مختار علی، چرار شریف
اللہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات کا مقام عطا فرمایا اور اسے زمین پر اپنا نائب بنا کر بھیجا۔ انسان کی زندگی کا مقصد صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت ہی نہیں بلکہ اس کی مخلوق کے حقوق کی ادائیگی بھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام نے جہاں حقوق اللہ کی تعلیم دی ہے، وہیں حقوق العباد کو بھی غیر معمولی اہمیت عطا کی ہے۔ درحقیقت ایک صالح معاشرہ اسی وقت وجود میں آتا ہے جب انسان اپنے فرائض کے ساتھ دوسروں کے حقوق کا بھی خیال رکھے۔قرآنِ کریم اور احادیثِ نبویہ ؐ کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ حقوق العباد اسلام کی بنیادی تعلیمات میں شامل ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی عبادت کے حکم کے فوراً بعد والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کا ذکر فرمایا، جس سے ان حقوق کی عظمت واضح ہوتی ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:’’اور اپنے والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔‘‘یہ ایک مختصر حکم ہے مگر اس میں محبت، خدمت، احترام اور وفاداری کا پورا فلسفہ پوشیدہ ہے۔
حقوق العباد کا دائرہ نہایت وسیع ہے۔ اس میں والدین، اولاد، رشتہ دار، پڑوسی، اساتذہ، دوست، یتیم، مسکین، مزدور، ملازم بلکہ ہر انسان کے حقوق شامل ہیں۔ اسلام یہ تعلیم دیتا ہے کہ کسی کا مال ناحق نہ کھایا جائے، کسی کی عزت پر حملہ نہ کیا جائے، کسی کے جذبات کو مجروح نہ کیا جائے اور کسی کے ساتھ ظلم و زیادتی نہ کی جائے۔ ایک مسلمان کی پہچان ہی یہ ہے کہ اس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے لوگ محفوظ رہیں۔
رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حقوق العباد کی اہمیت کو نہایت مؤثر انداز میں بیان فرمایا۔ آپؐ نے صحابۂ کرامؓ سے دریافت فرمایا: ’’جانتے ہو مفلس کون ہے؟‘‘صحابہؓ نے عرض کیا: ’’جس کے پاس مال و دولت نہ ہو۔‘‘ آپؐ نے فرمایا کہ میری امت کا مفلس وہ شخص ہے جو قیامت کے دن نماز، روزہ اور زکوٰۃ لے کر آئے گا، لیکن اس نے دنیا میں لوگوں پر ظلم کیا ہوگا، کسی کی غیبت کی ہوگی، کسی کا مال ہڑپ کیا ہوگا یا کسی کو تکلیف پہنچائی ہوگی۔ پھر اس کی نیکیاں مظلوموں میں تقسیم کر دی جائیں گی اور اگر نیکیاں ختم ہو جائیں گی تو ان کے گناہ اس پر ڈال دیے جائیں گے۔یہ حدیث ہمیں جھنجھوڑ کر رکھ دیتی ہے۔ آج ہم عبادات کے اہتمام کو کافی سمجھتے ہیں، لیکن یہ بھول جاتے ہیں کہ قیامت کے دن بندوں کے حقوق کا حساب بھی دینا ہوگا۔ بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں حقوق العباد کی پامالی ایک عام رویہ بنتی جا رہی ہے۔ جھوٹ، دھوکہ دہی، غیبت، بہتان، رشوت، وعدہ خلافی اور وراثت میں ناانصافی جیسے گناہ معاشرتی زندگی کو کھوکھلا کر رہے ہیں۔ خصوصاً بہنوں کو وراثت سے محروم کرنا اور کمزور طبقات کے حقوق سلب کرنا ایسی سنگین زیادتیاں ہیں جن پر اللہ تعالیٰ کی سخت پکڑ کا اندیشہ ہے۔حقوق العباد کی ادائیگی کا تقاضا صرف یہ نہیں کہ ہم کسی کو نقصان نہ پہنچائیں، بلکہ یہ بھی ہے کہ جہاں ممکن ہو دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کریں۔ ایک مسکراہٹ، ایک ہمدردانہ جملہ، ایک ضرورت مند کی مدد، ایک یتیم کی دلجوئی اور ایک پڑوسی کا خیال رکھنا بھی حقوق العباد کی ادائیگی میں شامل ہے۔ یہی وہ اوصاف ہیں جو معاشرے میں محبت، بھائی چارے اور امن کو فروغ دیتے ہیں۔
اگر کسی سے کسی کا حق ضائع ہو گیا ہو تو اسے چاہیے کہ فوراً توبہ کرے، حق دار سے معافی مانگے اور اس کا حق واپس کرے۔ سچی توبہ صرف زبان سے معافی مانگنے کا نام نہیں بلکہ ظلم کی تلافی اور اصلاحِ احوال کا نام ہے۔ اسلام ناامیدی کا درس نہیں دیتا بلکہ رجوع الی اللہ اور اصلاحِ نفس کی دعوت دیتا ہے۔آج امتِ مسلمہ کو جن اخلاقی اور معاشرتی بحرانوں کا سامنا ہے، ان کا ایک بڑا سبب حقوق العباد سے غفلت ہے۔ اگر ہم اپنے گھروں، تعلیمی اداروں، کاروبار اور معاشرتی زندگی میں دوسروں کے حقوق کا احترام شروع کر دیں تو بے شمار مسائل خود بخود ختم ہو جائیں۔ ایک مثالی اسلامی معاشرہ اسی وقت وجود میں آسکتا ہے جب ہر فرد اپنے حقوق کے ساتھ اپنی ذمہ داریوں کو بھی سمجھے۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ حقوق العباد محض ایک اخلاقی تعلیم نہیں بلکہ اسلامی زندگی کی روح ہیں۔ جو شخص اللہ کی رضا چاہتا ہے، اسے اللہ کے بندوں کے حقوق ادا کرنے ہوں گے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی زندگیوں کا محاسبہ کریں، کوتاہیوں کی اصلاح کریں اور ایک ایسے معاشرے کے قیام میں اپنا کردار ادا کریں جہاں انصاف، محبت، ہمدردی اور احترامِ انسانیت کو فروغ حاصل ہو۔اللہ تعالیٰ ہمیں حقوق اللہ کے ساتھ حقوق العباد ادا کرنے کی بھی توفیق عطا فرمائے، تاکہ ہم دنیا میں ایک بہترین انسان اور آخرت میں کامیاب مسلمان بن سکیں۔ آمین
�������������������