سرینگر//ریاست اس وقت شدید بحران کی نذر ہوگئی ہے، امن و امان کا فقدان ،لوگ عدم تحفظ کے شکار ہیں، چاروں طرف غیر یقینیت اور بے چینی کی فضا ہے جبکہ دوسری جانب کشمیر کے ازلی دشمنوں نے پی ڈی پی کے بے نقاب ہونے کے بعد کشمیر میں اپنے مزید اعانت کاروں کو کام پر لگا رکھا ہے تاکہ کشمیر دشمن کاموں کیلئے انہیںمستقبل میں استعمال کیا جاسکے۔ ان باتوں کا اظہار نیشنل کانفرنس کے جنرل سکریٹری علی محمد ساگر نے پارٹی ہیڈکوارٹر پر شمالی کشمیر سے آئے ہوئے پارٹی عہدیداروں سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ علی محمد ساگر نے اپنے خطاب میں لوگوں کو ہوشیار کرتے ہوئے کہاکہ وادی میں اس وقت آر ایس ایس کے اعانت کار سرگرم ہیں اور مختلف لبادے اوڑھ کر لوگوں کو گمراہ کرنے کی ناکام کوشش کررہے ہیں۔ ایسے عناصر کو دھول چٹانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل کانفرنس عوامی اشتراک اور لوگوں کے بھر پور تعاون سے اُن تمام عناصر کے مذموم ارادوں کا ناکام بنائے گی جنہوں نے جموں و کشمیر کی سالمیت ، وحدت اور انفرادیت کا سودا کرنے کیلئے اپنے ضمیر کو بھیچ ڈالا ہے۔پی ڈی پی کو ہدف تنقید بناتے ہوئے جنرل سکریٹری نے کہاکہ قلم دوات جماعت والوں نے بے شرمی کی تمام حدیں پار کردی ہیں اور اس جماعت کے خودساختہ لیڈران آج پھر سے بھاجپا کیخلاف بیانات جاری کررہے ہیں اور لوگوں سے بھاجپا کیخلاف حمایت طلب کررہے ہیں۔ ساگر نے کہا کہ پی ڈی پی اور بھاجپا مخلوط اتحاد کا ’ایجنڈا آف الائنس ڈھکوسلہ نکلا اور دنوں جماعتوں کے تمام دعوے اور وعدے جھوٹ اور فریب ثابت ہوئے۔ پی ڈی پی والوں نے بڑے زور شور سے ایجنڈا آف الائنس کے نعرے لگائے لیکن ساڑے تین سال کی حکومت میں ایک بھی اعلان پر عملدرآمد نہیں کیا گیا۔ اُلٹا ان اعلانات اور وعدوں کے خلاف کام کیا گیا۔ قلم دوات جماعت والوںنے الیکشن سے قبل نوجوانوں کو بہت سہانے خواب دکھائے لیکن اقتدار میں آنے کے بعد انہی نوجوانوں کیخلاف جنگ کا اعلان کیا۔