا کر دی گئی ہے۔ مرکزی حکومت نے احکام جاری کردئے ہیں کہ یکم؍ اپریل سے ہر وہ شہری کورونا ویکسین لے جس کی عمر 45سال یا اس سے زائد ہو چکی ہے۔سیاستدان ٹیکہ لیتے ہوئے اپنی تصاویر سوشیل میڈ یا پر ڈال رہے ہیں اور عوام کو ترغیب دے رہے ہیں وہ کورنا ویکسین لینے میں کوئی گھبراہٹ محسوس نہ کریں۔ لیکن اسی کے ساتھ یہ اطلاعات بھی آ رہی ہیں کہ ویکسین کے لینے والوں میں بعض دنیا سے بھی رخصت ہو گئے۔ صحت مند افراد بھی ٹیکہ لینے کے بعد اچانک فوت ہو گئے۔ ان اموات کی تردید کر تے ہوئے حکومت کی ایجنسیاں دعویٰ کر رہی ہیں یہ اموات ٹیکہ لینے سے نہیں ہوئی ہیں بلکہ وہ لوگ پہلے سے کسی بیماری کا شکار تھے۔ بحرحال حقیقت جو کچھ بھی ہو لیکن کورونا ویکسین کے بارے میں جو شبہات پائے جارہے ہیں وہ دور نہیں کئے جا سکے۔ کورونا ویکسین اگر اتنا کارآمد ہے تو پھر عوام کو ٹیکہ لینے میں اتنا پس و پیش کیوں ہے؟ اس کی اصل وجہ ہے کہ جب سے کورونا نے اپنا کھیل دکھانا شروع کیا اس پر قابو پانے میں حکومت پہلے دن سے ناکام رہی۔ قارئین کو یاد ہوگا کہ جب ساری دنیا میں کورونا اپنی انتہا پر تھا ایسے وقت ہماری حکومت دعویٰ کر رہی تھی کہ ہندوستان اس سے محفوظ رہے گا۔
ہندوستان میں جب حالات سنگین سے سنگین تر ہوتے چلے گئے تب وزیراعظم نریندرمودی نے 22؍ مارچ2020کو ملک کی عوام سے "جنتا کر فیو"منانے کی اپیل کرتے ہوئے سارے ملک کی عوام کو جو جہاں ہے وہیں پر رُ کنے کے لئے مجبور کر دیا۔ کورونا کو بھگانے کے لئے شنکھ بجائے گئے، گھنٹیاں بجائی گئیں اور تالیاں بھی بجائی گئیں لیکن کورنا کوئی جِن یا بھوت نہیں تھا، جو بھاگ جاتا ، یہ وبائی مرض تھا جو اس قسم کی لایعنی حرکتوں سے اور پھیلتا ہی گیا۔ حکومت کواس بیماری کی ہولناکی کا اندازہ تو ہوگیا لیکن اس پر کیسے قابو پایاجائے یہ سمجھ میں نہیں آیا۔ اسی گو مگو کیفیت میں وزیراعظم نے اچانک 25؍ مارچ 2020کو ملک میں لاک ڈاؤن نافذ کردیا۔ اس سے ملک کی عوام کی جو حالت ہوگئی اس کا تذکرہ سرسری طور پر مضمون کے پہلے حصہ میں آ چکا ہے۔ حکومت کے اس جلد بازی کے فیصلے سے اس وباء کے اثر میں کوئی کمی نہیں آ ئی البتہ ملک کی معیشت بری طرح متاثر ہوگئی۔ لاک ڈاؤن اور اَن لاک جیسی اصطلاحات کا استعمال کرتے ہوئے عوام سے ان کی روزی روٹی چھین لی گئی۔ اب ایک سال بعد بھی حالات قابو میں نہیں آ سکے۔ دن بہ دن نئے کورونا مریضوں کی تعداد میں اضا فہ ہوتا جا رہا ہے۔ متعدد احتیاطی اقدامات کے نفاذ کے باوجود اس وباء کا پھیلانا حکو مت کی کارکردگی کے بارے میں کئی سوالات کھڑے کر دیتا ہے۔ سب سے پہلے تو یہ سوال کیا جاسکتا ہے کہ اس ایک سال کے دوران کتنا میڈیکل انفرا اسٹرکچر تیار کیا گیا جو ان ناگہانی حالات میں عوام کی زندگیوں کو بچا سکے۔ مرض کی اس ہولناکی کے باو جود حکو مت نے طبی شعبہ کو اس انداز میں مضبوط نہیں کیا جو عوام کی ضرورتوں کو پورا کر سکے۔ بااثر اور سرمایہ دار لوگوں کا مسئلہ نہیں ہے۔ ملک کے کارپوریٹ ہاسپٹلس میں ان کا علاج ہوجائے گا۔ ملک کی غریب عوام اگر اس مرض کا شکار ہوجائے تو کیا وہ سرکاری ہاسپٹل سے رجوع ہوکر اپنا علاج کرا سکتی ہے؟ سرکاری دواخانوں کا وہی بدترین حال ہے جوکوویڈ۔ ۱۹ سے پہلے تھا۔
