دل سے نکلے گی نہ مرکر بھی وطن کی الفت
میری مٹی سے بھی خوشبوئے وفا آئے گی
میں اٹھا لوں گا بڑے شوق سے اس کو سر پر
خدمت قوم و وطن میں جو بلا آئے گی
(لال چند فلک)
حب الوطنی کے معنی ہیں،وطن پرستی،اپنے ملک سے محبت کرنایا اپنے آپ کو وطن کی فلاح و بہبودی کے لیے وقف کردینا ہے۔ در حدیث دیگراں یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ ایسے تمام پہلوئوں کے خلاف صدائے احتجاج بلندکرناجو ملک و عوام کی سالمیّت اور استحکام کے لیے تباہی کا باعث بنیں۔یہ ایک فطری جذبہ ہے جو سن شعورسے لے کر زندگی کی آخری سانس تک ہر زی حس انسان کے اندر کم و پیش پائی جاتی ہے۔حب الوطنی کی عقلی توجیہ آج سے تقریباََ ڈھائی ہزار سال قبل یونان کے عظیم فلسفی اورعلم و منطق کے داعی افلاطون نے اپنی کتاب ’ریاست‘، ''The Republic'' میںصاف لفظوں میں بیان کی ہے جس میں اس نے وطن کی تعمیر و ترقی کے لیے عدل و انصاف،امن و امان اور سماجی ترقی جیسی بنیادی چیزوں کو خاص اہمیت دی ہیں۔ چونکہ اس کے پیش نظر سماجی مساوات اور اصلاحی مقاصد تھے لہٰذا وہ چاہتے ہیں کہ ملک کی باگ ڈورسماج کے زی شعور اشرافیہ کے ہاتھوں میں ہونی چاہیں۔ علاوہ ازیں مذکورہ کتاب میںمصنف نے بالواسطہ طور پر ریاستی دشمن عناصر پر ضرب لگانے کے ساتھ ساتھ بڑی دانش مندی سے مثالی ریاست کوقائم کرنے کا نظریہ بھی پیش کیاہے۔اس کے ریاستی افکار و تصورات پر یاسر جواد اس طرح خامہ فرسائی کرتے ہیں:
’’افلاطون نے روایتی یونانی فضائل اخلاق(virtus)کو مثالی ریاست کے طبقاتی ڈھانچے سے منسلک کردیا۔صبر و استقامت دستکارطبقے کی منفرد خوبی ہے اور دانائی حکمرانوں کا امتیازی نشان ہے ۔ چوتھی خوبی انصاف بحیثیت عمومی معاشرے کی کردار سازی کرتی ہے۔ عادل ریاست وہ ہے جس میں ہر طبقہ دیگر طبقاتی سرگرمیوں میں مداخلت کیے بغیر اپنا اپنا کام کرئے۔‘‘
(یاسر جواد :فلسفیوں کا انسائیکلوپیڈیا،فلسفے کی اڑھائی ہزار سالہ تاریخ،۲۰۰۵ء،بک ہوم لاہور،ص:۸۳)
اس کے بعد متواترماہرین سیاست اوروطن پرستوں،جن میں ارسطو(Politics)، ابو نصر فارابی(المدینتہ الفاضلہ)،آدم سمتھ (The Wealth of Nation) مارکس (سرمایہ) وغیرہ نے بھی ایک خوش حال اور تابناک ریاست کو وجود میں لانے کے لیے باضابطہ اصول ترتیب دیے۔مثلاََ جہاںارسطو کا ایقان ہے کہ ریاست بہترین زندگی کی خاطر اپنے وجود کو قائم رکھتی ہے وہیںفارابی کی نظر میں قوم کا سردار وہی ہوسکتا ہے جو گہرے تفکر اور باطنی مشاہدے کے علاوہ صداقت،عدالت اور شجاعت کا پرستار بھی ہو۔ٹھیک اسی طرح مارکس نے بھی ملکی ترقی کے لیے عدم مساوات معاشرے کو ہدف تنقید کا نشان بنا کر برابری کے نظام کو فروغ دینے کی بات کی۔