پورے ایک سال سے کورونا کی وباء نے عوام میں بے چینی پیدا کردی ہے۔ ان کی نظریں اس بیماری پر قابو پانے کے لئے یقینی طور پر حکومت کی طرف اٹھتی ہیں ۔ حکومت اس بارے میں ٹھوس اقدامات کرنے کے بجائے محض دعوے کر تی رہے گی تو کورونا کی یہ دوسری لہر، پہلی لہر سے زیادہ جان لیوا ثابت ہوگی۔ انسانی جانوں کے اتلاف سے عوام میں غم اور غصہ بڑھ جا ئے گا۔ ملک کے عوام اس بات کو بھی محسوس کر رہے ہیں ، حکومت کے نزدیک عوام کی زندگی کی قدر و قیمت کم ہوتی جارہی ہے۔ وزیراعظم نریندرمودی اور ان کے کابینی وزراء یکے بعد دیگر الیکشن کی مصروفیات میں لگے ہوئے ہیں۔ مغربی بنگال میں ممتا بنرجی کو شکست دینے ، کیرالا میں حکومت بنانے ، اور آسام میں دوبارہ اقتدار پر قبضہ کرنے کے بارے میں مودی حکومت اپنا پورا زور لگارہی ہے لیکن کورونا پر کیسے کنٹرول کیا جائے اور کیسے اپنے ملک کی عوام کو اس مرض سے بچایا جائے اس پر بہت کم سنجیدگی سے حکومت کے ایوانوں میں غورو خوص کیا جارہا ہے۔ ملک میں کورونا وائرس کا پہلا کیس کیرالا میں گزشتہ سال 30؍ جنوری کو منظر عام پر آیا تھا۔ 10؍ مارچ2020کو کرناٹک میں کورونا سے پہلی موت ہوئی تھی۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ اس ایک سال کے دوران یہ وباء پوری طرح سے ملک سے ختم ہوجاتی۔ اس کے برعکس یہ مرض پھیلتا ہی جارہا ہے۔
ملک پر جب کوئی آسمانی آفت یا زمینی مصیبت آ تی ہے تو حکومت کی ذ مہ داری ہوتی ہے کہ وہ ملک کو اس بحران سے نکالنے میں اپنے سیاسی عزم کا ثبوت دے اور جلد سے جلد عوام کو راحت فراہم کرنے کے اقدامات کرے۔ گزشتہ سال جب اس وباء نے انسانی جانوں کا پیچھا کرنا شروع کردیا اور ایک ایک دن میں کئی کئی اموات ہونے لگیں، اسی وقت حکومت کو حالات کی سنگینی کا پتہ چل جانا تھا اور پوری حکومتی مشنری کو جنگی خطوط پر کام کر تے ہوئے ایک طرف متاثرین کی راحت رسانی کے لئے حکومت کے خزانے کو کھول دینا تھا اور دوسری طرف آئندہ اس بحران سے نمٹنے کے لئے واضح پالیسی مدون کرنا چاہئے تھا۔بدیہی طور ان دونوں محاذوں پر حکومت ناکام ہو گئی۔ کوویڈ۔۱۹ کے دوران رضاکارانہ تنظیموں نے ریلیف کا جو کام کیا اس کا عشر عشیر بھی حکومت نے نہیں کیا۔ ہزاروں محنت کش مزدور فاقہ کشی میں مبتلا ہو گئے۔ بغیر کسی منصوبہ بندی کے لاک ڈاؤن کو لاگو کر دینے سے ملک میں افراتفری کا ماحول پیدا ہو گیا۔ وزیراعظم نے جنتا کر فیو اچانک نافذ کر دیا پھر لاک ڈاؤن کا فیصلہ بھی جلد بازی میں کر دیا گیا۔
اب ایک ایسے وقت جب کہ ساری دنیا کورونا کے قہر سے پناہ مانگ رہی ہے،ہندوستان میں جہاں دن بہ دن کورونا کے کیسوں میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے، ایسے وقت بھی حکومت عوام کی توجہ کو اصل مسائل سے ہٹا کر ایسی فضول باتوں میں الجھا دینا چاہتی ہے جس سے ملک کی عوام کا کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ لیکن عوام کی ذ مہ داری ہے کہ حکومت سے سوال کریں اور پوچھیں کہ اس نے اس انسانی بحران سے ملک کو اور عوام کو بچانے کے لئے کیا کچھ اقدامات کئے ہیں۔جب تک عوام میں یہ ہمت نہیں پیدا ہوگی انسانی جانوں سے کھلواڑ کا یہ سلسلہ رُکنے والا نہیں ہے۔
فون نمبر۔91+9885210770