تاریخ گواہ ہے کہ برصغیر میں دیش بھکتی کا عملی ثبوت شیر میسور ٹیپو سلطان نے سرنگا پٹم میں پیش کیا جو وطن عزیز کی حفاطت کی خاطر چٹان بن کر شیر کی طرح لڑ رہے تھے۔گاندھی جی کی دیش بھکتی سے کون واقف نہیں جنہوں نے ۴۰۰ کلو میٹر مسافت پیدل طے کرکے نمک ستیہ گری(Salt satyagrah) کی تحریک چلا کر نمک ٹیکس ختم کرکے انگریزسامراج کو لوہے کے چنے چبانے پر مجبور کیا۔بیرسٹر ہوکر جنہوں نے لنگوٹی پر قناعت کی ۔جن کے نظریات نے دنیا کو ترقی اور امن و آشتی کی راہ دکھائی اور ثابت کردیا کہ ستیہ اور اہنسا سے ہر مشکل کا تدارک ہوسکتا ہے ۔ان کی ذہنی استعداد اور سیاسی حکمت عملی عصر نو میں بھی نوع انسان کے لیے مشعل راہ ہے۔ان کی نظر میں ایک بھگت کوجن اوصاف حمیدہ کا حامل ہونا چاہیے وہ اس طرح ہیں:
’’ بھگت کسے کہا جائے۔یہ بھی میں تجھے بتائے دیتا ہوں بھگت کسی سے نفرت نہ کرے،کسی کے ساتھ دشمنی کا خیال نہ رکھے،سب جانداروں کے ساتھ دوستی قائم کرئے۔ سب جانوروں سے رحم کرنے کی کوشش کرے۔اس کے لیے خودی کو چھوڑ دے۔آپ فنا ہوکر ناچیز بن جائے۔ دکھ سکھ ایک سا سمجھے۔کوئی قصور کرئے تو معاف کردے۔یہ سوچ کہ خود بھی اپنے قصوروں کے لیے دنیا کے آگے ہاتھ پسارتا ہے۔قانع رہے۔اپنے نیک خیالات سے کبھی نہ گرے۔من اور بدھی کے ساتھ اپنا سب کچھ میری نظر کردے۔اس سے لوگوں کو کسی طرح کی گھبراہٹ نہ ہو۔اس سے وہ ڈریں نہیں۔وہ خود بھی لوگوں سے نہ گھبرائے اور نہ ڈرے۔‘‘
(مہاتما گاندھی،شریمد بھگوت گیتا مع گیتا بودھ، خدا بخش اورینٹل پبلک لائبریری پٹنی،۱۹۹۱ء،۱۲۱)
اس کے علاوہ انہوں نے وطن دوستوں کو فرقہ وارانہ فسادات سے دور رہنے اور سادہ زندگی بسر کرنے کا بھی حکم دیا ہے۔یہ تھی گاندجی کی وطن دوستی جس پر انہوں نے خود بھی عمل کیا اور دوسروں کو بھی اس پر عمل پیرا ہونے کی تلقین کی اوریہیں وہ ترکش تھا جو انہوں نے انگریز اوروطن دشمن غداروں کے سینے میں بھونک دیا۔ اسی طرح آگے چل کر اسی جذبے سے شرشارہوکرسر سید، سبھاش چندر بوس، ٹیگور،اقبال،پنڈت نہرو،سروجنی نائڈو، امبیڈکر اور ابو الکلام وغیرہ جیسے سالاروں نے قائدانہ کردار ادا کرکے ملکی استحکام کے لیے نسل نو میں قیادت کی صلاحیتیں پیدا کرنے کی کوششیںکیں۔
رواں صدی میںیہ لفظ دو دھاری تلوار کی مانند بن چکا ہے۔ نام نہاد اورچاپلوس کارکن اس لفظ کو ہوس ِاقتدار کی خاطر جس پیرائے میں پیش کرتے ہیں وہ انتہائی افسوس ناک اور قابل تردید ہے۔اس لفظ کے پس پردہ بیشتر نا اہل اور بداطوار سیاسی و سماجی فرمانروا طوائف کی طرح اپنے عیبوں اور کمزوریوں پر پردہ ڈالنے کے لیے قوم میںفساد پیداکرکے منافرت اوردہشت کا ماحول پیدا کرتے ہیں۔ہر موقع پر لوگوں کے بنیادی مسائل و معاملات کو حل کرنے کے بجائے متنازع بیانات اوراوٹ پٹانگ فیصلوںسے انتشار و اختلاف کو جنم دیتے ہیں۔آئے روز جلسوں میںایک دوسرے کی کھوپڑیوں پر اپنے محل بنانے کی دھن میںسماج کی بنیادی اکائی کو توڑنے کی بات کرتے ہیں۔ اپنی انا اور ذاتی پسند و ناپسندکے بل پر فیصلے صادر کرنے میں ہی قوم کی عافیت سمجھتے ہیں اور گرگٹ کی طرح رنگ بدل کر دیش کی گنگاجمنی تہذیب تہذیب کی مٹی پلید کرنے میںکوئی کسر باقی نہیں چھوڑتے۔
دوسری طرف زر خرید میڈیا دھیان بڑکائو مدعوں پر بحث کرکے جلتی پر تیل چھڑکنے کا کام کررہاہے ۔ لوگوں کے مسائل کو حل کرانے کے بجائے مزید مسائل کو جنم دے کرپوری قوم کو جہنم کی آگ میں دھکیلنا چاہتے ہیں۔بعض نامہ نگارمنافع خواری کی لالچ میں کسی بھی حادثے یا واقعے کی تحقیق کیے بغیر پیش کرکے سماج میں ارتعاش پیدا کرتے ہیں۔ان کی غلط بیانی اورپروپا گنڈے سے گزشتہ پچاس سالوں میں جس طرح کے فسادات رونما ہوئے اس نے سب کو ورطہ ہلاکت میں ڈال دیا ہے اوراب رفتہ رفتہ اس کے شعلوںنے کالجوں اور یونی ورسٹیوں کے نظام کو بھی تہہ و بالا کردیا۔جن دانش گاہوں نے ملک کو رہبر،وکیل،ڈاکڑ،ادیب ،مذہبی پیشوا،سیاست دان اور فلاسفر مہیا کیے وہاں اب باہمی اختلاف اور افراتفری کے ماحول نے نئی نسل کے سینوںمیں نفرت کا زہر بھر دیا ہے۔لہٰذاضرورت اس امر کی ہے کہ ان تمام عوامل کا فی الفور تدارک کیا جائے جو ملک و قوم کی ترقی کی میں رخنہ اندازی کا موجب بنتے ہیں۔اسی طرح ان تمام جماعتوں کی منفقانہ روشوں کو بھی کالعدم کیا جائے جو اس لفظ کی غلط تشریحات کرتے ہیں۔
بہرحال ! جملہ سیاسی و مذہبی قائدئین اورذرائع ابلاغ کو چاہئے کہ وہ ملک کو اس تباہی کے دلدل سے نکال کر شفافیت کا ماحول پیدا کرنے کی کوشش کریں۔کھوکھلے نعروں،غلط بیانی اور مذہبی بلیک میل کو یک طرفہ چھوڑ کر حقیقی وطنیت کو فروغ دینے کی کوشش کریں۔ ملکی ترقی کے لیے نئی پیڑی کی جسمانی،ذہنی،علمی و فکری نشونما کی طرف توجہ دیں۔شتر مرغ کی طرح خطرے کے وقت آنکھیں بندکرنے کے بجائے لوگوں کے کندھے سے کندھا ملا کر نجات کا راستہ ڈھونڈ نکالنے کی سعی کریں۔ملک کا خزانہ فضولیات پر خرچ کرنے کے بجائے غریبی،ناخواندگی،دہشت گردی،انتہا پسندی،کرپشن،کرونا ، آلودگی ،جرائم ،وغیرہ جیسے پیچیدہ مسائل کو جڑ سے اکھاڑنے پر صرف کریں۔ ذاتی مفاد سے بالاتر ہوکرایک ایسامعاشرہ تشکیل کرنے کی جدوجہدکریں جو امن،اخوت،ترقی اور عدل و انصاف پر مبنی ہو ۔جہاںبلا تفریق و نسل ہر طبقے کے لوگوں کو بنیادی حقوق حاصل ہوں۔ تاکہ ملک میں جمہوریت و انسانیت کو فروغ ملے۔چہ جائیکہ مذہبی رہنما بھی مذہبی منافرت ،نسلی تعصب اور جسمانی رنگت پر لوگوں کو زدکوب کرنا بند کریں۔اشتعال انگیز بیان اور ایک دوسرے کی پگڑی اچھالنے کے بجائے لوگوں کو مذہب کے حقیقی روح سے شناسا کرنے کے علاوہ ان کے اندر خود اعتمادی اور قوت برداشت کا مادہ پیدا کریں تاکہ یہ دھرتی امن کو گہوارہ بن جائے اور یہیں حقیقی وطن پرستوں کی پہچان بھی ہیں۔
رابطہ :ریسرچ اسکالر سینٹرل یونی ورسٹی آف کشمیر
موبائل نمبر:7780936355